Turkiya-Logo-top

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات: تزویراتی اتحاد سے براہِ راست تصادم تک کا سفر

گزشتہ نصف دہائی کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی نقشے پر رونما ہونے والی سب سے بڑی تبدیلی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مابین پیدا ہونے والا وہ تزویراتی شگاف ہے، جس نے خطے کے پرانے اتحادوں کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ جو دو ریاستیں کبھی ایران کے خلاف ایک آہنی دیوار اور علاقائی استحکام کی علامت سمجھی جاتی تھیں، اب وہ یمن کے میدانِ جنگ سے لے کر اوپیک پلس کے اجلاسوں اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑی ہیں۔ 2019 سے 2025 تک کا عرصہ اس "تزویراتی ہم آہنگی” کے مکمل خاتمے اور ایک ایسی بے رحم قومی مسابقت کے آغاز کا گواہ ہے جہاں اب سمجھوتے کی گنجائش مسلسل کم ہو رہی ہے۔

اس سیاسی ارتقاء کو سمجھنے کے لیے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور اماراتی صدر محمد بن زید کے بدلتے ہوئے ذاتی تعلقات کا تجزیہ ناگزیر ہے۔ ایک وقت تھا جب محمد بن زید، سعودی ولی عہد کے اتالیق اور واشنگٹن میں ان کے سب سے بڑے سفارشی کے طور پر جانے جاتے تھے۔ 2015 میں شاہ سلمان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے اماراتی قیادت نے محمد بن سلمان کی امیج سازی اور انہیں مغرب میں "اصلاح کی امید کی کرن” بنا کر پیش کرنے میں غیر معمولی سرمایہ کاری کی تھی۔ اس دور میں یمن کی جنگ ہو یا قطر کا بائیکاٹ، دونوں رہنما ایک ہی صفحے پر ہوتے تھے۔

لیکن پھر محمد بن سلمان نے اپنی "داخلی گرفت مضبوط” کرنے کے بعد خود کو اماراتی اثر و رسوخ کے سائے سے نکالنا شروع کر دیا۔ 2021 میں قطر کے ساتھ "العلا” معاہدہ وہ پہلا بڑا موڑ تھا جہاں سعودی عرب نے امارات کو اعتماد میں لیے بغیر آزادانہ فیصلہ سازی کا ثبوت دیا تھا، اور جس نے دونوں کے مابین تلخی کی بنیاد رکھی تھی۔

تعلقات میں یہ سرد مہری اس وقت ایک سنگین سفارتی بحران میں بدل گئی جب دسمبر 2022 میں ریاض میں صحافیوں کے ساتھ ایک غیر رسمی نشست کے دوران محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کی "پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے”۔  امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل (WSJ) نے اسے شہہ سرخی کے طور پر چھاپا۔ اس کے بعد سے دونوں رہنماؤں کے مابین براہِ راست رابطہ عملی طور پر ختم ہو چکا ہے اور وہ ایک دوسرے کے زیرِ اہتمام ہونے والے اہم اجلاسوں میں شرکت نہیں کرتے۔

 اس کشیدگی کا نقطہ عروج دسمبر 2025 کے اواخر میں سعودی فضائیہ کی یمن کی بندرگاہ مکلا پر براہِ راست بمباری تھی۔ ریاض نے اس حملے کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا کہ اماراتی بندرگاہ فجیرہ سے آنے والے بحری جہاز یمن کی سدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC) کو اسلحہ فراہم کر رہے تھے، جو سعودی مفادات کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ سعودی وزارتِ خارجہ نے اسے اپنی قومی سلامتی کے لیے "ریڈ لائن” قرار دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں پر اماراتی نواز ملیشیاؤں کی مہم جوئی اب مزید برداشت نہیں کرے گا۔

یمن کا بحران دراصل ان دونوں ممالک کے متصادم مفادات کا سب سے اہم عکاس ہے۔ سعودی عرب ایک متحد یمن کا خواہاں ہے تاکہ اس کی جنوبی سرحد محفوظ رہے، جبکہ متحدہ عرب امارات نے یمن کو اپنی بحری بالادستی اور اسٹرٹیجک بندرگاہوں پر قبضے کے لیے استعمال کیا۔ امارات کی جانب سے STC کی پشت پناہی نے یمن کی تقسیم کے خطرات پیدا کیے، جو سعودی عرب کے وفاقی یمن کے منصوبے کے لیے ایک مستقل خطرہ بن چکا ہے۔

