ozIstanbul

ترکی ڈیجیٹل خانہ بدوشوں کے لیے اہم مقام

ترکی ڈیجیٹل خانہ بدوشوں کے لیے اہم مقام بن گیا۔

پہلا صنعتی انقلاب 200 سال پہلے برطانیہ میں شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہوری دنیا میں پھیل گیا جس نے لوگوں کے کام کرنے اور پیسہ کمانے کے طریقے کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا۔

بنیادی طور پر زراعت اور د یہی معاشروں نے بڑے پیمانے پر نئے مینو فیچرنگ کے عمل کو اپنایا اور صنعت کی طرف انکا رحجان بڑھنے لگا۔

نئی مشینری کی ترقی نے بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کی، لیکن افرادی قوت کو مخصوص جگہوں اور کام کے سخت اوقات کا پابند بنایا گیا۔

ٹیکنالوجی میں پیش رفت کے بعد دنیا اب چوتھے صنعتی انقلاب کی طرف چل پڑی ہے جس نے اصل اور ڈیجیٹل دنیا کے درمیان فاصلے کو کم کر دیا ہے۔

کورونا وائرس وبائی مرض کے پھیلاو کے باعث دنیا کا طرز زندگی بلکل بدل گیا کیونکہ ان مشکل حالات میں لاکھوں لوگوں کو گھر سے کام کرنے کا کہا گیا۔

جبکہ کچھ لوگوں نے وبائی مرض کے باعث لگنے والے  لاک ڈاون کے بعد بھی اپنی ضروریات زندگی کو مکمل کرنے کے لیے ورک فرام ہوم کو ہی ترجیح دی۔

ڈچ انٹر پرینیر پایٹر لیولز کا کہنا ہے کہ 2035 تک کروڑوں لوگ ورک فرام ہوم کے طریقوں کو اپنی روز مرہ زندگی کا اہم حصہ بنا لیں گی۔

پچھلا پڑھیں

اسلام آباد: سفارتکاروں کی بیگمات کا یتیم بچوں کے لئے بڑا اقدام

اگلا پڑھیں

پاکستان: پاک فوج کی جانب سے بابر کروز میزائل ون کا کامیاب تجربہ کر لیا گیا

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے