ozIstanbul

ترکی اور قطر کا کابل ائیرپورٹ کا انتظام مشترکہ طورپر سنبھالنے کا امکان

ترکی اور قطر نے افغانستان کے طالبان کے زیر کنٹرول ہوائی اڈے کو مشترکہ طور پر چلانے کا امکان ظاہر کردیا۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان دو روزہ دورے پر دوحہ پہنچے، ان کی آمد سے قبل ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے قطری ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس بریفنگ میں بتایا کہ ’ہم مل کر کام کرنے جارہے ہیں‘۔

قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے کہا کہ ’قطر اور ترکی ہوائی اڈے کو معمول کے مطابق کھولنے کے لیے ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے افغانستان کی عبوری حکومت کے ساتھ مسلسل کام کر رہے ہیں‘۔

رجب طیب اہردوان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ترکی، توانائی سے مالا مال خلیجی خطے میں سابق حریفوں کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بشمول متحدہ عرب امارات جس کے ولی عہد نے گزشتہ ماہ 2012 کے بعد پہلی بار ترکی کا دورہ کیا تھا۔

انقرہ اور اس کے خلیجی حریفوں کے درمیان 2017 میں عرب ممالک کی طرف سے سعودی عرب کی قیادت میں قطر پر پابندی کے بعد تناؤ بڑھ گیا تھا۔

انقرہ نے اس تنازع میں قطر کی حمایت کی تھی اور اس کے بعد سے دونوں ممالک قریب تر ہو گئے ہیں، ترکی اس وقت اقتصادی بحران سے دوچار ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری اور تجارت کی تلاش میں ہے۔

دوحہ روانگی سے قبل استنبول کے ہوائی اڈے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ ہم تمام خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کے حق میں ہیں اور وہ تمام خلیجی ریاستوں کے ساتھ قریبی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے اس دورے کا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ ’رواں سال کے آغاز سے قطر پر عائد پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں۔ اس وقت خلیجی ممالک کے درمیان یکجہتی بحال ہو رہی ہے‘۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان کے قطر کے دورے کے دوران دونوں ممالک درجنوں معاہدوں پر دستخط کریں گے۔

منصوبے سے باخبر دو افراد نے کہا کہ ترک صدر دورہ قطر کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی بھی کوشش کریں گے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان رواں ہفتے براہ راست ملاقات کا امکان کم نظر آتا ہے لیکن جلد ہی ملاقات ہو سکتی ہے۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلی ملاقات ہوگی۔

رجب طیب ایردوان ایسے موقع پر اہم علاقائی اتحادی ملک قطر پہنچے ہیں جب ترکی کرنسی میں تاریخی گراوٹ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور شرح سود میں کٹوتیوں کے بعد معاشی بحران کا شکار ہے، جس کی وجہ سے اسے سخت تنقید کا بھی سامنا ہے۔

دوحہ میں نیوز بریفنگ میں وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے کہا کہ ترکی کا دوحہ سے مالی مدد طلب کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے کہا کہ قطر، ترکی کے اقتصادی چیلنجز سے ابھرنے والے مواقع کو دیکھ رہا ہے۔

سعودی عرب کے شہزادہ محمد بن سلمان دوحہ کا دورہ کرنے والے ہیں۔

ان منصوبوں سے باخبر ترک اور خلیجی عہدیداران نے بتایا کہ قطر میں ایردوان اور سعودی ولی عہدد کے درمیان ملاقات طے کرنے کے لیے بات چیت ہوئی تھی۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ترک اہلکار نے کہا کہ ’دو رہنماؤں کی ملاقاتوں کے شیڈول کو دیکھتے ہوئے ایسا نہیں لگتا کہ اس ہفتے کوئی جامع ملاقات ہوگی، لیکن یہ ممکن ہے کہ ملاقات جلد ہو کیونکہ علاقائی مسائل حل ہو چکے ہیں اور اب تعاون کے بہت سے مواقع ہیں‘۔