سعودی اماراتی کشیدگی کا ایک سنگین رخ "لیاسات” (Al Yasat) کے سمندری علاقے پر اٹھنے والا سرحدی تنازعہ ہے۔ یہ جغرافیائی تنازعہ اس وقت بین الاقوامی سطح پر ابھرا جب سعودی عرب نے اقوامِ متحدہ میں متحدہ عرب امارات کے اس فیصلے کے خلاف باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا جس کے تحت امارات نے لیاسات کو ایک "محفوظ سمندری علاقہ” قرار دیا تھا۔ ریاض کا موقف ہے کہ امارات کا یہ یکطرفہ فیصلہ 1974 کے سرحدی معاہدے کی صریح خلاف ورزی اور سعودی سمندری حدود پر تجاوز ہے۔ یہ سمندری علاقہ نہ صرف تزویراتی لحاظ سے اہم ہے بلکہ تیل اور گیس کے ممکنہ ذخائر کی وجہ سے بھی دونوں ریاستوں کے لیے بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ لیاسات کا تنازعہ ظاہر کرتا ہے کہ اب یہ رقابت صرف سیاسی بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ زمین اور سمندر کی ملکیت کے بنیادی سوالات تک پھیل چکی ہے، جہاں دونوں ممالک اپنے جغرافیائی نقشوں کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔

البتہ سمجھے کی بات یہ ہے کہ سعودی عرب اور امارات کے تنازعے کی اصل بنیاد جیو پولیٹیکل نہیں بلکہ جیو اکنامک ہے۔ کیوں کہ محمد بن سلمان اب دبئی کے معاشی ماڈل کو براہِ راست چیلنج کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کا 2021 کا وہ فیصلہ، جس کے تحت بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے ریاض میں علاقائی ہیڈ کوارٹر بنانا لازمی قرار دیا گیا، دبئی کی معاشی اجارہ داری پر پہلا بڑا وار تھا۔ 2025 کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 600 سے زائد عالمی کمپنیاں دبئی چھوڑ کر ریاض منتقل ہو چکی ہیں، جو کہ اماراتی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

یہ معاشی جنگ صرف دفاتر تک محدود نہیں بلکہ سیاحت اور توانائی کے شعبوں میں بھی پھیل چکی ہے۔ سعودی عرب کے 800 بلین ڈالر کے "نیوم” اور "ریڈ سی” جیسے منصوبے براہِ راست اماراتی سیاحت کے لیے چیلنج ثابت ہونے جا رہے ہیں۔ اسی طرح اوپیک پلس میں تیل کی پیداوار پر ہونے والے جھگڑے اب محض تجارتی نہیں رہے بلکہ سیاسی انا کا مسئلہ بن چکے ہیں۔ امارات اپنی پیداواری صلاحیت بڑھا کر زیادہ منافع کمانا چاہتا ہے جبکہ سعودی عرب قیمتوں پر گرفت برقرار رکھنے کے لیے کٹوتیوں کا حامی ہے۔ 2024 اور 2025 کے دوران سیٹلائٹ ڈیٹا سے یہ ثابت ہوا کہ امارات نے اپنے کوٹے سے زیادہ تیل نکالا، جسے ریاض نے "تزویراتی دھوکہ دہی” قرار دیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ امارات اوپیک سے علیحدگی کی دھمکیاں دے رہا ہے، جو عالمی توانائی کی منڈی میں سعودی بالادستی کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔

دوسری سعودی-اماراتی دشمنی اب سوڈان جیسے ملکوں میں "پروکسی وار” کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ سوڈان کی خانہ جنگی میں امارات کی جانب سے جنرل حمیدتی کی "ریپڈ سپورٹ فورسز” کو جدید ڈرونز اور ہتھیاروں کی فراہمی کا مقصد بحیرہ احمر کی بندرگاہوں پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ اس کے برعکس، سعودی عرب سوڈانی فوج کی حمایت کر رہا ہے کیونکہ وہ بحیرہ احمر میں کسی بھی اماراتی نواز ملیشیا کی موجودگی کو اپنے تزویراتی منصوبوں کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

امارات کی خارجہ پالیسی کا محور "سیاسی اسلام” کا خاتمہ ہے، امارات نے لیبیا، تیونس اور یمن میں اسلام پسند گروپوں کے خلاف ہر حد پار کر کے کارروائیاں کر چکا ہے اور مسلسل کر رہا ہے۔ جبکہ سعودی عرب اب اپنی پالیسیوں میں نسبتا لچک پیدا کر رہا ہے، جس نے دونوں کے مابین نظریاتی خلیج کو مزید وسیع کر دیا ہے۔

مجموعی طور پر، مشرقِ وسطیٰ اب ایک ایسے نئے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں متحدہ عرب امارات اب سعودی عرب کے لیے ایک تزویراتی شراکت دار نہیں بلکہ ایک "وجود کا خطرہ” بن چکا ہے۔ دونوں ریاستیں ایک ہی طرح کے معاشی اہداف اور علاقائی اثر و رسوخ کی جنگ لڑ رہی ہیں، جس کی وجہ سے ان کے درمیان مستقبل قریب میں کسی پائیدار ہم آہنگی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ واشنگٹن اور دیگر عالمی طاقتوں کے لیے ان دو بڑے اتحادیوں کا ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہونا خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ایک نیا اور پیچیدہ چیلنج بن گیا ہے۔

Read Previous

استنبول میں نئے سال کے پہلے دن فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے مارچ

Read Next

ترکیہ دنیا کا چوتھا بڑا ڈیپ سی فلیٹ رکھنے والا ملک بن گیا ، ڈیپ سی ڈرلنگ فلیٹ میں بڑا اضافہ

Leave a Reply