Turkiya-Logo-top

ترک دنیا میں اتحاد اور ڈیجیٹل انقلاب کے لیے ترکیہ کا نیا وژن

قازقستان کے شہر ترکستان میں "تنظیم برائے ترک ریاست” (OTS) کے زیر اہتمام "مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ترقی ” کے نام سے غیر رسمی سربراہی اجلاس منعقد ہوا جس کا مقصد خطے کے ممالک کو جدید دور کے تکنیکی چیلنجز کے لیے تیار کرنا ہے۔
ترک ممالک اپنے قدرتی وسائل، خام مال، نوجوان افرادی قوت اور سٹریٹجک جغرافیائی پوزیشن کے باعث دنیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، اس اجلاس کا بنیادی مقصد ایک ایسی مشترکہ طویل مدتی حکمتِ عملی تیار کرنا ہے جس کے ذریعے یہ بلاک ایک کثیر القطبی دنیا میں ایک خودمختار، مستحکم اور مضبوط عالمی طاقت بن کر ابھر سکے۔

اس اہم سمٹ کی یادگار کے طور پر ترکستان شہر میں "مرکزِ ترک تہذیب” (سینٹر آف ترک سولائزیشن) کا افتتاح کیا گیا، یہ مرکز ترک دنیا کے تاریخی، سائنسی اور روحانی ورثے کو محفوظ کرے گا، یہ مرکز سیاحت، سائنسی تحقیق اور باہمی عوامی روابط کے فروغ کا بنیادی محور ہوگا، بحیرہ کیسپیئن سے گزرنے والے "مڈل کوریڈور” کو مشرق اور مغرب کے درمیان سب سے محفوظ، سستا اور تیز ترین تجارتی راستہ قرار دیا گیا، اس پر کام تیز کرنے کا عزم کیا گیا، اس کوریڈور کی ترقی سے چین، وسطی ایشیا اور یورپ کے درمیان مال برداری کا وقت آدھا ہو جائے گا اور سپلائی چین پر چند ممالک کی اجارہ داری ختم ہوگی۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے خطاب میں کہا، اب وقت آ گیا ہے کہ ترک دنیا ڈیجیٹل وژن میں اتحاد کو بھی اپنا لازمی اصول بنائے، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو بعض عالمی قوتیں تسلط اور ثقافتی اثراندازی کے لیے استعمال کر رہی ہیں،

ترک صدر نے کہا ترکیہ او ٹی ایس کے تحت سائبر سیکیورٹی نیٹ ورک اور ڈیٹا شیئرنگ پورٹل کو ترجیح دے گا

اپنے خطاب میں ترک صدر نے کہا کہ فلسطین، لبنان، ایران اور یوکرین کے بحران ظاہر کرتے ہیں کہ دفاعی تعاون اور صنعتی خود کفالت ناگزیر ہے

یاد رہے تنظیم برائے ترک ریاست ترکش زبان بولنے والے ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور سیکیورٹی تعاون کو فروغ دینے کے لیے قائم کی گئی ہے جس کا بنیادی مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی رابطوں کو مضبوط بنانا، مشترکہ ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانا اور خطے میں استحکام و یکجہتی کو فروغ دینا ہے۔

Read Previous

ترکیہ کی نوجوان نسل میں ریکارڈ اضافہ، خواتین تعلیم میں مردوں سے آگے

Leave a Reply