سعودی حکومت کی جانب سے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

سعودی ولی عہد کے ناقد جمال خاشقجی کے قتل پر سیاسی تناؤ دو علاقائی طاقتوں کے درمیان تجارت میں حائل ہوگیا تھا اور سعودی عرب نے گزشتہ سال ترکی کی درآمدات کا غیر سرکاری بائیکاٹ کردیا تھا۔

اکتوبر 2018 میں سعودی ایجنٹوں کی جانب سے جمال خاشقجی کو قتل کرنے کے بعد رجب طیب ایردوان نے کہا تھا کہ یہ حکم سعودی حکومت کی ’اعلیٰ ترین سطح‘ سے آیا ہے، حالانکہ انہوں نے شہزادہ محمد بن سلمان کا نام نہیں لیا، جو سعودی عرب کے اصل حکمران ہیں۔

فروری میں جاری ہونے والے ایک امریکی انٹیلی جنس کے جائزے میں پتا چلا کہ ولی عہد نے قتل کی منظوری دی تھی تاہم سعودی عرب اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔

سعودی عرب اور ترکی حالیہ مہینوں میں علاقائی مسائل، سیاسی اور اسلامی نظریات پر دیرینہ اختلافات کے باوجود تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ہفتے کے روز فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے سعودی عرب میں ملاقات کی، وہ صدر جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سعودیہ عرب کا دورہ کرنے والے پہلے بڑے مغربی رہنما ہیں۔

قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی کا کہنا تھا کہ اردوان اور ولی عہد کے دوحہ کے دوروں کا وقت ایک اتفاق ہے۔

انہوں نے کہا کہ قطر، ترکی میں بھاری سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے اور ہم ایسے مواقع کا انتظار کر رہے ہیں جو بات چیت سے سامنے آسکتے ہیں۔

ترکی اور قطر نے افغانستان کے طالبان کے زیر کنٹرول ہوائی اڈے کو مشترکہ طور پر چلانے کا امکان ظاہر کردیا۔

ترک صدر رجب طیب اردوان دو روزہ دورے پر دوحہ پہنچے، ان کی آمد سے قبل ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اوغلو نے قطری ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس بریفنگ میں بتایا کہ ’ہم مل کر کام کرنے جارہے ہیں‘۔

قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے کہا کہ ’قطر اور ترکی ہوائی اڈے کو معمول کے مطابق کھولنے کے لیے ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے افغانستان کی عبوری حکومت کے ساتھ مسلسل کام کر رہے ہیں‘۔

رجب طیب ایردوان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ترکی، توانائی سے مالا مال خلیجی خطے میں سابق حریفوں کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بشمول متحدہ عرب امارات جس کے ولی عہد نے گزشتہ ماہ 2012 کے بعد پہلی بار ترکی کا دورہ کیا تھا۔

انقرہ اور اس کے خلیجی حریفوں کے درمیان 2017 میں عرب ممالک کی طرف سے سعودی عرب کی قیادت میں قطر پر پابندی کے بعد تناؤ بڑھ گیا تھا۔

انقرہ نے اس تنازع میں قطر کی حمایت کی تھی اور اس کے بعد سے دونوں ممالک قریب تر ہو گئے ہیں، ترکی اس وقت اقتصادی بحران سے دوچار ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری اور تجارت کی تلاش میں ہے۔

دوحہ روانگی سے قبل استنبول کے ہوائی اڈے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ ہم تمام خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کے حق میں ہیں اور وہ تمام خلیجی ریاستوں کے ساتھ قریبی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے اس دورے کا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ ’رواں سال کے آغاز سے قطر پر عائد پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں۔ اس وقت خلیجی ممالک کے درمیان یکجہتی بحال ہو رہی ہے‘۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان کے قطر کے دورے کے دوران دونوں ممالک درجنوں معاہدوں پر دستخط کریں گے۔

