صدر رجب طیب ایردوان نے وعدہ کیا ہے کہ وہ جلد ہی ایسے مختلف منصوبوں کا اعلان کریں گے جن سے ترک فوج کی زمینی، فضائی اور سمندری طاقت میں مزید اضافہ ہو گا۔

صدر ایردوان نے انقرہ میں ترک فوج کے انسانی امدادی بریگیڈ کے ساتھ افطار ڈنر کے موقع پر کہا کہ ہم اپنے دفاعی صنعت کے منصوبوں کو حتمی شکل دینے کے راستے پر گامزن ہیں، ہم یہ کام بہت ہی احتیاط اور جوش و جذبے کے ساتھ سر انجام دے رہے ہیں کیونکہ یہ ہماری سیاسی اور اقتصادی طاقت کی تکمیل کرتے ہیں۔

صدر کا کہنا تھا کہ ترک فوج سرحد کی حفاظت سے لے کر انسداد دہشت گردی کی کوششوں، بین الاقوامی مشنوں سے لے کر انسانی امداد کی سرگرمیوں تک” کامیابیوں کے ساتھ تاریخ رقم کر رہی ہے ۔

انکا کہنا تھا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ترک فوج اپنا اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

اگرچہ کچھ حلقے فتنے کو بھڑکانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، لیکن ہم زلزلہ زدہ علاقے میں اپنے فوجیوں کے بے لوث کاموں سے بخوبی واقف ہیں۔ میں اپنے تمام فوجیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، کمانڈروں سے لے کر پرائیویٹ تک، جو ملبہ ہٹانے، راحت اور حفاظتی کاموں کے لیے تفویض کیے گئے ہیں۔

6 فروری کو، 7.7 اور 7.6 شدت کے زلزلوں نے 11 صوبوں کو متاثر کیا جس میں ادانا، آدیامان، دیارباقر، ایلازیگ،حطائے ، غازینتپ، قہرمانماراش، کلیس، ملاطیا، عثمانیہ، اور سانلیورفا شامل ہیں۔

ترکیہ میں 1 کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ لوگ تباہ کن زلزلوں سے متاثر ہوئے ہیں ۔

ہم نے اپنے شہری تبدیلی کے منصوبوں کے ساتھ 3.3 ملین خاندانوں کو محفوظ اور پرامن گھر فراہم کیے ہیں اور مزید 1.2 ملین خاندانوں کو TOKI (ملک کی ہاؤسنگ ڈیولپمنٹ ایڈمنسٹریشن) کے مکانات فراہم کیے ہیں۔ ہم ایک ہی وقت میں ایک منصوبہ بند طریقے سے اپنی عوامی عمارتوں کی تزئین و آرائش کر رہے ہیں۔

ایردوان نے ترکیہ کے ارد گرد کے سیاسی اور انسانی خطرات کو یاد کرتے ہوئے مزید کہا کہ سیاسی بحران، تنازعات، جنگیں، تناؤ کبھی بھی ختم نہیں ہوتے اور براہ راست اس خطے کو متاثر کرتے ہیں جہاں ترکیہ واقع ہے۔

ترکیہ کے قریبی ماحول میں سیاسی بحرانوں، تنازعات، جنگوں اور تناؤ کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے، صدر ایردوان نےکہا کہ کچھ معاشرے اور ریاستیں جو ہماری قوم کے بارے میں اپنے 1,000 سالہ طویل ڈیزائن کو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں، اس حقیقت کو قبول کرنے سے انکاری ہیں کہ ترکیہ ان زمینوں کا مالک ہے اور اب کسی میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ ہمارے ملک پر براہ راست حملہ کرے جیسا کہ پہلی جنگ عظیم یا قومی جدوجہد کے دوران ہوا تھا، لیکن وہ دہشت گرد تنظیموں کے استعمال، سیاسی یا سماجی انتشار پھیلانے کی کوشش، یا سیٹنگ جیسے غیر متناسب حملوں سے کبھی گریز نہیں کرتے۔

