Turkiya-Logo-top

ترک انٹیلیجنس چیف کا اہم دورہِ لیبیا: غزہ امدادی قافلے کے 10 یرغمال کارکنان کی رہائی، ترکیہ کی کامیاب تزویراتی سفارتکاری

ترک انٹیلیجنس (MİT؛ ملّی استخبارات تشکیلات) کے سربراہ ابراہیم قالِن کا حالیہ دورہِ لیبیا خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل اور عسکری صورتحال کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ترکیہ، جو طویل عرصے سے طرابلس (مغربی لیبیا) کی حکومت کا کلیدی اتحادی رہا ہے، اب ملک کے مستقل استحکام کے لیے مشرق کے بااثر مقتدر حلقوں کے ساتھ بھی براہ راست تزویراتی رابطے استوار کر رہا ہے۔

23 جون 2026 بروز منگل، ترکیہ کی ملّی استخبارات تشکیلات کے ڈائریکٹر ابراہیم قالِن نے لیبیا کا ایک اہم دورہ کیا۔

ابراہیم قالِن نے اپنے دورے کا آغاز مشرقی لیبیا کے مرکز بن غازی سے کیا، جہاں انہوں نے لیبین نیشنل آرمی (LNA) کے ڈپٹی کمانڈر اور خلیفہ حفتر کے صاحبزادے لیفٹیننٹ جنرل صدام حفتر سے تفصیلی ملاقات کی۔
اس ملاقات کا بنیادی ایجنڈا لیبیا کے مشرقی اور مغربی حصوں کی متوازی حکومتوں اور عسکری قوتوں کو ایک مشترکہ کمانڈ (سنگل اتھارٹی) کے تحت لانے کی کوششوں پر غور کرنا تھا۔

یاد رہے کہ یہ وہی حفتر حکومت اور لیبین نیشنل آرمی (LNA) ہے جس کے ساتھ پاکستان نے گزشتہ برس آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے بن غازی دورے کے موقع پر 4 سے 4.6 ارب ڈالر مالیت کے عسکری سازوسامان کی فراہمی کا دفاعی معاہدہ بھی کیا تھا۔
دوسری طرف لیفٹیننٹ جنرل صدام حفتر نے ابراہیم قالِن سے ملاقات کے اگلے ہی روز 24 جون 2026 کو پاکستان کا دورہ کیا جس موقع پر ان کی جی ایچ کیو راولپنڈی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ون آن ون ملاقات بھی ہوئی۔
پاکستان کا لیبیا کی مشرقی حکومت کے ساتھ اتحاد کرنا جبکہ ترکیہ کا طرابلس حکومت کا کلیدی شراکت دار ہونا تجزیہ کاروں کی جانب سے ترکیہ اور پاکستان کی مشترکہ پالیسیوں اور گہرے برادرانہ تعلقات کے لیے ایک اندیشے کے طور پر دیکھا اور بیان کیا جا رہا تھا لیکن ترکیہ کے ڈی جی آئی ابراہیم قالِن کے اس دورے اور ترکیہ کی سفارتی پالیسیوں کی لچک نے ان تبصروں اور اندیشوں کو بھی زیر کر دیا ہے۔

انقرہ کا بن غازی میں حفتر قوتوں کے ساتھ اس سطح کا رابطہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ترکیہ اب صرف طرابلس حکومت تک محدود نہیں رہا، بلکہ وہ لیبیا کی علاقائی سالمیت اور طویل مدتی استحکام کے لیے تمام اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شراکت داری بڑھا رہا ہے۔

اس دورے کا ایک انتہائی حساس انسانی اور سفارتی پہلو غزہ کے لیے امداد لے جانے والے برّی قافلے کے 10 محصور کارکنان کا معاملہ تھا۔
انسانی ہمدردی کا یہ قافلہ غزہ کا محاصرہ توڑنے اور امداد پہنچانے کے لیے برّی راستے سے مصر اور پھر رفاہ بارڈر جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ تاہم، جب یہ قافلہ مشرقی لیبیا کے زیرِ اثر علاقے پہنچا، تو خلیفہ حفتر کی افواج نے سیکیورٹی اور دیگر وجوہات کی بنا پر اس کی پیش قدمی روک دی اور سپین، پولینڈ، امریکہ، ارجنٹائن، یوراگوئے، اٹلی، تونس، اور پرتگال سے تعلق رکھنے والے 10 سرگرم کارکنان کو 24 مئی 2026 کو حراست میں لے لیا۔ کارکنان کے ممالک کی حکومتوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرنے کے باوجود کارکنان کی رہائی کے لیے کوئی مثبت عمل درآمد نہ ہوا، کہ اتنے میں ترک انٹیلیجنس چیف ابراہیم قالِن نے ملاقات کے دوران اپنی موثر سفارتکاری کے ذریعے صدام حفتر کو کارکنان کی رہائی کے لیے آمادہ کر لیا۔
ابراہیم قالِن نے بن غازی میں ملاقات کے دوران صدام حفتر کے سامنے اس معاملے کو اٹھایا اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان 10 کارکنان کی فوری اور محفوظ رہائی کے لیے ترکیہ کی جانب سے مضبوط سفارش پیش کی۔ جس کے بعد اس قافلے کو جس میں ایلیسیا آرمیسٹو نیوز، جینیل جونز، اور ڈومینیکو سینٹرون جیسے فگر شامل تھے، کو ہفتار کی افواج کی جانب سے رہائی کے بعد استنبول روانہ کیا گیا۔
استنبول ائیرپورٹ پر کارکنان نے ایسے بحران کو حل کرنے پر جسے ان کی اپنی حکومتیں بھی سفارتی ذرائع سے حل نہیں کر سکیں، ترکیہ اور نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن (MİT) کا شکریہ ادا کیا۔
انقرہ کا یہ اقدام خطے میں اس کے ثالثی اور انسانی حقوق کے محافظ کے طور پر بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔

بن غازی میں کامیاب مذاکرات کے بعد ابراہیم قالِن نے طرابلس کا رخ کیا، جہاں انہوں نے اقوامِ متحدہ سے تسلیم شدہ ‘حکومتِ قومی اتحاد’ (GNU) کے وزیراعظم عبدالحمید دبیہ اور دیگر اعلیٰ سیکیورٹی حکام سے ملاقات کی۔
طرابلس میں ہونے والی بات چیت میں بن غازی مذاکرات کے نتائج، ملکی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اور ترکیہ کی جانب سے لیبین سیکیورٹی فورسز کی تربیت کے تسلسل پر گفتگو کی گئی۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب لیبیا کی پارلیمنٹ (HoR) کے 104 ارکان نے امریکی امن منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت طرابلس کے وزیراعظم عبدالحمید دبیہ کی قیادت میں دونوں حکومتوں کو ضم کیا جانا ہے۔ ترکیہ اس سیاسی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت میں ترکیہ کی لیبیا پالیسی محض ایک عارضی عسکری مداخلت نہیں بلکہ بحیرہ روم (Mediterranean) میں اپنے طویل مدتی تزویراتی اور معاشی مفادات کے تحفظ کا ایک ماسٹر پلان ہے۔ متحدہ عرب امارات (UAE) کے مقابلے میں ترکیہ نے جس طرح لیبیا میں کامیابی حاصل کی ہے، وہ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جیو پولیٹکس کا ایک اہم ترین باب ہے۔

2019 میں ترکیہ نے طرابلس حکومت کے ساتھ بحری حدود کا ایک تاریخی معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت ترکیہ نے بحیرہ روم کے ایک بڑے حصے پر اپنے حقوق کا دعویٰ کیا، جہاں گیس اور تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ اس اقدام نے یونان، قبرص اور مصر کے گٹھ جوڑ کو بڑا دھچکا پہنچایا۔

جب 2019-2020 میں جنرل خلیفہ حفتر نے (جنہیں یو اے ای اور روس کی پشت پناہی حاصل تھی) طرابلس پر قبضہ کرنے کے لیے چڑھائی کی، تو صدر ایردوان نے اپنے ڈرونز، فضائی دفاعی نظام، انٹیلیجنس سپورٹ اور عسکری مشینری بھیج کر حفتر کی پیش قدمی کو نہ صرف روکا بلکہ انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ اس عسکری مداخلت نے لیبیا میں طاقت کا توازن مستقل طور پر ترکیہ کے حق میں بدل دیا۔

