fbpx
ozIstanbul

نظر کی زبانی

تحریر:طاہرے گونیش

پنیر کا ٹکڑا پلیٹ میں چھوڑ کر نمکین زیتون منہ میں رکھ کر وہ جوتے پہن کر گھر سے باہر آئی، ششلی کی حربیہ گلی میں معمول کے کام ہو رہے تھے۔ اشرف عمجا کی دکان اور چہرے پر وہی ‘لمٹ سیز’  یعنی لامحدود چائے کے اہتمام

 کا سائن بورڈ لٹکا ہوا تھا اور وہ اے سی تعمیر کرتے تھے۔

ان کی پچاس سالہ زندگانی میں انھوں نے کوئی کام ایسا نہیں کیا جو ان کے شایان شان تھا ۔

ڈھلوانی گلی میں عمودی چڑھائی چڑھتے اسے خیال آیا کہ استنبول جو پوری دنیا کے لئے عجوبہ ہے اپنے باسیوں کے لئے ایک زحمت کا نمونہ ہے۔ روز اس گلی سے گزرنا کتنا دشوار ہے۔  ششلی کے گنجان آباد ڈسٹرکٹ میں  چلتے ہوئے چپل چھپانا بے وقوفی ہی ہو سکتی تھی۔اس نے مزید بے وقوفی نہ کرنے کا ارادہ باندہ لیا تھا۔خیال کی ڈوری ٹوٹی بھی تو کہاں ! ‘شوک’ یعنی حیرت انگیز سپر سٹور پر، جہاں سے اسے جوس کی بوتل لینی تھی۔گرمی میں جسم میں نمکیات کی کمی ہوجاتی تھی۔

وہ پیسے دینے کاونٹر پر جانے لگی تو دیکھا رفیقہ تائی اور خالصہ تائی آلو تلاش کر رہی تھیں بوری میں۔ ایک کو بڑے آلو چاہیے تھے ایک کو چھوٹے۔ لالچ دونوں کی بدن بولی تھی۔ وہ ان کو تاسف سے دیکھ کر باہر نکلی۔ شامی خاتون راستے میں گھڑیاں بیچ رہی تھی۔ اس نے گھڑیاں دیکھنے کو نیچے دیکھا تو پاؤں پر نظر پڑی۔ یہ کیا وہ تو دیوان خانے میں پہننے والا جوتا پہن کف باہر نکلی تھی ۔

اے واہ اب دادی اگر غسل خانے سے نکلیں اور جوتا نہ پائیں تو قیامت آئے گی۔ ایک شامت یہاں تھی درون دل اور نوبت کا نقارہ پوری زور سے بج رہا تھا۔ اتنی زور سے کہ اس کے قدم رکھتے ہی راہ میں دانہ دنکا چگنے کو رکے کبوتر پھررر سے اڑ گئے۔

خیر ہے کچھ نہیں ہوتا شرمندگی کے احساس پر بے حسی کا غلاف چڑھانا سود مند ثابت نہ ہو رہا تھا۔مگر عنابی قمیص کے ساتھ لاجوردی جوتے  کون پہنتا ہے۔

خیر مجھےکون دیکھے گا۔ اف فرغل یا خرقہ پہنتی تو چھپا سکتی تھی۔ مگر کیا کیا چھپاؤں؟ بس بہت ہوگیا!

وہ پھر سے یاد کے سمندر میں اترنا نہ چاہتی تھی۔

تقسیم کی جانب نکل کر اسے بس نمبر 58T  لینی تھی  ایوب سلطان ڈسٹرکٹ  جانے کو۔ اف لوگ سچ کہتے ہیں سپین کے زیتون ربڑیلےہوتے ہیں ۔ کب سے چبا رہی ہوں ختم نہیں ہورہا۔

بس میں بیٹھ کر اسے اپنی بے دھیانی کا غصہ زیتون کے دانے پر نکالنا پڑا۔

بس آگے چلی جا رہی تھی۔

اس کا ذہن پیچھے کی طرف جا رہا تھا

وہ  حضرت یوشع کی تربت پر حاضری کے وقت کیسی غائب دماغی کے عالم میں تھی۔ وہاں بیٹھ کر بس دیوار کا پتھر ہونا چاہتی تھی۔ جانےکس طرح کیبل کار میں پہنچی پھر بلندی سے پستی کا سفر شروع ہوا۔

وہ نشان تاشی  میں ریستوران کے شیف کا زنجبیل والا سلاد پیش کرنا پھر چائے پوچھنا اور لوقوم بھی لا دینا۔

اتنی مہربانی کا کارن؟

چہرے کی مسکینی؟ مگر وہ تو سنگینی تھی جو سنگ دل سے ٹپکی تھی۔ مسکینی تو ایسی نہیں ہوتی۔  بس کے دروازے کھلے تو یاد کے در بند ہوئے۔

نادم سی وہ اتر آئی۔

میسیر معجون ( رنگ برنگی الاسٹک نما کینڈی) ، پاموک شکر (کاٹن کینڈی) ،سیمیت  ( ترکش ڈونٹس)بیچتے لوگ اسے معمول کا حصہ لگے۔

وہ کیا لینے آئی تھی؟

الٹے سر کی شہزادی ایک سلطان سے کیا مانگنے آئی تھی۔ میزبان کی مہمان بن کر کیا ملنا تھا۔اب تو چاک ہونے کو گریبان کا کوئی چپہ نہ بچا تھا۔

اب تو خود سے روٹھے بھی تقویم نے کئی دن کی کروٹ لی تھی۔ اب کیا بچا تھا۔ اب کیا بچانا تھا۔ اب کیا ان سنی ان کہی تھی کیا بتانا تھا کیا سنانا تھا؟

خاموشی؟ وہ تو کبھی نصیب نہ ہوئی، دھڑکن جو سانس کی رفتار پر گلے میں آکر چیختی تھی۔

کیسا سکوت کیسی خاموشی؟

تو کیا کر لی جائے واپسی؟

جوتے؟ یہاں تک تو خلق کے نظارے کا سامان بنی تھی اب آگے چند قدم اور بن جاتی پھر رش میں کھو جاتی کسی گوشے میں ڈبل کر بیٹھ جاتی کسے یاد رہتا کس نے کیا پہنا ہے۔

کیسا مکار ہے انسان تدبیریں لڑاتا ہے۔ کس کے سامنے ؟

خیر الماکرین کے سامنے!!جو اس کے ارادے زیتون کی نرم شاخوں کی طرح آندھیوں سے توڑتا ہے۔

زیتون سے یاد آیا تالو میں گھٹلی چپکی تھی۔اس نے وہیں رہنے دی۔

جم غفیر کو چیرتی ہوئی،مرکزی باب کے پاس پہریدرا چنار اور اندر شاہ بلوط کا پیڑ عبور کرکے جیسے وہ کسی بچھڑے ہوئے سے آن ملی تھی۔

سبھی لوگ دیوانہ وار دست بدعا تھے۔ اور اس کے پیڑ ایک مختلف جوتا پہننے پر خفا تھے۔حضرت یوشع کے مزار پر بھی تو یہی کچھ ہوا تھا۔ ہاتھ دعا کے لئے بلند نہ ہوتے تھے آنکھ ندامت سے اٹھ نہ رہی تھی اور آنسو گر رہے تھے۔ اسے خالی لوٹنا پڑا تھا۔

کیا تھا جسے بہہ جانا تھا اور آنسوؤں  کا حیلہ بہانہ تھا۔

آج تلاش کی گھڑی تھی۔ اسے تلاشنا تھا۔ ورنہ کسی وجہ کو بے سبب تراشنا تھا کہ وہ یہاں کیوں حاضر ہوئی ہے۔جمعرات کے دن۔زیارت کے دن زیارت کس شے کی کرنی ہے۔ کیا اس سعادت کی جو ابو ایوب انصاری کے حصے میں میزبان رسول بن کر آئی ؟

ہاں یہی عین یہی!

خوش نصیبی کا مصدر معلوم کرنا تھا۔ خوش نصیب کیسے بنا جاتا ہے؟ کیا سب سے الگ تھلگ رہ کر۔ یا پھر کسی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ کر کچھ بھی نہ کرکے۔ اور پھر دیوار بھی کیسی۔ لوگ قطار در قطار مزار کے احاطے میں داخل ہو کر دعا درود پڑھ کر اگلے دروازے سے نکل رہے تھے۔ وہ جامد ہوگئی تھی دیوار سے پشت لگا کر چپک گئی تھی ۔ اس دیوار میں ایک طاقچہ بنا تھا جو سنہری اور سبز رومالوں سے  سجا تھا۔

اس میں چاندی کے صنادیق میں مہر  آنجانب، موئے مبارک مصطفی، اور دیگر تبرکات رکھے تھے۔

اتنے نگاہوں کی عقیدت کا مرکز بن کر کیسا لگتا ہوگا ان تبرکات کو؟ میں کب طنز سے نکل کر تبرکات و تحسین پاؤں گی؟

آنسوؤں  کو نکلنے کا موقع نہ مل رہا تھا آنکھ عقیدت سے بھری تھی۔

مگر دامن پھر بھی اس امید سے بھری تھی کہ

سرخ سیب  یعنی استنبول میں سیاہ بختوں کو سہارا میزبان نبی کا مقبرہ ہی ہے۔ زیتون کی گھٹلی تالو سے چپکی پڑی تھی۔

پچھلا پڑھیں

اسرائیل: مذہبی اجتماع کے دوران بھگدڑ میں 44افراد ہلاک، 150 زخمی

اگلا پڑھیں

موبائل کا پاسورڈ مانگنا مہنگا پڑ گیا، دوست نے دوست کی جان لے لی

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے