انطالیہ: ترکیہ کے ساحلی شہر انطالیہ میں عالمی ماحولیاتی رہنماؤں، اعلیٰ حکام اور اقوامِ متحدہ کے سابق موسمیاتی نمائندوں کا ایک انتہائی اہم مشاورتی اجلاس کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد COP31 سے قبل موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے آئندہ 5 سالہ عالمی لائحہ عمل تیار کرنا تھا۔
اجلاس کی میزبانی ‘زیرو ویسٹ فاؤنڈیشن’ (Zero Waste Foundation) نے کی، جس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں صفر فضلہ (Zero Waste) اور سرکلر اکانومی (Circular Economy) کو عالمی ماحولیاتی حکمت عملی کا مرکزی حصہ بنانے پر زور دیا گیا۔
استنبول میں دنیا کے سب سے بڑے ‘زیرو ویسٹ فورم’ کا اعلان
افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے زیرو ویسٹ فاؤنڈیشن کے صدر سامیڈ آغیرباش نے ایک اہم اعلان کیا:
- عالمی تحریک: 2017 میں شروع ہونے والا زیرو ویسٹ منصوبہ اب ایک عالمی تحریک بن چکا ہے۔
- آئندہ فورم: رواں سال 5 سے 7 جون کے دوران استنبول میں ایک عظیم الشان ‘زیرو ویسٹ فورم’ منعقد کیا جائے گا جس میں 150 سے زائد ممالک کی شرکت متوقع ہے۔ یہ فورم ماحولیات کے حوالے سے دنیا کا سب سے بڑا شہری پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔
- مشترکہ حکمت عملی: ترکیہ میں اقوامِ متحدہ کے مختلف دفاتر کو ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کے تحت لایا جا رہا ہے تاکہ مشترکہ اقدامات کیے جا سکیں۔
ماحولیاتی دباؤ اور موسمیاتی سفارتکاری کی ضرورت
اجلاس میں خطے اور دنیا کو درپیش ماحولیاتی چیلنجز پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا:
- سیاحت اور زراعت کا دباؤ: انطالیہ کے گورنر حلوصی شاہین نے نشاندہی کی کہ بڑھتی ہوئی سیاحت اور زرعی سرگرمیوں کی وجہ سے خطے پر ماحولیاتی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس لیے آنے والی نسلوں کے لیے پائیدار ترقی کے اصولوں پر سختی سے عمل ناگزیر ہے۔
- کچرے کا عالمی بحران: ترکیہ کے سابق وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو نے ہوشربا اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ دنیا سالانہ دو ارب ٹن سے زائد کچرا پیدا کر رہی ہے، جبکہ اربوں افراد بنیادی ویسٹ مینجمنٹ کی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موثر موسمیاتی سفارت کاری کے بغیر اس بحران کو حل نہیں کیا جا سکتا۔
نوجوانوں کا کردار اور نئے آئیڈیاز
اجلاس میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے نوجوانوں کی شمولیت کو کلیدی قرار دیا گیا۔ نوجوان امور کے ماہر عمر طیب ایردوان نے زور دیا کہ دنیا بھر کے نوجوان ماحولیات بچانے کے لیے جدید اور بہترین خیالات پیش کر رہے ہیں، تاہم ان آئیڈیاز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک مؤثر عالمی نظام کی ضرورت ہے۔
مشترکہ اعلامیہ: "زیرو ویسٹ ورکنگ گروپ برائے موسمیاتی تبدیلی”
پروگرام کے اختتام پر تمام ماحولیاتی رہنماؤں نے متفقہ طور پر ایک مشترکہ اعلامیہ منظور کیا۔ اس اعلامیے کی رو سے:
- موسمیاتی اقدامات کو فوری طور پر عملی شکل دی جائے گی۔
- عالمی سطح پر ماحولیاتی شراکت داری اور غیر سرکاری اداروں (NGOs) کا کردار مضبوط کیا جائے گا۔
- استنبول میں “زیرو ویسٹ ورکنگ گروپ برائے موسمیاتی تبدیلی” کے باقاعدہ قیام کا اعلان کیا گیا، جو عالمی ماحولیاتی حکمت عملی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کام کرے گا۔
