fbpx
ozIstanbul

ترکی اور روس کی جنگی بحری جہازوں اور سب میرینز کی مشترکہ تیاری کا فیصلہ

ترکی  اورروس  نے جنگی  بحری جہازوں اور سب  میزینز کی مشترکہ تیاری کا فیصلہ  کیا ہے۔ ترک صدر ایردوان نے روس کے دورے سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو  کرتے ہوئے بتایا کہ  ترکی اکویو کے بعد دوسرے اور تیسرے ایٹمی ری ایکٹر کے لیے روس سے معاہدہ کر سکتا ہے۔

دورہ روس :

صدر  نے روس اور ترکی کے درمیان تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا  کہ شام میں امن ترکی اور روس کے اتحاد پر منحصر ہے۔

صدر ایردوان نے روس  کے سیاحتی شہر سوچی میں صدر پیوٹن  کی رہائش پر ان سے ملاقات کی ۔ ملاقات سے  قبل صدر نے    صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس اور ترکی کے تعلقات سے دونوں ممالک کو فائدہ   ہو گا  اور یہ تعلقات دن بدن مضبوط  ہو رہے ہیں ۔ شام کے حوالے سے جو اقدامات ہم کر رہے ہیں  وہ بلاشبہ اہمیت کے حامل ہیں۔ صدر کا کہنا تھا کہ خطے  میں  امن کا انحصار  بھی دونوں ممالک  میں بہتر تعلقات  پر  ہے۔

ترکی کے روس سے ایس 400 میزائل سسٹم خریدنے  کے  حوالے  سے گفتگو کرتے ہوئے  صدر کا کہنا تھا کہ  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کچھ ایسے افراد ہیں جو ہم سے ہمیشہ اسی  حوالے سے سوالات کرتے ہیں ۔ ہم نے انہیں  ضرورت  کے حساب سے جواب دے دیا  ہے  کیونکہ ہمارے لیے اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹنا  نا ممکن ہے۔

صدر ایردوان نے  روسی صدر کا ترکی کے جنگلات میں لگنے والی آگ پر قابو پانے میں  مدد فراہم کرنے پر  شکریہ ادا کیا  اور اسی دوران روسی پائلٹ     کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا  ۔

صدر کا کہنا تھا کہ سچے دوست کی پہچان مشکل وقت میں ہی ہوتی ہے۔

صدر  نے مزید کہا کہ   ترک- روس تعلقات   سیاسی، عسکری، اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں مختلف انداز میں پروان چڑھ رہے ہیں ۔  البتہ تجارتی معاملات اونچ نیچ  کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ فلحال دونوں ممالک  بہتر تجارتی  تعلقات سے مستفید ہو رہے ہے خاص طور پر سیاحت کے شعبے میں ۔

دوسری جانب روسی صدر پیوٹن کا کہنا  ہے کہ ترکی- روس اتحاد  بین الاقوامی سطح پر  قائم  ودائم ہے۔

شام اور لیبیا  کے حوالے سے ہم ایک صفے پر ہیں۔

روسی صدر کا کہنا تھا کہ آذربائیجان کے علاقے کاراباخ میں امن کے لیے ترکی اور روس میں  اتحاد ناگزیر ہے۔

ترکی سے ہمارے مذاکرات عموما  مشکل شکل اختیار کر لیتے ہیں لیکن ان کا اختتام  مثبت نتائج پر ہی ہوتا ہے۔ ہم نے آپس میں سمجھوتہ کرنا سیکھ لیا ہے،

صدر پیوٹن نے  ترکی میں سرمایہ کاری سے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روس نے ترکی میں 6.5 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور مستقبل میں بھی   اہم منصوبے شروع کیے جائیں گے۔  صدر نے تجارت میں اضافے کی طرف اشارہ  کرتے ہوئے بتایا کہ رواں سال پہلے  نو ماہ میں 50 فیصد تجارت میں اضافہ ہوا۔

پچھلا پڑھیں

یورپی یونین کی جانب سے افغانستان کے لیے 30 کڑور سے زائد رقم مختص

اگلا پڑھیں

اسرا بلجک نے اپنی نئی ٹی وی سیریز کے دوسرے حصے کا پہلا ٹریلرانسٹا گرام پر شیئرکردیا

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے