ابراہیم قالن اور امریکی مشیر رابرٹ سی اوبرائن کا آرمینیا -آذربائیجان صورتحال پر تبادلہ خیال

صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ سی او برائن سے ٹیلی فونک ملاقات کی۔

ایوان ِ صدر سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق مذاکرات میں دو طرفہ تعلقات، آرمینیا کے آذربائیجان پر حملے، مشرقی بحیرہ روم کی تازہ پیش رفت اور لیبیا و دیگر علاقائی معاملات پر غور کیا گیا ۔

اس بات چیت میں ترکی کے آذربائیجان اور آرمینیا کے مابین انسانی بنیادوں پر اعلان کردہ فائر بندی کی حمایت کرنے، پائدار حل کے محض آرمینیا کے بالائی قاراباغ اور گرد و نواح کے علاقوں پر قبضے کو چھوڑنے کے ساتھ ہی ممکن بن سکنے پر زور دیا گیا ہے۔

ابراہیم قالن کی جانب سے آرمینیا کے آذربائیجا ن میں سول عوام کو ہدف بنانے والے حملوں کے عالمی قوانین کے منافی اور ناقابلِ قبول ہونے کا ذکر بھی کیا گیا۔ بات چیت میں آذری سر زمین کی سالمیت کو ممکن بنانے کے معاملے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور یورپی سلامتی و تعاون تنظیم کی قرار دادوں کے دائرہ کار میں عالمی برادری کی جانب سے اس ضمن میں ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت کا بھی اعادہ کیا گیا ۔

مشرقی بحیرہ روم میں ترکی کی نیک نیتی اور ڈائیلاگ کی بنیادوں پر مبنی موقف کی بدولت تناؤ میں کمی آنے اور تشکیل پانے والی مذاکرات کی زمین کی حمایت میں اقدامات اٹھائے جانے کی توقع کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ملاقات میں اس جانب اشارہ دیا گیا ہے کہ ترکی کی جانب سے تجویز کردہ مشرقی بحیرہ روم کانفرس کا انعقاد علاقائی امن کے قیام میں خدمات فراہم کرے گا۔

اس ملاقات میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا ہے کہ ترکی امریکہ سے مشرقی بحیرہ روم کے معاملے میں منصفانہ اور غیر جانبدار مؤقف کا مظاہرہ کرنے کی توقع رکھتا ہے۔

Read Previous

ترکی یو ای ایف اے نیشن لیگ میں سربیا کی میز بانی کرے گا

Read Next

اب بھارت اور پاکستان کی جنگ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا: صدر آزاد کشمیر

Leave a Reply