صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے کہا ہے کہ ایسے وقت میں جب ان کا ملک اپنی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو درپیش خطرات کا سامنا کر رہا ہے، ترکیہ کی حمایت سومالیہ کے لیے نہایت اہم اور حوصلہ افزا ثابت ہوئی ہے۔
یہ بات انہوں نے منگل کے روز استنبول میں صدارتی دولماباہچے ورکنگ آفس میں ترک صدر رجب طیب ایردوان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ صدر حسن شیخ محمود نے مشکل حالات میں صومالیہ کی حمایت اور قیادت پر صدر ایردوان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ خاص طور پر ایسے دور میں جب صومالیہ کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو چیلنجز درپیش ہیں، سومالی عوام نے ترکیہ اور ترک عوام کی غیرمتزلزل حمایت کو محسوس کیا ہے۔ صدر محمود کے مطابق صومالیہ ایک مضبوط ریاستی نظام کے قیام اور اپنی سرحدی خودمختاری کے تحفظ کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔
صدرِ سومالیہ نے یاد دلایا کہ ترکیہ ماضی میں بھی صومالیہ اور صومالی لینڈ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر چکا ہے اور اب بھی اس مسئلے کو پُرامن اور دوستانہ انداز میں حل کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ایردوان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ترکیہ صومالیہ کے ساتھ کھڑا رہے گا اور اس کی حمایت جاری رکھے گا، جو سومالیہ کے امن، استحکام، ترقی اور بحالی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
صدر حسن شیخ محمود نے بتایا کہ ان کی صدر ایردوان سے ملاقات میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط اور وسعت دینے پر بھی بات چیت ہوئی، جبکہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان بالخصوص سیکیورٹی اور انسانی امداد کے شعبوں میں تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے سومالیہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے والے تمام برادر ممالک، علاقائی اداروں اور تنظیموں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے جارحانہ رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات، جن کا اثر سومالیہ پر بھی پڑتا ہو، ناقابلِ قبول ہیں۔
صدر محمود کے مطابق اس قسم کا طرزِ عمل بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کے منشور اور ان اصولوں کی خلاف ورزی ہے جن کی بنیاد پر افریقی یونین قائم ہوئی۔ انہوں نے زور دیا کہ علاقائی سالمیت، خودمختاری اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت عالمی نظام کی بنیادی اقدار ہیں۔
صدرِ صومالیہ نے ترکیہ کے ساتھ تیل اور گیس کی تلاش اور ترقی کے شعبے میں جاری تعاون کو بھی سراہا اور کہا کہ یہ اقدامات سومالیہ کی طویل مدتی معاشی بحالی اور قومی استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ان کے مطابق سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں اور جلد ہی ڈرلنگ کا آغاز متوقع ہے، جس سے صومالیہ 2026 کا مضبوط آغاز کر سکے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ سومالیہ کے قدرتی وسائل سومالی عوام کی ملکیت ہیں اور انہیں شفافیت، مساوات اور آنے والی نسلوں کی ذمہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کیا جانا چاہیے۔ صدر محمود نے کہا کہ یہ تمام کوششیں ترکیہ کی مستقل حمایت کے ساتھ، صومالیہ کے قومی مفادات، خودمختاری اور ترقی کے عزم کی عکاس ہیں۔
واضح رہے کہ جمعے کے روز اسرائیل دنیا کا پہلا ملک بنا جس نے صومالی لینڈ کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔ صومالی لینڈ نے 1991 میں صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا، تاہم اب تک اسے عالمی سطح پر باضابطہ تسلیم نہیں کیا گیا اور یہ علاقہ عملی طور پر ایک الگ انتظامی، سیاسی اور سیکیورٹی ڈھانچے کے تحت کام کر رہا ہے۔
