ترکیہ نے بدھ کے روز یورپی فٹ بال کی گورننگ باڈی یو ای ایف اے کی جانب سے ترک فٹبالر میریح دیمیرل کے گول کا جشن منانے پر قانونی کاروائی کرنے کی مذمت کی ہے۔
ترک وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ہم ایک تاریخی اور ثقافتی علامت کے استعمال کو سیاسی نظریہ دینے کی مذمت کرتے ہیں، جو کسی کو بھی نشانہ نہیں بناتا۔ انہوں نے اس علامت کا حوالہ دیا جو ترکیہ میں گرے وولوز کے نشان کے طور پر جانا جاتا ہے۔
وزارت خارجہ نے جرمنی کے وفاقی دفتر برائے تحفظ آئین کی رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ہر وہ شخص جو گرے وولوز کا نشان بناتا ہے، اسے دائیں بازو کا انتہا پسند نہیں کہا جا سکتا۔
وزارت خارجہ نے جرمنی کے ردعمل کو "زینوفوبیا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ جرمنی میں یہ نشان غیر قانونی نہیں ہے۔
واضح رہے کہ جرمنی کے وزیر داخلہ نینسی فیسر نے یو ای ایف اے سے ترک فٹبالر پر پابندیاں لگانے کی درخواست کی تھی۔ یو ای ایف اے نے کہا کہ اس نے آسٹریا اور ترکیہ کے درمیان یورو 2024 کے میچ کے دوران دیمیرل کے گرے وولوز کے نشان کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔
ترک فٹ بالر دیمیرل نے آسٹریا کے خلاف میچ میں دوسرا گول کرنے کے بعد شائقین کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں سے گرے وولوز کا نشان بنایا تھا جس پر جرمنی میں تنقید کی گئی۔
جرمن حکام نے اس علامت کو شدت پسند تنظیم کی علامت قرار دیا جبکہ ترک وزارت خارجہ نے اسے تاریخی اور ثقافتی علامت قرار دیتے ہوئے اس پر ہونے والے ردعمل کی مذمت کی۔
ترک فٹ بالر د یمیرل نے کہا کہ ان کے جشن منانے کے انداز میں کوئی پوشیدہ پیغام نہیں تھا اور یہ کہ وہ اپنے ترک ہونے پر فخر کرتے ہیں۔
