ترکیہ نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق تمام ترک سفارت خانے اور قونصل خانے خطے میں مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ وزارتِ خارجہ کا قونصلر ہیلپ لائن سینٹر شہریوں کی معاونت اور ہنگامی رابطے کے لیے 24 گھنٹے فعال ہے۔ شہری درج ذیل نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں
ذرائع کے مطابق احتیاطی اقدام کے طور پر خطے کی جانب جانے والی تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، تاہم ترکیہ اور ایران کے درمیان تین سرحدی گزرگاہیں کھلی رکھی گئی ہیں تاکہ ضروری نقل و حرکت اور رابطے برقرار رہ سکیں۔ یہ اقدامات تہران میں ہفتے کی صبح ہونے والے دھماکوں کے بعد کیے گئے، جب اسرائیل نے ’’قبل از وقت‘‘ حملوں کا اعلان کیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں ’’بڑے پیمانے پر جنگی کارروائی‘‘ شروع کرنے کی تصدیق کی۔
ایران کی حکومت نے امریکہ اور اسرائیل کے اقدامات کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ تہران نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے جنگ سے بچنے کے لیے سفارتی راستے کو ترجیح دی، تاہم اب ملک کے دفاع کا وقت آ چکا ہے۔ ایرانی حکام نے اعلان کیا ہے کہ مسلح افواج صورتحال کا جواب ’’فیصلہ کن اور طاقتور انداز‘‘ میں دیں گی۔