لیبیا طویل عرصے تک ترکیہ اور یو اے ای کے درمیان ایک سنگین "پروکسی وار” کا مرکز رہا۔ یو اے ای کا بنیادی مقصد خطے میں اخوان المسلمون اور اسلام پسند قوتوں کے اثر و رسوخ کو روکنا تھا، جس کے لیے اس نے اربوں ڈالر کے ہتھیار اور فنڈز جنرل حفتر کو فراہم کیے۔ تاہم، ترکیہ نے اس مقابلے میں واضح تزویراتی برتری حاصل کی۔

ترکیہ نے طرابلس میں مستقل عسکری اڈے (جیسے الوطیہ ایئر بیس) اور بندرگاہوں پر کنٹرول حاصل کر کے مغربی لیبیا کو اپنے تزویراتی اثر و رسوخ کا مستقل گڑھ بنا لیا ہے۔

یو اے ای نے حفتر کے ذریعے عسکری فتح حاصل کرنے کی کوشش کی جو ناکام رہی۔ اس کے برعکس، ترکیہ نے عسکری برتری قائم کرنے کے بعد بھی ایسی لچکدار اور متوازن سفارت کاری اپنائی کہ آج وہی حفتر خاندان (جو کبھی ترکیہ کا کٹر مخالف تھا) ترک انٹیلیجنس کے ساتھ قریبی شراکت داری کا خواہاں ہے۔
آج خلیفہ حفتر اور ان کے بیٹے صدام حفتر ترک انٹیلیجنس (MİT) کے ساتھ براہ راست روابط بڑھا رہے ہیں اور لیبیا کے دونوں فوجی دھڑوں نے حالیہ بین الاقوامی مشقوں، بشمول ترکیہ میں منعقد ہونے والی EFES مشقوں میں ایک ساتھ شرکت کی ہے۔

یو اے ای کی سرمایہ کاری زیادہ تر عسکری نوعیت کی تھی، جبکہ ترکیہ نے لیبیا میں تعمیراتی منصوبوں، توانائی کے معاہدوں، اسکولوں اور ترقیاتی کاموں کے ذریعے ‘سافٹ پاور’ کو مضبوط کیا۔ لیبیا کے دونوں دھڑے اب ترکیہ کے دفاعی سازوسامان کے خریدار بن چکے ہیں۔

جہاں متحدہ عرب امارات نے حالیہ برسوں میں خطے کے نئے توازن کو دیکھتے ہوئے اپنی سخت گیر پالیسی میں نرمی کی اور انقرہ کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ استوار کیا، وہیں ترکیہ نے لیبیا میں اپنی پوزیشن کو "مستقل اور ناقابلِ تسخیر” بنا لیا۔ صدر ایردوان نے یہ ثابت کیا کہ ترکیہ کی ڈپلومیسی اور بروقت عسکری مداخلت نے یو اے ای اور اس کے اتحادیوں کے منصوبوں کو ناکام بنا کر انقرہ کو شمالی افریقا اور بحیرہ روم کا سب سے بڑا جیو پولیٹیکل کھلاڑی بنا دیا ہے۔

ابراہیم قالِن کا یہ دورہ محض ایک خفیہ ایجنسی کے سربراہ کی روایتی ملاقات نہیں، بلکہ ایک جامع ترک سفارت کاری کا عکاس ہے۔ بن غازی اور طرابلس کے درمیان پل کا کردار ادا کر کے اور یرغمال کارکنان حساس انسانی مسئلے پر اثر و رسوخ استعمال کر کے ترکیہ نے ثابت کیا ہے کہ لیبیا کے مستقل امن اور سیاسی اتحاد کے مستقبل کا راستہ انقرہ کی مشاورت کے بغیر ممکن نہیں۔

Read Previous

اسلام آباد میں پاکستانی بچوں کو ترکیہ کی زبان و ثقافت سے متعارف کرانے والے سمر کیمپ کی اختتامی تقریب

Read Next

ترکیہ میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی تیاری

Leave a Reply