fbpx
ozIstanbul

ترکی: معاہدہ لوزان کو 98 برس مکمل ہو گئے، 2023 میں ترکی ایک نئے دور میں داخل ہو گا، صدر ایردوان

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ناممکنات اور مشکلات کے باوجود ترکی نے ایک عظیم فتح حاصل کی۔ مصفطیٰ کمال اتاترک کی قیادت میں ترکی نے "لوزان کا معاہدہ” کیا جس سے جدید ترکی کی بنیاد رکھی گئی اور آج ترکی ایک جدید اور مضبوط جمہوری ملک کے طور پر عالمی برادری کی صف میں کھڑا ہے۔

لوزان معاہدے کے 98 برس مکمل ہونے پر اپنے ایک بیان میں صدر ایردوان نے کہا کہ 2023 میں لوزان معاہدے کی صد سالہ تقریبات منائی جائیں گی۔ ماضی کے مقابلے میں آج کا ترکی معاشی، عسکری، سیاسی اور سفارتی سطح پر مضبوط اور خوشحال ملک بن گیا ہے۔ ہم اپنے ملک کی سالمیت اور خود مختاری کو ناکام بنانے کی تمام کوششوں کو شکست دیں گے۔ ترک عوام کی خوشحالی اور استحکام کے لئے حکومت تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔

صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی نے لیبیا سے شام اور مشرقی بحیرہ تک دہشت گردی کے خلاف ایک کامیاب جنگ لڑی ہے۔ ترکی کے مفادات کے خلاف ہونے والی تمام سازشیں کو ناکام بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی دھمکیوں کی زبان کا منہ توڑ جواب دے گا۔ اب ترکی کو بلیک میل کرنے اور دھمکی آمیز لہجے میں بات کرنا کسی بھی ملک کے لئے ممکن نہیں ہے۔ ترکی عالمی قوانین کے تحت اپنے مفادات سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور کسی صورت مشرقی بحیرہ روم کے قدرتی وسائل پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

صدر ایردوان نے اس موقع پر جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک اور آزادی کے جنگ کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔

واضح رہے کہ 1923 میں ترکی نے جنگ عظیم اول کے اختتام پر لوزان معاہدہ کیا تھا۔ یہ معاہدہ ترکی اور برطانیہ، فرانس، اٹلی، یونان اور ان کے اتحادیوں کے ساتھ کیا گیا تھا جس میں 1920 کے سیوریس معاہدے کو ختم کر کے نیا معاہدہ کیا گیا تھا۔

پچھلا پڑھیں

مقبوضہ کشمیر کے بارے میں 5 اگست 2019 کے جارحانہ اقدام کی واپسی تک بھارت سے بات چیت ناممکن ہے، پاکستان

اگلا پڑھیں

ترک دہشت گرد ڈرون طیارے حملے میں ہلاک

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے