turky-urdu-logo

ترک سائنسدان اقوامِ متحدہ کے مصنوعی ذہانت پینل کے رکن منتخب

ترکیہ کی معروف سائنسدان پروفیسر ملات بلگے دمیرکوز کو اقوامِ متحدہ کے آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل برائے مصنوعی ذہانت کا رکن منتخب کر لیا گیا ہے، جسے عالمی سطح پر ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ترک وزارتِ خارجہ کی جانب سے 13 فروری کو جاری بیان میں کہا گیا کہ اس باوقار پینل میں ترکیہ کے ایک سائنسدان کی شمولیت اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ انقرہ حکومت مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی تعاون اور کثیرالجہتی سفارت کاری کو خصوصی اہمیت دیتی ہے، خصوصاً اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر۔ بیان میں اس عزم کا اعادہ بھی کیا گیا کہ ترکیہ جامع، شفاف اور جدت پر مبنی نقطۂ نظر کے تحت عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے نظم و نسق کی کوششوں میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔

پروفیسر دمیرکوز مشرقِ وسطیٰ تکنیکی جامعہ (او ڈی ٹی یو) میں طبیعیات کی پروفیسر ہیں۔ وہ جامعہ کے ادارے آئی وی ایم ای آر کی ڈائریکٹر بھی ہیں، جو خلائی تابکاری کے ماحول کی پیمائش، نقل سازی اور تجزیے میں مہارت رکھتا ہے۔ یہ ادارہ خلائی تحقیق میں مصنوعی ذہانت پر مبنی نمونے استعمال کرتا ہے تاکہ خلائی شعاعوں اور تابکاری کے اثرات کا زیادہ درست انداز میں جائزہ لیا جا سکے۔

انہیں ترکیہ کی جانب سے نامزد کیا گیا تھا اور فروری کے اوائل میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والے انتخاب کے ذریعے پینل کا حصہ بنایا گیا۔ یہ پینل مصنوعی ذہانت کے حوالے سے دنیا کا پہلا عالمی سائنسی فورم ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے نظم و نسق، اس کے ممکنہ خطرات، اخلاقی پہلوؤں اور مواقع پر غیر جانبدار اور سائنسی جائزہ فراہم کرنا ہے۔

اس پینل میں 37 ممالک سے تعلق رکھنے والے 40 ممتاز ماہرین شامل ہیں، جو اس بات کا جائزہ لیں گے کہ مصنوعی ذہانت کس طرح انسانی زندگی، معیشت، سماجی ڈھانچوں، شہری شعبوں اور عسکری میدانوں کو متاثر کر رہی ہے۔

پینل اپنی پہلی جامع رپورٹ جولائی 2026 میں پیش کرے گا، جس میں شہری اور دفاعی شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال، اس سے پیدا ہونے والے خطرات، سلامتی سے متعلق خدشات اور ترقی کے نئے مواقع پر تفصیلی سفارشات شامل ہوں گی۔ ماہرین کے مطابق یہ رپورٹ مستقبل میں عالمی سطح پر پالیسی سازی اور قوانین کی تشکیل کے لیے رہنما اصول فراہم کر سکتی ہے۔

Read Previous

ترکیہ اور سربیا کا دفاع، توانائی اور تجارت کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

Leave a Reply