Turkiya-Logo-top

ترکیہ کی صدارتی قومی لائبریری نے پانچ سالوں میں 70 لاکھ افراد کی میزبانی کی


20 فروری 2020 کو ، ترکیہ کے   صدر،   رجب  طیب ایردوان کی میزبانی میں ترکیہ کے شہر، انقرہ میں ترکیہ کی صدارتی قومی لائبریری کا افتتاح ہوا، جس میں ازبکستان کے صدر،  شوکت مرزائیوف سمیت  2,500 ممتاز علمی و ثقافتی شخصیات شریک ہوئیں۔

یہ لائبریری 1 لاکھ 25 ہزار مربع میٹر رقبے پر مشتمل ہے، جس میں 201 کلومیٹر طویل شیلف موجود ہیں، اور یہاں بیک وقت 5 ہزار 5 سو افراد بیٹھ سکتے ہیں۔ اپنی منفرد معماری، وسیع ذخیرے اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ یہ لائبریری’   دنیا کی طرف ترکیہ کا دریچہ’ کہلاتی ہے۔

اس لائبریری کو ترکیہ میں کتب خانوں اور لائبریری سائنس کے شعبے میں ایک نئی جہت دینے والا ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ 24/7 کھلا رہتا ہے اور ہر عمر، تعلیمی پس منظر اور ثقافت کے افراد کے لیے معلومات کے ساتھ ساتھ ثقافتی و ادبی سرگرمیاں بھی فراہم کرتا ہے۔

اس لائبریری میں2.5ملین مطبوعہ کتابیں،2.9 ملین اخبارات و رسائل کے شمارے، 9 لاکھ 50 ہزار ای-کتب، 7.5ملین ای-مقالات، 233 ڈیٹا بیس، 330ملین سے زائد تحقیقی مضامین، رپورٹس اور مواد شامل ہیں۔

یہاں 73 اہم ڈیٹا بیسز کے ذریعے 1 لاکھ 25 ہزار ای-جرنلز تک رسائی ممکن ہے۔

یومیہ 5,000 سے 6,000 قارئین ہفتے کے دنوں میں، اور 12,000 سے 15,000 قارئین اختتام ہفتہ پر لائبریری آتے ہیں۔

سال 4202میں  اسں لائبریری نے 1.9 ملین قارئین اور وزیٹرز کی میزبانی کی، جبکہ افتتاح کے بعد سے پانچ سالوں میں تقریبا 7 ملین افراد یہاں آچکے ہیں۔گزشتہ سال لائبریری میں 48 اجلاس اور 10 نمائشوں کا انعقاد ہوا، جن میں 20,712 افراد نے شرکت کی۔سائنس اور ٹیکنالوجی ورکشاپس اور نصرالدین ہوکا چلڈرنز لائبریری کے تحت چار سالوں میں 1,650 ایونٹس منعقد کیے گئے۔

یہ قومی لائبریری صرف ایک مطالعہ گاہ نہیں ،بلکہ ایک جیتی جاگتی ثقافتی و علمی مرکز کے طور پر کام کر رہی ہے۔ اس کے ذریعے ترکیہ میں نہ صرف جدید لائبریری خدمات کو فروغ ملا، بلکہ سیاحوں کے لیے بھی ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔

یہ لائبریری ترکیہ کی علمی برادری کے لیے ایک نیا سنگ میل ثابت ہو رہی ہے، جہاں کتابوں کے ساتھ ساتھ جدید ڈیجیٹل مواد بھی قارئین کو بآسانی دستیاب ہیں۔

Read Previous

ترکیہ میں سالانہ تقریبا 1 لاکھ موٹاپے کی سرجریاں ہوتی ہیں: ترک اوبیسٹی سرجری فاونڈیشن

Read Next

  آئندہ نسلوں کے لیے سرسبز ترکیہ کی کوششیں

Leave a Reply