turky-urdu-logo

ترکیہ میں محسن یازیجی اوغلو کی وفات کو 17 برس مکمل، ملک بھر میں خراجِ عقیدت

ترکیہ میں عظیم اتحاد پارٹی کے بانی رہنما محسن یازیجی اوغلو کی وفات کو 17 برس مکمل ہونے پر ملک بھر میں انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر مختلف شہروں میں یادگاری تقریبات، دعائیہ نشستیں اور خصوصی پروگرام منعقد کیے گئے جن میں ان کی سیاسی، سماجی اور فکری خدمات کو سراہا گیا۔

محسن یازیجی اوغلو 25 مارچ 2009 کو ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں اپنے پانچ ساتھیوں سمیت جاں بحق ہو گئے تھے۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب وہ کہرامان ماراش کے علاقے چاغلایانجریت میں ایک انتخابی جلسے سے یوزغات کے علاقے یرکوی جا رہے تھے۔ ہیلی کاپٹر گوکسون کے علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

ان کی وفات کے حوالے سے مختلف سوالات اور تنازعات آج بھی زیرِ بحث ہیں۔ بعض حلقوں کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ اس واقعے میں سازش کا عنصر موجود تھا۔ اس حوالے سے بعض سرکاری اہلکاروں کے خلاف مقدمات بھی زیرِ سماعت ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے تحقیقات میں رکاوٹ ڈالی اور امدادی کارروائیوں میں تاخیر کی۔

صدر رجب طیب ایردوان نے بھی اس موقع پر محسن یازیجی اوغلو کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ ترک قوم کے حافظے میں ایک بااصول، باہمت اور مخلص رہنما کے طور پر ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ انہوں نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

محسن یازیجی اوغلو 1954 میں صوبہ سیواس کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے اور نوجوانی ہی سے سیاست میں سرگرم ہو گئے۔ انہوں نے مختلف قوم پرست تنظیموں میں اہم ذمہ داریاں ادا کیں اور بعد ازاں عظیم اتحاد پارٹی کی بنیاد رکھی۔ وہ 1991 میں رکنِ پارلیمان منتخب ہوئے اور اپنی منفرد سیاسی سوچ کے باعث نمایاں مقام حاصل کیا۔

1980 کی فوجی بغاوت کے بعد انہیں قید و بند کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم رہائی کے بعد انہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھی۔ وہ تعلیم، نوجوانوں کی ترقی اور پرامن معاشرے کے حامی تھے اور ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ قوم کی خدمت علم اور شعور کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

محسن یازیجی اوغلو نہ صرف ایک سیاستدان بلکہ شاعر اور دانشور بھی تھے۔ ان کی تحریروں میں حب الوطنی، امید اور انسانیت کے موضوعات نمایاں نظر آتے ہیں۔ آج بھی ترکیہ کے مختلف شہروں میں ان کے نام سے منسوب ادارے، مساجد، پارکس اور تعلیمی مراکز موجود ہیں، جبکہ ہر سال ان کی یاد میں تقریبات کا انعقاد ان کی خدمات کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

Read Previous

"پاکستان بطور ثالث بھارت کے لیے جھٹکا ہے” جیرام رمیش

Read Next

ترکیہ میں بارشوں میں اضافہ، ڈیموں میں پانی کی سطح بلند، پینے کے پانی کی صورتحال بہتر

Leave a Reply