turky-urdu-logo

روس اور یوکرین کے درمیان اعتماد سازی میں بہتری آرہی ہے، ترک وزیر خارجہ

ترک وزیر خارجہ میلوت چاوش اوغلو نے کہا کہنا ہے  کہ روس اور یوکرین کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات "اچھی طرح آگے بڑھ رہے ہیں”۔اور ہم اس مقصد کے لئے اپنی کوششیں جاری رہے ہوئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کریمیا اور ڈونباس علاقوں کی حیثیت کے بارے میں فریقین کے موقف میں بھی تبدیلی آئی ہے۔

سلووینیا کے دارالخلافہ لوبیانہ میں 17 ویں بلیڈ اسٹریٹجک فورم کے دوران ایک پینل میں وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگی قیدیوں کے تبادلے جیسے اعتماد سازی کے اقدامات بھی اچھے طریقے سے چل رہے ہیں۔ اور ہم اس مقصد کے لیے ثالثی بھی کر رہے ہیں۔

اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ تاریخی طور پر یورپ میں ترکوں اور کچھ یورپیوں کے درمیان خوفناک جنگیں ہوئی ہیں۔

وزیر خارجہ  نے کہا کہ وہ دور اب گزر چکا ہے اوریورپ میں حقیقی دوستی پھل پھول چکی ہے۔لہذا، یہ جنگ بھی آج یا کل، جلد یا بدیر ختم ہو جائے گی۔

مگر ہمیں نہیں معلوم کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔

البتہ مستقبل میں ایسی ہی غلطیوں سے بچنے کے لیے اہم بات اس سے سبق سیکھنا ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ ممالک نئی حقیقتوں کو کیسے اپنائیں گے۔

چاوشاوغلو نے کہا کہ مذاکرات کے ذریعے ابتدائی ہفتوں میں تنازع کے حل تک پہنچنا بہت آسان تھا۔

مگر باوجوہ ایسا نہ ہو سکا، حالانکہ ہم نے اس کی بھر پور کو شش کی تھی۔

انہوں نے جنگ کے آغاز سے قبل اس سال کے شروع میں ترکیہ کے شہروں انطالیہ اور استنبول میں یوکرینی اور روسی وفود کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بات چیت کے ذریعے حل تک پہنچنا آسان تھا مگر اب یہ اتنا آسان نہیں ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ایرپین اور بوچا سے جو پریشان کن تصاویر ہم نے دیکھی تھیں، ان کے بعد حالات بدل گئے ہیں۔

آج کے زمینی حقائق نئے ہیں۔ بدقسمتی سے، یوکرین کے ڈونباس علاقے کے علاوہ کچھ شہر زوال پذیر ہیں۔

ہم امن کی بات کر رہے ہیں، لیکن اسے باہمی طور پر قبول کیا جانا چاہیے۔

یوکرین کے لیے منصفانہ امن بھی ہونا چاہیےاور اس کی علاقائی سالمیت بھی ضروری ہے۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اس طرح کی نئی حقیقتیں مزید مذاکرات میںیقینی طور پر ظاہر ہوں گی۔

چاووش اولو نے کہا کہ کریمیا اور ڈونباس علاقوں کی حیثیت کے بارے میں فریقین کے موقف میں بھی تبدیلی آئی ہے۔

Read Previous

اچھے دنوں کی طرح برے وقت میں بھی پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، اسپیکر اسمبلی مصطفی شن توپ

Read Next

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اگلے ہفتے پاکستان کا دورہ کریں گے

Leave a Reply