ozIstanbul

ترکی خواتین حقوق کے "استنبول کنونشن” سے دستبردار، ہم جنس پرست معاہدے کا غلط استعمال کر رہے ہیں

صدر رجب طیب ایردوان نے خواتین کے حقوق کے "استنبول کنونشن” سے ترکی کے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں صدارتی حکم جاری کر دیا گیا ہے

استنبول کنونشن 2011 میں طے پایا تھا جس میں خواتین پر تشدد اور انہیں گھریلو تشدد سے بچانے کے لئے اقدامات اور قوانین تجویز کئے گئے تھے۔

استنبول کنونشن کو "کونسل آف یورپ کنونشن آن پریوینٹنگ اینڈ کومبیٹنگ وائیولینس اگینسٹ وویمن اینڈ ڈومیسٹک وائیولینس” کہا جاتا ہے۔ اس کنونشن کے تحت ممبر ممالک خواتین پر تشدد کو روکنے کے قوانین بنانے کے پابند ہیں۔

ترکی نے سب سے پہلے اس کنونشن پر دستخط کئے تھے لیکن فی الحال ترکی نے کنونشن سے دستبرداری کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔

اس کنونشن کے مخالفین کا کہنا تھا کہ اس سے خاندانی نظام کو شدید خطرات لاحق ہو گئے تھے۔ طلاقوں کی شرح بڑھ گئی تھی۔ ترک معاشرے میں ہم جنس پرستوں کا غلبہ ہوتا جا رہا تھا کیونکہ وہ اس کنونشن کا غلط استعمال کر رہے تھے۔

صدر ایردوان کی طرف سے استنبول کنونشن سے دستبرداری کے اعلان کے فوری بعد نائب صدر فواد اوکتے نے کہا کہ حکومت ترک خواتین کی عزت و حرمت اور تقدس کو اس کا مناسب حق دینے کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے۔ خواتین کے سماجی حقوق کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔ حکومت کسی بیرونی طاقت کے دباؤ کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ خواتین کے حقوق کے لئے ترکی کو کسی کی ڈکٹیشن کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اسلام ہی خواتین کے حقوق کا اصل محافظ ہے۔

ترک وزیر سماجی امور زہرہ زمرد سلجوق نے کہا کہ ترک آئین اور مقامی قوانین خواتین کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ خواتین پر تشدد انسانیت کے خلاف جرم ہے اور جرم کے خلاف لڑنا انسانی حقوق کا اصل چہرہ ہے۔ ترک خواتین کے حقوق کی حفاظت ہر صورت کی جائے گی۔ حکومت نے خواتین پر تشدد کے خاتمے کا عزم کیا ہوا ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ استنبول کنونشن سے دستبرداری کے مخالفین کا کہنا ہے ترکی یورپین یونین کے اقدار سے مزید پیچھے چلا گیا ہے۔ اس دستبرداری سے ترکی کے لئے یورپین یونین کی رکنیت کے دروازے بند ہو جائیں گے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ استنبول کنونشن سے دستبرداری کی منظوری پارلیمنٹ سے لی جائے اور یہ معاملہ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے۔

پچھلا پڑھیں

کورونا وائرس: استنبول میں صورتحال سنگین ہو گئی، حکومت مشکل میں گھِر گئی

اگلا پڑھیں

ترک وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے استنبول میں ملاقات

تبصرہ شامل کریں