منصوبے سے باخبر دو افراد نے کہا کہ ترک صدر دورہ قطر کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی بھی کوشش کریں گے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان رواں ہفتے براہ راست ملاقات کا امکان کم نظر آتا ہے لیکن جلد ہی ملاقات ہو سکتی ہے۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلی ملاقات ہوگی۔

رجب طیب ایردوان ایسے موقع پر اہم علاقائی اتحادی ملک قطر پہنچے ہیں جب ترکی کرنسی میں تاریخی گراوٹ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور شرح سود میں کٹوتیوں کے بعد معاشی بحران کا شکار ہے، جس کی وجہ سے اسے سخت تنقید کا بھی سامنا ہے۔

دوحہ میں نیوز بریفنگ میں وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے کہا کہ ترکی کا دوحہ سے مالی مدد طلب کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے کہا کہ قطر، ترکی کے اقتصادی چیلنجز سے ابھرنے والے مواقع کو دیکھ رہا ہے۔

سعودی عرب کے شہزادہ محمد بن سلمان بدھ کو دوحہ کا دورہ کرنے والے ہیں۔

ان منصوبوں سے باخبر ترک اور خلیجی عہدیداران نے بتایا کہ قطر میں اردوان اور سعودی ولی عہدد کے درمیان ملاقات طے کرنے کے لیے بات چیت ہوئی تھی۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ترک اہلکار نے کہا کہ ’دو رہنماؤں کی ملاقاتوں کے شیڈول کو دیکھتے ہوئے ایسا نہیں لگتا کہ اس ہفتے کوئی جامع ملاقات ہوگی، لیکن یہ ممکن ہے کہ ملاقات جلد ہو کیونکہ علاقائی مسائل حل ہو چکے ہیں اور اب تعاون کے بہت سے مواقع ہیں‘۔

سعودی حکومت کی جانب سے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

سعودی ولی عہد کے ناقد جمال خاشقجی کے قتل پر سیاسی تناؤ دو علاقائی طاقتوں کے درمیان تجارت میں حائل ہوگیا تھا اور سعودی عرب نے گزشتہ سال ترکی کی درآمدات کا غیر سرکاری بائیکاٹ کردیا تھا۔

اکتوبر 2018 میں سعودی ایجنٹوں کی جانب سے جمال خاشقجی کو قتل کرنے کے بعد رجب طیب اردوان نے کہا تھا کہ یہ حکم سعودی حکومت کی ’اعلیٰ ترین سطح‘ سے آیا ہے، حالانکہ انہوں نے شہزادہ محمد بن سلمان کا نام نہیں لیا، جو سعودی عرب کے اصل حکمران ہیں۔

فروری میں جاری ہونے والے ایک امریکی انٹیلی جنس کے جائزے میں پتا چلا کہ ولی عہد نے قتل کی منظوری دی تھی تاہم سعودی عرب اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔

سعودی عرب اور ترکی حالیہ مہینوں میں علاقائی مسائل، سیاسی اور اسلامی نظریات پر دیرینہ اختلافات کے باوجود تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ہفتے کے روز فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے سعودی عرب میں ملاقات کی، وہ صدر جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سعودیہ عرب کا دورہ کرنے والے پہلے بڑے مغربی رہنما ہیں۔

قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی کا کہنا تھا کہ اردوان اور ولی عہد کے دوحہ کے دوروں کا وقت ایک اتفاق ہے۔

انہوں نے کہا کہ قطر، ترکی میں بھاری سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے اور ہم ایسے مواقع کا انتظار کر رہے ہیں جو بات چیت سے سامنے آسکتے ہیں۔

پچھلا پڑھیں

ترکی اور قطر کے درمیان 15 نئے معاہدوں پر دستخط

اگلا پڑھیں

کرکٹ: بنگلہ دیش کو شکست دے کر پاکستان نے نیا عالمی ریکارڈ قائم کر لیا

تبصرہ شامل کریں