Turkiya-Logo-top

انطالیہ میں کوپ 31 سربراہی اجلاس سے قبل ترکیہ کے مشاورتی بورڈ کا پہلا اجلاس

ترکیہ میں رواں سال ہونے والی اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس کوپ 31 کی تیاریوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کانفرنس کے لیے قائم کیے گئے مشاورتی بورڈ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔

منگل کو ہونے والے آن لائن اجلاس کی صدارت ترکیہ کے وزیرِ ماحولیات، شہری آبادکاری اور موسمیاتی تبدیلی مراد کوروم نے کی، جو کوپ 31 کے صدر بھی ہیں۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

اجلاس میں ترکیہ نے آئندہ موسمیاتی کانفرنس کے لیے اپنے وژن، ترجیحات اور عملی اہداف پیش کیے۔ مراد کوروم نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے محض سیاسی بیانات اور وعدے کافی نہیں بلکہ ان وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ضروری ہے

مراد کوروم نے اجلاس کے دوران 10 نکاتی کوپ 31 ایکشن ایجنڈے اور عالمی سطح پر عملدرآمد کے لیے مقرر کیے گئے چھ اہداف کو اجاگر کیا۔

ترکیہ کی جانب سے پیش کیے گئے وژن میں موسمیاتی پالیسیوں کو عملی سطح پر نافذ کرنے اور مختلف ممالک کے درمیان تعاون، مکالمے اور اتفاقِ رائے کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔

کوروم کے مطابق کوپ 31 کا مقصد صرف ایک اور عالمی موسمیاتی کانفرنس کا انعقاد نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے ایسے پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا ہوگا جہاں عالمی برادری موسمیاتی تبدیلی کے خلاف قابلِ عمل اقدامات پر آگے بڑھ سکے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

اجلاس میں کوپ 31 کی صدارت کی جانب سے اب تک کی جانے والی سفارتی کوششوں کے بارے میں بھی شرکا کو بریفنگ دی گئی۔

مراد کوروم نے کہا کہ نومبر میں ہونے والی کانفرنس تک مذاکرات اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا، تاکہ انطالیہ میں ایسا اجلاس منعقد کیا جا سکے جس میں مختلف ممالک اور متعلقہ فریقین کی شمولیت یقینی ہو اور کوئی ملک عالمی موسمیاتی اقدامات کے عمل سے پیچھے نہ رہ جائے۔

ترک وزیر نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کوپ 31 کے مشاورتی بورڈ کو کانفرنس کے پورے عمل میں ایک اہم شراکت دار قرار دیا۔ ان کے مطابق بورڈ عالمی سطح پر ماہرین اور متعلقہ فریقین کی شرکت کے ساتھ کانفرنس کی تیاریوں، وژن اور اہداف پر مشاورت کرے گا

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

مراد کوروم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ترکیہ کوپ 31 کو محض ایک رسمی اجلاس تک محدود نہیں رکھے گا۔

ان کے مطابق باہمی مشاورت، مکالمے، اتفاقِ رائے اور عملی اقدامات کے ذریعے کوپ 31 کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی جدوجہد کا مؤثر ذریعہ بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

یہ مؤقف کوپ 31 کے لیے ترکیہ کی اس حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جس میں عالمی موسمیاتی وعدوں کو عملی سطح پر نافذ کرنے پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔

ترکیہ کی وزارتِ ماحولیات کے مطابق کوپ 31 کی تیاریوں کے لیے قائم کیے گئے مشاورتی بورڈ میں موسمیاتی تبدیلی کے شعبے سے وابستہ اعلیٰ حکام اور ماہرین شامل ہیں۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

بورڈ کا مقصد کانفرنس کی تیاریوں کے دوران مختلف شعبوں سے ماہرین کی رائے حاصل کرنا اور کوپ 31 کے وژن اور ترجیحات کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

ترکیہ کے مطابق دنیا بھر سے ماہرین کی شرکت متوقع ہے، جبکہ آئندہ بھی کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلے میں مشاورت اور سفارتی رابطوں کا عمل جاری رہے گا۔

ترکیہ 9 سے 20 نومبر 2026 تک جنوبی شہر انطالیہ میں کوپ 31 کی میزبانی کرے گا۔ اقوام متحدہ کے مطابق کوپ 31 کے لیے ترکیہ اور موجودہ کوپ صدارت کھلے، شفاف اور جامع عمل کے ذریعے مختلف ممالک، مذاکرات کاروں، وزرا اور دیگر متعلقہ فریقین کو ساتھ لانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

کوپ 31 اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی کے تحت ہونے والا سالانہ اجلاس ہے، جہاں دنیا بھر کے ممالک موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے عالمی پالیسی، مالی معاونت، اخراج میں کمی اور دیگر اہم معاملات پر مذاکرات کرتے ہیں۔

کوپ 31 کی میزبانی ترکیہ کو عالمی موسمیاتی سفارت کاری میں نمایاں کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

انطالیہ میں ہونے والی کانفرنس میں عالمی رہنما، وزرا، ماہرین، مذاکرات کار اور دیگر متعلقہ فریقین شریک ہوں گے۔ اس لیے مشاورتی بورڈ کے پہلے اجلاس کو کانفرنس کی تیاری کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ترکیہ کی جانب سے عملی اقدامات، مکالمے، اتفاقِ رائے اور عالمی تعاون پر زور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انطالیہ کانفرنس میں صرف نئے وعدوں کے بجائے موجودہ موسمیاتی اہداف پر عملدرآمد کو بھی مرکزی اہمیت دینے کی کوشش کی جائے گی۔

Read Previous

مصنوعی ذہانت کے دور میں ڈیجیٹل اعتماد اور آزادیٔ اظہار: آزاد ڈیجیٹل دنیا میں ذمہ دارانہ مواد کی تخلیق کی ضرورت

Read Next

مکہ سے نئے سکیورٹی آرکیٹیکچر تک: ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ

Leave a Reply