fbpx

دبئی پولیس نے یوکرین کی 11 خواتین کو بالکونیز میں برہنہ تصاویر اتارنے پر گرفتار کر لیا

متحدہ عرب امارات کی دبئی پولیس نے بلند و بالا عمارتوں کی بالکونیز میں برہنہ ہو کر فوٹو شوٹ کروانے پر یوکرین کی 11 خواتین اور ایک روسی فوٹوگرافر کو گرفتار کر لیا۔

دبئی پولیس کے مطابق ان خواتین کی برہنہ ہو کر تصاویر بنوانے کی ویڈیو وائرل ہو گئی تھی جس پر متحدہ عرب امارات کے عوام میں سخت غم و غصہ پایا گیا جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 11 خواتین اور ایک فوٹوگرافر کو گرفتار کر لیا۔

دبئی دنیا بھر میں انسٹاگرام اور سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمز کے لئے ویڈیو بنوانے میں ایک مشہور سیاحتی مقام ہے جہاں مختلف ممالک کی کئی ماڈلز یہاں آتی ہیں۔ دبئی کے کئی مصنوعی جزیرے اور لکژری ہوٹلز سمیت ساحل سمندر پر ماڈلز بکنی پہن کر فوٹو شوٹ کرواتی ہیں۔

تاہم اب دبئی کی حکومت نے اس طرح کی سرگرمیوں پر سخت پابندی عائد کر دی ہے کیونکہ عوام کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آ رہا تھا۔

یوکرین کی 11 خواتین کی گرفتاری دبئی میں رمضان المبارک کا مقدس مہینہ شروع ہونے سے چند دن پہلے عمل میں آئی ہے۔ واضح رہے کہ یوکرین کے صدر وولودمیر زلنسکی ایک دو روز میں متحدہ عرب امارات کے ہمسایہ ملک قطر کا دورہ شروع کرنے والے ہیں۔

حالیہ کچھ برسوں میں دبئی روسی سیاحوں کے لئے ایک پُرکشش سیاحتی مرکز بن گیا ہے۔ دبئی پولیس نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کی خواتین کا برہنہ ہو کر فوٹو شوٹ کرنے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اس طرح کی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے مزید سختی کر دی گئی ہے۔

یوکرین کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ دبئی پولیس نے جن خواتین کو گرفتار کیا ہے وہ یوکرین کی شہری ہیں۔ دوسری طرف روس نے بھی اپنے فوٹوگرافر شہری کے گرفتار ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

دبئی پولیس نے فی الحال گرفتار افراد سے متعلق معلومات دینے سے انکار کر دیا ہے۔ دبئی پولیس کے مطابق کئی دیگر افراد بھی اس الزام میں گرفتار کئے گئے ہیں۔

ادھر روسی حکومت کے حمایت یافتہ ایک ہفت روزہ "لائف” نے کہا ہے کہ گرفتار روسی شہری روس کے ایوانووو ریجن کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اہم عہدیدار ہے۔ تاہم میگزین کا کہنا ہے کہ اس کا اس فوٹو شوٹ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

روس کے ایوانووو ریجن کے گورنر ستینسلوف ووسکرسنکی نے روسی وزارت خارجہ اور متحدہ عرب امارات میں روس کے سفارتخانے سے کہا ہے کہ وہ روسی فوٹو گرافر کی رہائی کے لئے مدد فراہم کریں۔ گورنر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ وہ روسی شہری کی رہائی کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔

دبئی میں اس طرح کی سرگرمیوں پر نہ صرف جیل کی سزا بلکہ بھاری جرمانے بھی عائد کئے جاتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی ٹیلی کوم اتھارٹی نے پورنوگرافک ویب سائٹ کی رسائی تک پابندی عائد کی ہوئی ہے۔

ozIstanbul

پچھلا پڑھیں

ترکی نے فیس بک انتظامیہ سے صارفین کے ڈیٹا چوری کی وضاحت طلب کر لی

اگلا پڑھیں

فٹ بال کی عالمی تنظیم نے ایک بار پھر پاکستان کی رکنیت معطل کر دی

One Comment

  • میں ذاتی طور پر ٢٠٠٨ سے ٢٠١٠ تک دبئی میں رہا ہوں اور پورے عرب امارات میں تمام قوانین کی پاسداری دیکھی ہے۔ لہذا ان۔سب۔کے ساتھ قانون کے عین۔مطابق سلوک کیا۔جائے گا۔ میری خواہش ہے کہ بحثیت پاکستانی ایسا ہی قانون پاکستان میں بھی لاگو کیا۔جائے تاکہ میرا جسم میری مرضی والیوں کو لگام ڈالی جاسکے۔

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے