Turkiya-Logo-top

ترک فضائی حدود کی اسرائیلی پروازوں کے لیے بندش: اسرائیلی صدر کا طیارہ 8 گھنٹے کا طویل متبادل راستہ اختیار کرنے پر مجبور

ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان سفارتی و تجارتی تعلقات کے تعطل کی وجہ سے اسرائیلی صدر کے طیارے کو قازقستان جاتے ہوئے اپنی پرواز کی مسافت کے دورانیے کو بڑھانا پڑ گیا۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ 27 اپریل 2026 بروز پیر کو دو روزہ سرکاری دورے پر قازقستان کے لیے روانہ ہوئے۔ ترک میڈیا کے مطابق ہرزوگ کے طیارے نے قازقستان کے دارالحکومت آستانہ پہنچنے کے لیے آٹھ گھنٹوں کا متبادل راستہ اختیار کیا کیونکہ وہ ترک فضائی حدود استعمال نہیں کر سکتے تھے۔

اسرائیل کے چینل 12 نے بھی خبر دی کہ ہرزوگ کے طیارے نے ترک فضائی حدود سے بچنے کے لیے متبادل راستہ اختیار کیا۔

خبر میں بتایا گیا ہے کہ ہرزوگ کو لے جانے والا طیارہ ترکیہ کی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی کی وجہ سے یورپ اور روس کی ائیرسپیس کے ذریعے 8 گھنٹے میں قازقستان پہنچا، جو کہ براستہ ترکیہ محض 5 گھنٹوں کا براہ راست سفر ہے۔ جس کے بعد اسرائیلی صدر ہرزوگ نے سوشل میڈیا پیغام کے ذریعے اعلان کیا کہ وہ قازقستان کے دارالحکومت آستانہ پہنچ گئے ہیں۔

پس منظر:


واضح رہے کہ 1949 میں ترکیہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والا پہلا مسلم اکثریتی ملک تھا، تاہم غزہ میں جاری موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی نچلی سطح پر ہیں۔ موجودہ حکومت کے اقدام سے ترکیہ نے فی الحال اسرائیل کے ساتھ تمام تر تجارت معطل کر رکھی ہے جس کا تسلسل اسرائیلی پروازوں کے لیے ترک فضائی حدود کی بندش کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ در اصل غزہ پر حملوں کے بعد ترکیہ نے اسرائیل کے ساتھ تمام درآمدات اور برآمدات معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ساتھ ہی ترکیہ نے اپنے اسرائیل میں تعینات سفیر کو واپس طلب کر کے سفارتی تعلقات بھی معطل کر دیے۔
یہی وجوہات ہیں کہ انقرہ کے حکام نے اسرائیلی صدر کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت بھی نہیں دی۔ انقرہ کی جانب سے اس اقدام کو سفارتی حلقوں میں ترکیہ کے سخت موقف کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Read Previous

بنگلہ دیش کے پہلے جوہری بجلی گھر کا افتتاح، روپپور پلانٹ میں ایندھن کی لوڈنگ شروع

Read Next

ترکیہ کی دفاعی صنعت کا عالمی معرکہ؛ اسپین کے ساتھ 3 ارب ڈالر کا تاریخی دفاعی معاہدہ، حُرجیٹ طیاروں کی فروخت

Leave a Reply