Turkiya-Logo-top

ستر برس کی عمر میں تعلیم کا خواب پورا، ترکیہ کی خاتون نے نئی مثال قائم کر دی

"کہتے ہیں سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی… اور ترکیہ کی ایک ستر سالہ خاتون نے اس بات کو حقیقت بنا کر دکھا دیا۔”

ترکیہ کے شہر غازی انتب میں رہنے والی اسمے اوزگولر نے ستر برس کی عمر میں پہلی بار پڑھنا اور لکھنا سیکھ کر اپنی زندگی کا سب سے بڑا خواب پورا کر لیا۔

اسمے کا تعلق آرتوین کے ایک دور دراز گاؤں سے تھا، جہاں بچپن میں اسکول دور ہونے کی وجہ سے وہ کبھی تعلیم حاصل نہ کر سکیں۔ دو سال قبل شوہر کے انتقال کے بعد وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ غازی عنتاب منتقل ہوئیں، جہاں ان کی حوصلہ افزائی پر انہوں نے حریت سماجی یکجہتی مرکز میں خواندگی کے چھ ماہ کے کورس میں داخلہ لیا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

آج وہ نہ صرف پڑھ اور لکھ سکتی ہیں بلکہ اسپتال اکیلے جا سکتی ہیں، بسوں کے راستے پڑھ سکتی ہیں، لفٹ کے نمبر پہچانتی ہیں اور روزمرہ کے کئی کام بغیر کسی مدد کے انجام دیتی ہیں۔

اسمے اوزگولر کا کہنا ہے کہ اگر انہیں بچپن میں تعلیم کا موقع ملتا تو وہ اپنے والد کی طرح ایک استاد بننا چاہتیں۔ ان کا پیغام ہے کہ "سیکھنے کے لیے عمر نہیں، صرف ارادہ ہونا چاہیے۔”

مرکز کی مدرسہ نسرین یایلاجک کے مطابق ابتدا میں انہیں امید تھی کہ اسمے شاید صرف اپنا نام لکھنا سیکھ سکیں گی، لیکن مسلسل محنت اور حاضری نے انہیں ابتدائی جماعت کے طالب علم کے برابر خواندگی کی سطح تک پہنچا دیا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

مرکز کی منتظم دوغو اسپیر کے مطابق دو ہزار بائیس میں قائم ہونے والے اس مرکز سے اب تک سیکڑوں خواتین مستفید ہو چکی ہیں، جہاں نہ صرف خواندگی بلکہ مختلف پیشہ ورانہ تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے تاکہ خواتین خودمختار زندگی گزار سکیں۔

اسمے اوزگولر کی یہ کہانی اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ اگر موقع اور حوصلہ مل جائے، تو خواب پورے کرنے کے لیے عمر کبھی رکاوٹ نہیں بنتی۔

Read Previous

کنگنا رناوت کی فلم ‘کوئین 2’ ڈھائی ارب روپے کے مقدمے کی زد میں، حق ملکیت کا تنازع شدت اختیار کر گیا

Read Next

ترکیہ میں تعلیمی اسناد کا نیا نظام، اب سرٹیفکیٹس کی آن لائن تصدیق ممکن ہوگی

Leave a Reply