سعودی عرب نے امریکہ اور یورپ کی تمام بڑی کمپنیوں کو دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے اپنے ریجنل دفاتر ریاض میں قائم نہیں کئے تو حکومت ان کے ساتھ مستقبل میں کوئی کاروبار نہیں کرے گی۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ویژن 2030 کے تحت اعلان کیا تھا کہ جو کمپنی سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں نئے قائم کئے گئے "کنگ عبداللہ مالیاتی مرکز” میں ریجنل دفتر نہیں کھولے گی سعودی حکومت مستقبل میں اس کے ساتھ کوئی کاروباری معاہدہ نہیں کرے گی۔
اس دھمکی کے بعد اب تک 24 بڑی کثیرالقومی امریکی اور یورپی کمپنیوں نے اپنے ریجنل دفاتر ریاض کے کنگ عبداللہ فنانشل حب میں کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔
دنیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی امریکی کمپنی گوگل نے اپنا کلاؤڈ کمپوٹنگ یونٹ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے جو سعودی عرب میں خطے کے گوگل کلاؤڈ آفس کے طور پر کام کرے گا۔ گوگل سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل کمپنی آرامکو کے ساتھ مل کر ایک ری سیلر سروسز شروع کرے گی جس کا مقصد سعودی عرب میں کاروبار کو فروغ دینا ہے۔
برطانیہ کے سب سے بڑے بینک اسٹینڈرڈ چارٹرڈ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے لئے اس کے چیف ایگزیکٹو کا دفتر ریاض میں کھولا جا رہا ہے۔ بینک نے اپنے اعلامیئے میں کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کی کیپٹل مارکیٹ کے ذریعے 2010 سے کام کر رہا ہے اور 2019 میں بینک کو سعودی عرب میں کام کرنے کا لائسنس دیا گیا تھا۔ اب بینک سعودی عرب میں کاروبار کو وسعت دیتے ہوئے اپنا ریجنل آفس ریاض کے مالیاتی مرکز میں قائم کر رہا ہے۔
دنیا میں گاڑیاں تیار کرنے والی امریکہ کی سب سے بڑی کمپنی فورڈ نے بھی سعودی عرب میں کاروبار کو وسعت دینے کے لئے اپنا ایک الگ آفس ریاض منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکہ کی ریل کمپنی گرین بریئر نے بھی سعودی مارکیٹ میں کاروبار بڑھانے کے لئے ایک خصوصی آفس ریاض میں کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکہ کی توانائی کی بڑی کمپنی شیورون نے سعودی عرب کے مشرقی شہر خافجی میں نیا ہیڈکوارٹر کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ تجارت میں فائدہ ہو گا کیونکہ خطے میں سعودی عرب اب ایک بڑا کاروباری مرکز بنتا جا رہا ہے۔
امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ نے سعودی عرب کے ویژن 2030 کے تحت اپنا ایک علیحدہ آفس ریاض منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس وقت بوئنگ کے مختلف ڈپارٹمنٹس اور مشترکہ کاروباری اداروں میں 2200 ملازم صرف سعودی عرب میں کام کر رہے ہیں۔ خطے میں اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لئے کمپنی ایک خصوصی آفس ریاض میں کھول رہی ہے۔
امریکی کمپنی ڈیلائٹ کی ترجمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں کمپنی 1950 سے کام کر رہی ہے تاہم ویژن 2030 کے تحت کمپنی سعودی عرب میں اپنا ریجنل آفس کھول رہی ہے۔
دنیا کی بڑی انویسٹمنٹ کمپنی فرینکلن ٹیمپلٹن نے کہا ہے کہ گو کہ متحدہ عرب امارات اور ترکی میں دفاتر کام کر رہے ہیں تاہم خطے میں نئے کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے کمپنی ریاض کے کنگ عبداللہ مالیاتی مرکز میں اپنا دفتر جلد ہی قائم کرے گی۔
جرمن کاریں تیار کرنے والی کمپنی روبرٹ بوش نے دبئی سے اپنا دفتر ریاض منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
انڈین ہوٹل اسٹارٹ اپ کمپنی اویو نے اپنا ریجنل آفس ریاض کے اسپیشل اکنامک زون میں کھولنے کا اعلان کیا ہے جہاں کمپنی کے سینئر ایگزیکٹوز کام کریں گے۔
