تحریر: معوذ حسن
اورحان پامک کا سفید قلعہ کوئی عالی شان قلعہ نہیں جس کے برج بہت اونچے ہوں، فصیلیں اپنی مثال آپ ہوں اور سطوتِ شاہی کا ایک شاندار نمونہ ہو بلکہ یہ وجودیت پر سوال اٹھاتی ایک بھرپور کہانی ہے۔
میں کون ہوں؟ کیا ہوں؟ کہاں سے آیا ہوں؟ اچھا کیا ہے؟ بُرا کیا ہے؟ کون ہے آقا اور غلام کون ہے؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جو اس ناول میں اٹھائے گئے جس کی کہانی بظاہر تو سلطنتِ عثمانیہ کے وسط کی ہے لیکن آج کے انسان کو بھی یہی المیہ درپیش ہے۔
اورحان پامُک ترکیہ کے ایک عظیم ناول نگار اور مصنف ہیں جو اپنی ابتدائی کتابوں سے ہی عالمی دُنیا میں پہچانے جانے لگے۔ ان کے کئی ناولوں کا ترجمہ انگریزی سمیت دُنیا کی متعدد زبانوں میں ہو چکا ہے۔”سُرخ میرا نام” کے عنوان سے ان کے ایک ناول کو نوبل انعام بھی مِلا۔وہ نا صرف ترکیہ بلکہ پوری دُنیا کے علمی و ادبی حلقوں میں ایک سنجیدہ اور معتبر نام ہیں۔
اورحان پامُک کا معروف ناول سفید قلعہ 1980 میں پہلی مرتبہ ترکی زُبان میں شائع ہوا اور ایک دہائی میں اِسے اتنی مقبولیت مِل گئی کہ اِس کا ترجمہ انگریزی سمیت دُنیا کی کئی زُبانوں میں کیا گیا۔لیکن اُردو میں اِسے 2008 میں ترجمہ کر کے شائع کیا گیا۔ اس کے مترجم محمد عُمر میمن ہیں جو اُردو کی کئی اہم کتابیں انگریزی میں منتقل کر چُکے ہیں اور اِسی طرح عالمی ادب کو بھی اُردو قارئین کی طرف اپنے رواں ترجمے کے ذریعے پہنچا چُکے ہیں۔
سفید قلعہ کی کہانی سولہویں صدی کے عُثمانی دور کی ایک کہانی ہے جِس میں ترکیہ کا ایک بحری بیڑا اٹلی پر حملہ آور ہوتا ہے اور وہاں سے بہت سا مالِ غنیمت اور سینکڑوں غُلام استنبول کے حضور پیش کرتا ہے۔پہلے پہل تو غلاموں کو ایک قید خانے میں بند کر دیا جاتا ہے اور ان کی مکمل تفتیش کی جاتی ہے لیکن اُن میں سے ایک ہوشیار غلام جو علمِ طِب اور ستاروں کے متعلق جانکاری رکھتا ہے اُس کو الگ کر دیا جاتا ہے۔اُس غلام کو ایک پاشا کے سپرد کیا جاتا ہے اور پاشا کے دِل میں بھی وہ اپنے طریقہء علاج اور علم کی بدولت بہت جلد گھر کر لیتا ہے۔لیکن کہانی نیا موڑ تب اختیار کرتی ہے جب پاشا کے محل میں اُس کا ایک دوست اُس غلام میں دِلچسپی لینا شروع کرتا ہے۔وہ اُس غلام کے ساتھ مِل کر پاشا کے لیے ایک شاندار آتش بازی کا اہتمام کرتا ہے جِس میں زیادہ کمال اُس غلام کا ہوتا ہے۔پاشا کا دوست خوجہ (جِس کے پورے نام کا ناول میں کہیں ذکر نہیں) اس غلام کو بھاری قیمت ادا کر کے خرید لیتا ہے۔ اب وہ دونوں ایک ہی گھر میں رہنے لگتے ہیں۔خوجہ کو سائنس میں جنون حد تک کی دِلچسپی ہے اور وہ روزانہ گھنٹوں اپنے غلام سے مختلف سوالات پوچھتا ہے ۔ دونوں ہم شکل بھی ہیں اور سب سے دِلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں کی شناخت پورے ناول میں مکمل طور پر بیان نہیں کی گئی۔
خوجہ کے ذہن میں آئے روز نِت نئے منصوبے بنتے ہیں، وہ کچھ بہت بڑا کرنا چاہتا اور اس کے لیے وہ کئی سال جدوجہد بھی کرتا ہے لیکن اس کے ذہن میں کبھی کوئی تصویر مکمل نہیں بنتی۔ اب خوجہ اور کہانی کا دوسرا کردار یعنی غلام، غلام نہیں بلکہ دوست ہیں اور ایک دوسرے سے بے تکلف گفتگو کرتے ہیں۔
