ترکی کی ایک عدالت نے واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خاشقجی قتل کیس ریاض منتقل کر دیا۔
ترک عدالت نے سعودی صحافی کے قتل کا کیس منتقل کرنے کی حکومتی درخواست منظور کر لی۔ ترکی نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لئے جمال خشوگی قتل کیس سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا اور آج اس کیس کو ریاض منتقل کر دیا گیا۔
یہ فیصلہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے انتباہ کے باوجود سامنے آیا ہے جن کے مطابق کیس کو سعودی عرب کے حوالے کرنے سے اس قتل پر پردہ ڈال دیا جائے گا جس سے متعلق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پر شبہ ظاہر کیا گیا۔
سعودی ولی عہد کے سخت نقاد سمجھے جانےوالے خاشقجی دو اکتوبر 2018کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں داخل ہوئے تاکہ وہ اپنی ترک منگیتر سے شادی کیلئے ضروری دستاویزات حاصل کرسکیں، لیکن اسکے بعد وہ کبھی باہر نہ آسکے۔
ترک حکام نے الزام عائد کیا کہ سعودی ایجنٹوں کی ایک ٹیم نے قونصل خانےکے اندر خاشقجی کو قتل کیا اور انکی لاش کے ٹکڑے کرکے لاش ٹھکانے لگا دی گئی ۔ انکی لاش آج تک نہیں ملی ۔
ترکی نے سعودی عرب سے ملزمان کی حوالگی کا مطالبہ کیا جسے ریاض نے مسترد کردیا۔ ایسے میں ترکی نے 2020میں ملزمان کی عدم موجودگی میں مقدمہ چلانا شروع کردیا۔
اب چند روز سے مقدمے کو سعودی عرب منتقل کرنےکے حوالےاطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ منتقلی کیلئے دلائل دیتے ہوئے استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ سعودی پروسیکیوٹر جنرل کی درخواست پر مقدمہ سعودی عرب منتقل کیا جارہا ہے ۔
پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ چونکہ وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد نہیں ہو سکتا اور بیانات نہیں لیے جا سکتے، اس لیے ترکی میں مقدمہ غیر نتیجہ خیز رہے گا۔
