Turkiya-Logo-top

ترکیہ نے شام کے ساتھ اپنے اعلیٰ تعلیم کا تجربہ شیئر کرنے کی پیشکش کر دی

کونسل برائے اعلی تعلیم  (یوک) کے صدر ایرول اوزوار نے کہا  ہے کہ، ترکیہ شام کے ساتھ اپنی اعلیٰ تعلیم کے تجربے کو شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔

اوزوار نے ازمیر کی کتِپ چلبی یونیورسٹی (İKÇÜ) کا دورہ کیا اور ریکٹر پروفیسر صفت کوسے سے ملاقات کی۔

یونیورسٹی کے سینیٹ اجلاس میں شرکت کے دوران اوزوار نے کہا کہ، کونسل کا بنیادی مقصد ترکیہ کی اقتصادی ترقی کے لیے اہل ورک فورس کی تربیت ہے۔ انہوں نے مزید  کہا کہ ،ترکیہ کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اوزوار نے یہ بھی ذکر کیا کہ، جسمانی محنت کے علاوہ، نوجوان افراد ذہنی طاقت کے ذریعے معیشت کی مدد کرتے ہیں۔ ہماری یونیورسٹیاں نہ صرف وہ انسانی طاقت پیدا کرتی ہیں جو ہماری اقتصادی ترقی میں حصہ ڈالتی ہیں بلکہ وہ سائنسی اور تکنیکی شعبوں میں ترقی کے لیے ضروری تعلیمی عملہ اور سائنسدان بھی پیداکرتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ، ترکیہ کی یونیورسٹیاں عالمی طلبہ اور تعلیمی عملہ کے لیے بھی ترجیحی مقامات ہیں۔ ہماری یونیورسٹیاں نہ صرف ملک کی اقتصادی ترقی میں حصہ ڈالتی ہیں ،بلکہ وہ بین الاقوامی طلبہ کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں جو ہماری اداروں میں تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔ جیسے جیسے ہماری یونیورسٹیوں کی تحقیق اور ترقی کی صلاحیت اور معیار بڑھتے ہیں، بین الاقوامی طلبہ اور تعلیمی عملہ ہماری یونیورسٹیوں میں مزید دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔

اوزوار نے کہا، ہم اپنے شامی بھائیوں کے ساتھ تعاون کریں گے، اور  ترکیہ کا اعلیٰ تعلیم کا تجربہ شام کی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ،شام میں ایسا جمہوری نظام قائم ہوگا جسے عوام قبول کریں گے۔ پچھلے دور کے نظام کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم سے متعلق مختلف مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ، اعلیٰ تعلیم کا کونسل اور یونیورسٹیاں ہمارے شامی بھائیوں کے ساتھ تعاون کریں گی۔ ہمارے ہم منصبوں سے مشاورت کے بعد، اعلیٰ تعلیم کا کونسل شام کے ساتھ ترکیہ کے اعلیٰ تعلیم کے تجربے کو شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہمارے اس شعبے میں کوششیں جاری ہیں، اور ہم وہاں کی یونیورسٹیوں کی ترقی اور پیشرفت کی حمایت کریں گے، جیسے ترکیہ میں ہم اس معاملے میں اپنے ہم منصبوں سے رابطے میں ہیں۔

کوسے نے یونیورسٹی کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ، یہ 2010 میں اپنی بنیاد رکھنے کے بعد اپنے مقصد کے حصول کی طرف مستحکم ترقی کر رہی ہے کہ ،یہ ایک عالمی سطح کی یونیورسٹی بنے جو تعلیمی دنیا کی رہنمائی کرے اور اسے متاثر کرے۔

Read Previous

ترکیہ اور اردن کا شام کے مستقبل کیلئے مشترکہ روڈ میپ پر اتفاق

Read Next

بلیو ہوم لینڈ 2025: 20 ہزار اہلکاروں کے ساتھ بحری مشقوں کا آغاز

Leave a Reply