ترکی نے کابل ائیر پورٹ کی سیکورٹی سنبھلانے کا فیصلہ ترک کر دیا ہے، ترک حکام کے مطابق ترکی کابل ائیر پورٹ پر اپنی فوج نہیں رکھے گا البتہ طالبان نے اگر امداد کا کہا تو ہم تیار ہیں۔
ترک حکومت نے افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا کے بعد کابل ائیر پورٹ کے سیکورٹی انتظامات سنبھالنے کی پیشکش کی تھی ۔ اس حوالے سے ترکی امریکہ اور افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ رابطے میں تھا۔ تاہم طالبا ن کے افغانستان پر قبضے کے بعد ترکی نے ا ئیر پورٹ سے 600 افراد پر مشتعمل فوج کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سے قبل طالبان نے ترکی کو کابل ائیرپورٹ پر اپنے فوج رکھنے کے حوالے سے وارننگ دی تھی جسے ترکی نے مسترد کر دیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت جو صورتحال بن گئی ایسے میں ترکی کو کابل ائیر پورٹ سے نکل جانا ہی بہتر ہے۔ ائیر پورٹ پر افراتفری کا عالم ہے افغانی شہری بھی ملک میں نہیں رہنا چاہتے۔
اس سے علاوہ اگر طالبان ہم سے کسی قسم کی سیکورٹی اور تکنیکی مدد کی ضرورت ہوئی تو ہم ضرور کریں گے۔
طالبان کے افغانستان میں داخل ہونے تک ترکی اپنے موقف پر قائم تھا۔ ترکی کا کہنا تھا کہ ختمی فیصلے سے قبل بدلتی صورتحال کا جائزہ لینا اہم ہے۔
