واشنگٹن: ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران نیٹو (NATO) اتحادیوں کے کردار پر امریکا کی شدید ناراضی سامنے آئی ہے، جس نے مغربی دفاعی اتحاد کو ایک نئے اور سنگین بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی جانب سے پینٹاگون کی ایک اندرونی ای میل سامنے لائی گئی ہے جس نے سفارتی سطح پر کھلبلی مچا دی ہے۔
پینٹاگون کی ای میل کے تہلکہ خیز انکشافات
لیک ہونے والی اس ای میل کے مطابق، پینٹاگون کے اعلیٰ سطحی حلقوں میں ان نیٹو اتحادیوں کو باقاعدہ "سزا” دینے کے مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے جنہوں نے مشکل وقت میں امریکا کا ساتھ نہیں دیا۔ تجویز کردہ سزاؤں میں درج ذیل اہم اقدامات شامل ہیں:
- اسپین کی معطلی: اسپین کو نیٹو اتحاد سے معطل کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے، جس کا عملی اثر چاہے محدود ہو، مگر اس کا علامتی اور سفارتی اثر بہت بڑا ہوگا۔
- برطانیہ پر دباؤ: برطانیہ کے زیرِ کنٹرول ‘جزائر فاک لینڈ’ (Falkland Islands) کے دعوے پر امریکی مؤقف کا ازسرِ نو جائزہ لینا اور ممکنہ طور پر برطانوی مؤقف کی حمایت ترک کرنا۔
امریکی ناراضی کی وجوہات کیا ہیں؟
ای میل میں یورپی ممالک کے "استحقاق کے احساس” (Sense of Entitlement) کو کم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ امریکا کو اپنے اتحادیوں سے درج ذیل شکایات ہیں، جنہیں وہ نیٹو کے لیے بنیادی معیار سمجھتا ہے:
- فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت نہ دینا۔
- امریکی فضائیہ کو اپنی فضائی گزرگاہوں (Airspace) سے روکے رکھنا۔
- ایران جنگ کے دوران عسکری رسائی اور درکار تعاون فراہم کرنے سے گریز یا صریح انکار۔
امریکی، ہسپانوی اور نیٹو حکام کا ردعمل
1. پینٹاگون کا مؤقف
پینٹاگون کے ترجمان کنگزلی ولسن نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے مؤقف کی تائید کی:
"جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا، امریکا نے اپنے نیٹو اتحادیوں کے لیے بہت کچھ کیا، لیکن وہ ہمارے ساتھ نہیں کھڑے ہوئے۔ محکمہ دفاع اس بات کو یقینی بنائے گا کہ صدر کے پاس ایسے قابلِ عمل آپشنز موجود ہوں جن کے ذریعے اتحادیوں کو ان کی ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔”
2. نیٹو کا تکنیکی جواب
اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک نیٹو عہدیدار نے ‘رائٹرز’ کو واضح کیا کہ نیٹو کے بانی معاہدے (North Atlantic Treaty) میں کسی بھی رکن ملک کو معطل کرنے یا نکالنے کی سرے سے کوئی قانونی شق ہی موجود نہیں ہے۔
3. اسپین کے وزیرِ اعظم کا جواب
اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اس رپورٹ پر محتاط مگر دو ٹوک ردعمل دیتے ہوئے کہا:
"ہم ای میلز پر نہیں بلکہ سرکاری دستاویزات اور حکومتی مؤقف کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔” انہوں نے اسپین کو نیٹو کا ایک "وفادار شراکت دار” قرار دے کر امریکی تحفظات کو رد کرنے کی کوشش کی۔
مستقبل کا منظرنامہ: عالمی توازن خطرے میں
ایران جنگ کے بعد نیٹو اتحاد کے اندر موجود یہ گہرے اختلافات اب پوری طرح کھل کر دنیا کے سامنے آ چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اگر امریکا اور یورپی ممالک
کے درمیان یہ سنگین کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا، بلکہ پوری دنیا کی طاقتوں کا توازن بھی بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔picture credit; fox business
