جارحیت کا نشانہ بننے والے معصوم بچوں کے عالمی دن کے موقع پر صدر ایردوان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کے بچوں کی حفاظت پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔
صدر ایردوان نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ میں تمام ریاستوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ انسانیت کے ساتھ ساتھ غزہ کے بچوں کی عزت اور وقار کی حفاظت کریں، اور بے قابو اسرائیلی بربریت کے خلاف واضح موقف اختیار کریں۔
انکا کہنا تھا کہ میں اقوام متحدہ کو دعوت دیتا ہوں، جس نے اس خاص دن کا اعلان کیا ہے، وہ غزہ میں مہینوں تک بموں سے معصوم بچوں کے قتل عام کے خلاف ٹھوس قدم اٹھائے اور یہ سمجھ کر کارروائی کرے کہ دنیا پانچ سے بڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جارحیت کے شکار معصوم بچوں کے عالمی دن کے موقع پر، میں 7 اکتوبر سے غزہ میں 15000 سے زائد بچوں کو دکھ کے ساتھ یاد کرتا ہوں جو وحشیانہ طریقے سے قتل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں صرف بچوں ا کو ہی نہیں بلکہ انسانیت کو بھی قتل کیا جاتا ہے۔
صدر ایردوان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترکیہ دنیا بھر کے مظلوم لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ان پر جاری ظلم کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھاتا رہے گا۔
صدر ایردوان نے مزید کہا کہ جہاں بھی بچے مارے جا رہے ہیں، جہاں بھی انہیں بھوک اور غربت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے عالمی دنیا کو انکی روک تھام کے لیے اقدام کرنے چہیے۔
اسرائیل نے گذشتہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے غزہ پر وحشیانہ جارحیت جاری رکھی ہوئی ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرنے کے باوجود۔ مقامی صحت کے حکام کے مطابق، غزہ میں اب تک 36,500 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے اور تقریباً 83,000 دیگر زخمی ہیں۔
اسرائیلی جنگ کے تقریباً آٹھ ماہ کے دوران، غزہ کا وسیع حصہ خوراک، صاف پانی اور ادویات کی شدید قلت کا شکار ہے۔
اسرائیل پر عالمی عدالت انصاف میں نسل کشی کا الزام ہے۔