سلطان کی وفات کے بعد 8 سالہ شہزادے کو سُلطان بنا دیا جاتا ہے جس کا دربار خوشامدیوں اور حاسدوں سے بھرا ہوا ہے، ایسے وقتوں میں خوجہ شاہی محل تک رسائی حاصل کرتا ہے اور سلطان کے لیے چند پیشین گوئیاں کرتا ہے جو بعد میں سچ ثابت ہوتی ہیں۔ یوں خوجہ نئے سلطان کو پسند آنے لگتا ہے۔ خوجہ کی زندگی کا بس ایک ہی مقصد ہے کہ اُسے ایک عظیم سائنسدان کے طور پر یاد رکھا جائے اور اسی مقصد کے لیے وہ اپنے غلام سے اُس کا سارا علم سیکھنا چاہتا ہے۔ وہ دونوں رات طویل ملاقاتیں کرتے ہیں لیکن کہانی کا تیسرا حصہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جب پورے مُلک میں طاعون کی وبا پھیلتی ہے اور لوگ تیزی سے مرنے لگتے ہیں۔ وبا کے شروع میں تو خوجہ اس کا علاج ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے لیکن جب کوئی دوا کامیاب نہیں ہوتی تو وہ ڈر کے مارے بیٹھ جاتا ہے اور خود کو اپنے غلام سے الگ کر لیتا ہے۔ طاؤن کی اِس مدت میں خوجہ شدید بدحواس رہتا ہے، کبھی وہ اپنے غلام کو بُرا بھلا کہتا ہے کہ تمہیں اِس کا علاج پتہ ہے لیکن تم نہیں بتاتے تو کبھی کئی کئی دِن اپنے کمرے سے ہی باہر نہیں نکلتا۔ پھر ایک دِن دونوں ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر لکھنا شروع کر دیتے ہیں، اپنے ماضی کی تلخ اور اچھی یادیں، زندگی کے تجربات، اپنے نظریات، نفسیات اور اس طرح کے بہت سے موضوعات وہ قرطاس پر نچھاور کرتے ہیں ۔اور اپنے اندر کے انسان کو تلاشنے کی کوشش کرتے ہیں۔ طاؤن کے دورانیے میں جہاں ہر طرف لوگ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں یہ لوگ وہاں بھی اپنا آپ تلاشنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں کون ہوں؟ ہم کون ہیں؟ وہ کون ہیں؟
کہانی کا چوتھا اور آخری حصہ خوجہ کے سائنسی ہتھیار کے متعلق ہے جس میں وہ ایک ہتھیار کا عجیب و غریب نقشہ تیار کرتا ہے، سلطان کی اُسے مکمل اعانت حاصل ہوتی ہے اور اُسے مزدور وغیرہ بھی مل جاتے ہیں کیوں کہ شاہی منجم حسنین آفندی کی ملک بدری کے بعد خوجہ سلطان کے لیے منجمی کے فرائض سر انجام دیتا ہے۔ اور اِس سے قبل شاہی محل میں بغاوت کی پیش گوئی بھی خوجہ کی جانب سے ہی کی گئی ہوتی ہے۔ خیر ان تھک محنت، سرمایہ اور دماغ خرچ کرنے کے بعد جب یہ ہتھیار تیار ہوتا ہے تو شاہی جرنیل اُسے قبولنے سے انکار کر دیتے ہیں لیکن سُلطان خوجہ کا دل رکھنے کے لیے اُس ہتھیار کو اپنے ساتھ ایک مہم پر لے جاتا ہے۔ یہ ہتھیار جسامت میں بڑا دیو ہیکل اور بھاری ہے جسے کھینچنے کے لیے بھی گھوڑوں کا ایک لشکر درکار ہے لہٰذا چھوٹے موٹے معرکوں میں اسے استعمال نہیں کیا جاتا۔ ایک قلع فتح کرتے سمے یہ ہتھیار اپنی جسامت اور تکنیکی خرابیوں کے باعث ناکام ہو جاتا ہے اور یہاں خوجہ بھاگ جاتا ہے اور اُس کا غلام بھی اُس سے الگ ہو کر اپنے مُلک واپس چلا جاتا ہے اور ایک نامور مصنف بن جاتا ہے۔ الگ ہونے کے بعد دونوں ایک دوسرے کے بارے میں لکھتے ہیں جس کا متن ناول کے آخری ابواب میں شامل ہے۔
اس ناول کے کُل 13 ابواب ہیں اور کہانی کو زمانی اعتبار سے تقسیم کیا گیا ہے۔ تاریخ کے منہ سے نکلی ہوئی اس کہانی میں وجودیت کے مسئلے پر طویل مباحث کیے گئے ہیں اور فلسفے، سائنس ، عثمانی دور کی ترک ثقافت اور عوامی اور شاہی رویوں کو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ پورے ناول میں روانی کہیں ٹوٹتی ہوئی محسوس نہیں ہوتی اور ترجمے میں بھی اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ یہ اورحان پامُک کا تیسرا ناول ہے اور اِسی وجہ سے انہیں عالمی ادبی حلقوں میں جانا جانے لگا اور بعد ازاں انہیں 2006 میں ان کے ایک ناول یعنی "سُرخ میرا نام” پر ادب کا نوبل انعام بھی ملا۔ سنجیدہ ادب کے قارئین کے لیے یقیناً سفید قلعہ اورحان پامک کا ایک بہترین تعارف ہوگا جس سے ان کی باقی تصانیف میں بھی دلچسپی پیدا ہوگی۔
