fbpx
ozIstanbul

ترکی کا ترکک کونسل پر عالمی مسائل پر مل کر کام کرنے پر زور

صدر رجب طیب ایردوان نے ترکک کونسل کے رہنماوں کے ساتھ مل کر استنبول میں کونسل کے جنرل سیکرٹریٹ کی عمارت کی باضابطہ افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔

صدر ایردوان نے ترکک کونسل کے آٹھویں سربراہی اجلاس سے قبل تاریخی سلطان احمد ضلع میں سیکرٹریٹ آفس میں رکن ممالک کے سربراہان سے ملاقات کی۔

تقریب میں آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف،قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف، کرغزستان کے صدر صدیر جاپاروف اور ازبک صدر شوکت مرزیوف نے شرکت کی۔

مبصر ریاست کے طور پر ہنگری کی نمائندگی کرنے والے وزیر اعظم وکٹر اوربان بھی موجود تھے۔

ترکمان صدر گربنگولی بردی محمدوف نے پہلی بار بطور مبصر اپنے ملک کی نمائندگی کی۔

ترکک کونسل کے سیکرٹری جنرل بغداد امرئیف نے بھی تقریب میں شرکت کی۔

صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ ترکک کونسل کے ارکاندہشت گردی، موسماتی تبدیلی، زینوفوبیا اور اسلاموفوبیا سمیت عالمی مسائل سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں۔

ترک بولنے والے ممالک کی تعاون کونسل ترکک کونسل کا آٹھواں سربراہی اجلاس استنبول کے جنوب مشرق میں ایک جزیرے پر منعقد ہوا۔

ڈیجیٹل دور میں گرین ٹیکنالوجیز اور سمارٹ سٹیز کے موضوع کے تحت منعقد ہونے والی میٹنگ کی میزبانی صدر ایردوان نے کی۔

اجلاس کے دوران تنظیم کا نام بدل کر ترک ریاستوں کی تنظیم رکھ دیا گیا ہے۔

صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ ہم ہر قسم کی جنگ کے خلاف اپنی جنگ جارکنے کے لیے پر عزم ہیں۔

انہوں نے گرین ڈیولپمنٹ کے لیے مشترکہ پروجیکٹوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ قدرتی آفات پر، انہوں نے اراکین کے لیے کوششوں کو مربوط کرنے کے لیے "آرگنائزیشن آف ٹرکش سٹیٹس سول پروٹیکشن میکانزم” کے قیام کی تجویز پیش کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں اسلامو فوبیا اور زینو فوبیا جیسی تباہ کن دھاروں کے خلاف جنگ میں مل کر کام کرنا چاہیے، جو ہمارے وقت کا طاعون ہیں۔”

اس دوران ایردوان نے کہا کہ ترک ریاستوں کی تنظیم نے افریقی ممالک کو 2.5 ملین کوویڈ 19 ویکسین عطیہ کیں جن میں سے 2 ملین صرف ترکی نے عطیہ کیں۔

ترک کونسل کا قیام 2009 میں ترک زبان بولنے والی ریاستوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا تھا۔

پچھلا پڑھیں

بھارتی سکھ مسافروں کےلیے پاکستان نے 3 ہزار ویزے جاری کردیے

اگلا پڑھیں

کھرب پتی ماڈل پیرس ہلٹن نے 40 سال کی عمر میں شادی کر لی

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے