آذربائیجان کی سرحد پر آرمینیا کی جارحیت ناقابل قبول ہے ترک صدر ایردوان کا کہنا ہے کہ آرمینیا 2020 امن معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے
دارالحکومت انقرہ میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے، صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ ترکیہ آذربائیجان کی سرحد پر کشیدگی کو آرمینیا کی جانب سے نومبر 2020 میں کاراباخ جنگ کے خاتمے کے معاہدے کی خلاف ورزی کے تناظر میں دیکھتا ہے، 2020 میں آذربائیجان کی فتح ہوئی تھی،آرمینیا کی جانب سےحالیہ پیش رفت ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔
صدر ایردوان نے آذربائیجان کے لیے ترکیہ کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ ترکیہ اپنے آذربائیجان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
ہمیں امید ہے کہ آرمینیا امن کے لیے کام کرنے کے بجائے اپنے موجودہ غلط راستے سے جلد پیچھے ہٹ جائے گا، انہوں نے کہا کہ آرمینیا کو اپنے "جارحانہ رویہ” اور معاہدے کی خلاف ورزی کے "نتائج” کا سامنا کرنا پڑے گا۔
آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان 1991 سے کشیدہ تعلقات ہیں، جب آرمینیائی فوج نے نگورنو کاراباخ پر قبضہ کر لیا، جسے بالائی کاراباخ بھی کہا جاتا ہے، یہ علاقہ بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔
