Turkiya-Logo-top

ترکیہ عالمِ اسلام کی سب سے بڑی معیشت بن گیا؛ صدر ایردوان نے کیسی پالیسیوں کو اپنایا؟

انقرہ: حالیہ بین الاقوامی مالیاتی اعداد و شمار اور عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق، ترکیہ باضابطہ طور پر جی ڈی پی (GDP) کے لحاظ سے انڈونیشیا پر برتری حاصل کرتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی مسلمان معیشت بن کر ابھرا ہے۔

صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت میں مسلسل صنعتی ترقی، دفاعی برآمدات میں ریکارڈ اضافے اور اسٹریٹجک جغرافیائی محلِ وقوع نے ترکیہ کو انڈونیشیا اور سعودی عرب جیسے بڑے ممالک سے آگے نکال دیا ہے۔

ترکیہ کی معیشت کے نئے سنگِ میل (2026 کے اعداد و شمار)

تازہ ترین بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، ترکیہ کی معیشت نے کئی اہم سنگ میل عبور کیے ہیں:

  • ترکیہ کی مجموعی قومی پیداوار (Nominal GDP) 1.64 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
  • عالمی درجہ بندی کے حساب سے ترکیہ اب دنیا کی 16ویں سب سے بڑی معیشت (Nominal GDP کی بنیاد پر) بن گیا ہے۔
  • مساوی قوتِ خرید (PPP) کے لحاظ سے ترکیہ کا حجم 4 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے اور یہ دنیا کی 11ویں بڑی طاقت بن چکا ہے۔

عالمِ اسلام کی 10 سب سے بڑی معاشی طاقتیں (GDP کے لحاظ سے)

  1. ترکیہ: 1.64 ٹریلین ڈالر
  2. انڈونیشیا: 1.41 ٹریلین ڈالر
  3. سعودی عرب: 1.25 ٹریلین ڈالر
  4. متحدہ عرب امارات: 621 بلین ڈالر
  5. ملائیشیا: 516 بلین ڈالر
  6. بنگلہ دیش: 510 بلین ڈالر
  7. مصر: 429 بلین ڈالر
  8. پاکستان: 410 بلین ڈالر
  9. نائجیریا: 377 بلین ڈالر
  10. قازقستان: 360 بلین ڈالر

صدر ایردوان کی قیادت اور معاشی ویژن

اس شاندار کامیابی کے پیچھے صدر ایردوان کی گزشتہ دو دہائیوں پر محیط وہ پالیسیاں کارفرما ہیں، جنہوں نے ترکیہ کو ایک زرعی معیشت سے بدل کر جدید صنعتی قوت میں تبدیل کر دیا۔ ان کی پالیسیوں کے اہم ستون درج ذیل ہیں:

1. خود انحصاری اور "میڈ ان ترکیہ” مہم ایردوان حکومت نے درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے مقامی صنعتوں کی بھرپور سرپرستی کی۔ خاص طور پر دفاعی شعبے میں ترکیہ کو 80 فیصد تک خود کفیل بنانا صدر ایردوان کا ایک بڑا کارنامہ مانا جاتا ہے۔

2. میگا پراجیکٹس اور انفراسٹرکچر ان کے دورِ حکومت میں انفراسٹرکچر پر بے پناہ سرمایہ کاری کی گئی۔ استنبول ایئرپورٹ اور ‘کینال استنبول’ جیسے بڑے منصوبوں نے ترکیہ کو عالمی تجارت کا مرکز بنا دیا۔ ایشیا اور یورپ کو ملانے والے نئے پلوں اور سرنگوں (جیسے مارمارے پروجیکٹ) نے لاجسٹکس کی لاگت کم کر کے تجارت کو تیز تر کیا۔

3. اسٹریٹجک خارجہ پالیسی اور تجارتی راہداریاں ایردوان نے افریقہ، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے کیے۔ "مرکزی راہداری” (Middle Corridor) کے ذریعے چین اور یورپ کے درمیان ترکیہ کو ایک ناگزیر تجارتی پل بنا دیا گیا ہے۔

4. توانائی کا سیکٹر اور دفاعی صنعت

  • توانائی: بحیرہ اسود میں گیس کے ذخائر کی دریافت اور نیوکلیئر پاور پلانٹس کی تعمیر مستقبل میں اربوں ڈالر کی بچت کریں گی۔
  • دفاع: ترکیہ اب اسلحہ درآمد کرنے کے بجائے ڈرونز، لڑاکا طیاروں اور بحری جہازوں کا ایک بڑا اور معتبر ایکسپورٹر بن چکا ہے۔

5. صنعتی تنوع اور سیاحت

  • ترکیہ کی آٹوموبیل، ٹیکسٹائل اور ہوم اپلائنسز انڈسٹری یورپی منڈیوں میں اپنا لوہا منوا رہی ہے۔
  • سیاحت کے شعبے میں 2025 اور 2026 میں ترکیہ نے ریکارڈ تعداد میں سیاحوں کی میزبانی کر کے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کیے۔

چیلنجز اور مستقبل کے اہداف

صدر ایردوان نے طویل عرصے تک "کم شرحِ سود” کی پالیسی پر زور دیا جس سے پیداوار تو بڑھی، لیکن افراطِ زر (مہنگائی) میں بھی اضافہ ہوا۔ عالم اسلام کی سب سے بڑی معیشت بننے کے باوجود کرنسی (لیرا) کا عدم استحکام ایک چیلنج ہے۔ تاہم، اب متوازن معاشی ٹیم کے ذریعے سخت مالیاتی پالیسیاں اپنا کر معیشت کو دوبارہ استحکام کی راہ پر گامزن کیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کی رائے: ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ترکیہ اپنی موجودہ 3.4% سے 4% کی شرحِ نمو برقرار رکھتا ہے، تو وہ 2030 تک دنیا کی دس بڑی معیشتوں میں شامل ہو جائے گا۔

ترکیہ کا مسلم دنیا کی معاشی قیادت (Economic Powerhouse) کے طور پر ابھرنا عالمِ اسلام کے لیے یہ واضح پیغام ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی خود انحصاری کے ذریعے عالمی سطح پر باآسانی مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

Read Previous

استنبول میں یومِ مزدور کی تقریبات —سخت انتظامات کے ساتھ یومِ مزدور منانے کا اعلان

Read Next

ایران نے امریکہ سے مذاکرات کی نئی تجاویز پاکستان کو بھجوا دی، ایرانی میڈیا

Leave a Reply