استنبول میں منعقد ہونے والی فلم ڈپلومیسی کانفرنس 2025 میں فنکاروں اور فلم سازوں نے بین الاقوامی تعلقات میں سینما کے تاریخی اور مؤثر کردار کو اجاگر کرتے ہوئے ثقافتی غلبے (کلچرل امپیریلزم) سے خبردار کیا۔ کانفرنس میں ترک فلم “ایلا (Ayla)” کو ایک مؤثر سافٹ پاور مثال کے طور پر پیش کیا گیا، جس نے ترکیہ اور جنوبی کوریا کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معروف کمپوزر براک سایگِلی نے کہا کہ کیمرے کی ایجاد کے بعد سے فلم سفارت کاری کا ایک اہم ذریعہ رہی ہے، جو تاریخ اور کہانی کے ذریعے اقوام کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریر سے اسکرین اور اب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک کا سفر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ جدید سفارت کاری ڈیجیٹل میڈیا کو سنجیدگی سے اپنائے۔
براک سایگِلی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ثقافتی سفارت کاری کو کسی ایک ثقافت کے غلبے میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ثقافتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ترقی کرنی چاہیے، نہ کہ ایک ثقافت کو دوسری پر مسلط کیا جائے، خصوصاً عالمی سطح پر یکساں مواد پیش کرنے والے بڑے اسٹوڈیوز کے تناظر میں۔
کانفرنس میں 2017 کی ترک-کوریائی مشترکہ فلم “ایلا” کو فلم ڈپلومیسی کی کامیاب مثال قرار دیا گیا۔ فلم کے ہدایت کار جان اولکائے نے بتایا کہ اس فلم نے عالمی ناظرین میں کوریائی جنگ کے بارے میں شعور اجاگر کیا، جبکہ ایک سیاسی نوجوان نمائندے کے مطابق فلم کا ایک منظر ترکیہ کے امن پسند کردار کی علامت بن کر ابھرا۔ فلم کو ترکیہ اور جنوبی کوریا کے درمیان ثقافتی اور سفارتی تعلقات میں بہتری کا ذریعہ بھی قرار دیا گیا۔
تین روزہ کانفرنس، جس کا موضوع “لینز کے ذریعے سفارت کاروں کی تیاری” تھا، میں دنیا بھر سے شرکاء نے شرکت کی۔ پروگرام میں تربیتی ورکشاپس، امن کے موضوع پر 24 گھنٹے کی فلم چیلنج سرگرمی اور ایوارڈ تقاریب شامل تھیں، جن کے فیصلے سفارت کاروں اور فلم سازوں نے کیے۔
کانفرنس کا مقصد کہانی اور سینما کے ذریعے بین الثقافتی ہم آہنگی، عالمی مکالمے اور تعاون کو فروغ دینا تھا، جسے شرکاء نے جدید سفارت کاری کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔
