turky-urdu-logo

فتح اللہ دہشت گرد تنظیم کی مذموم بغاوت کی کوشش کی آٹھویں برسی

آج فتح اللہ دہشت گرد تنظیم کی مذموم بغاوت کی کوشش کی آٹھویں برسی ہے۔۔

جمہوریہ ترکیہ کے قومی اتحاد اور سالمیت کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے ملک کو اندھیروں میں دھکیلنے کے درپے ہونے والے فیتو کے کارندوں نے 15 جولائی 2016 کو ملک میں بغاور کرنے کی کوشش کی۔

ترک جمہوریت کو نشانہ بنانے کی اس غدارانہ کوشش کو ترک عوام کی جمہوریت اور منتخب شدہ حکومت کے تحفظ کے لیے بھرپور مزاحمت نے ناکام بنا ڈالا۔

ملک کے بہت سے اداروں، خاص طور پر فوج اور پولیس میں دراندازی کر کے اپنے حقیقی عزائم کو 15 جولائی 2016 کو عملی جامہ پہنانے والی فیتو کے خونی بغاوت اقدام کو صدر رجب طیب ایردوان کی اپیل پر ترکیہ کے چاروں گوشوں میں جمہوریت کے دفاع کے نام پر چوکوں میں نکل آنے والے عوام کی مدد سے ناکام بنا دیا گیا۔

ترک قوم کے حوصلے اور عزم سے حاصل کی گئی اس فتح سے دنیا میں بے نظیر ہونے والاجمہوریت کا جذبہ اور شعور منظر عام پر آیا۔

تاریخ میں ایک پر عظمت رقم ہونے والی اس مزاحمت میں ترکیہ بھر میں سڑکوں پر نکلنے اور ٹینکوں اور گولیوں کے سامنے سینہ سپر ہونےوالے 253 محب وطن شہید ہوئے۔

15 جولائی کی فتح کی 8ویں برسی کے موقع پر ترکیہ، وطن اور پرچم کے لیے بلا کسی ہچکچاہٹ و تردد کے جام شہادت نوش کرنے والے شہریوں کی بڑے احترام سے یاد منا رہا ہے۔

فتح سے ہمکنار ہونے والی اس بامعنی مزاحمت اورجدوجہدکے جذبے کو معاشرے کے ذہنوں میں زندہ و تابندہ رکھنے کے زیر مقصد ہر سال "15 جولائی یومِ جمہوریت وقومی اتحاد” مختلف سرگرمیوں کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

Read Previous

15 جولائی : وہ غداری جس نے تاریخ کو بھی شرمندہ کر دیا

Read Next

ہمسایہ ممالک سمیت پوری دنیا سے تعلقات بڑھانا اہم ہے: صدر ایردوان

Leave a Reply