fbpx
ozIstanbul

"قُبیٰ نامہ”

از قلم: طاہرے گونیش، ترکی
قسط 1
احسن القصص کی قسم!
اقبح اسلوب سے امان کہ ہم تو عین آپ کے عیون کے شایانِ شان ایک داستان نما سفر کی روداد لیے حاضر ہیں۔عید کے پُر مسرت موقع پروہ حسرت بھی ہمارے ساتھ سفارت خانے کے باغ میں مٹھائی کھانے آئی تھی جو دل میں مقیم تھی کہ کوہِ قاف لے چلو۔
مُحلبی(ترکش کسٹرڈ)کا چمچ بھر کر منہ میں ڈالا ہی تھا کہ اوعور بے تشریف لائے۔سفارت خانے کے باغیچے میں سجی محدود سی عید ملن کی تقریب نکتہ عروج پر تھی اور قریبی لوگوں سے فاصلے پر رہ کر سلام دعا کرنا الگ ہی تجربہ تھا۔خیر، او عور بے ویسی ہی گرم جوشی سےگویا ہوئے جیسے کہ وہ مجھےبازار یا سڑک پر دیکھ کر ہوتے ہیں اور مجھ سے دنیا جہاں کے موضوعات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔اس بار ان کو پتا چل گیا تھا کہ ہم سفر کے لیے پر تول رہے ہیں تو مرشدی میں لینے کی درخواست کے لیے حاضر تھے۔میرے زیرِ مشق ناول پر بات چل نکلی تومحترم ایران کو جا نکلے۔بھلا ہو ہمارے نائب سفیر بارَش بے کا جنہوں نے برقت دخل در معقولات کے تحت اوعور بے کو کندھے سے پکڑ کر مجھ سے دور کر کے کہ:
"اوعور دیکھو! تم اس غریب کی جان چھوڑ دو۔کہیں بھی شروع ہو جاتے ہو۔تمہیں ایران کے بارے میں جاننا ہے۔ میری پچھلی پوسٹنگ ایران میں ہی تھی۔میں تمہیں معلومات واٹس ایپ کر دوں گا۔طاہرے کو تقریب کا لطف لینے دو۔یہاں بھی یہ بچی تقریر کرے تم لوگوں کےآگے۔ ”
بارَش بے نے اس وقت بچا لیا۔مگر اس وقت گرم چائےکی اپنی آنکھوں ایسی سرخ پیالی کے آگے جس میں لیموں میری پتلیوں کی طرح گھوم رہا ہےکہ سفر نامہ لکھنے بیٹھی ہوں تونوجوان پاکستانی شاعر، وسیم ناطق کا وہ شعر:
؎اس پری وش نے فقط لفظ سفربولا تھا
فاصلے گھٹنے لگے، راستے ہموار ہوئے
دماغ میں گونج رہا ہے مگر فاصلے طویل تھے اور راستے ناہموار ۔مگر ان سب دشواریوں کے پار ہی توحسن تھا جسےہم تلاشنے جا رہے تھے۔ کیا یہ بھی ایک اتفاق ہی تھا کہ تین سال میں مجھے آذر بائیجان کے شمالی علاقوں کو دریافت کرنے کی چاہ نہ ہوئی۔پھر یوں راہ نہ ہوئی کہ گزشتہ برس جنگ چھڑ گئی اور حیرت انگیز طور پر تیس سال پرانا تنازعہ حل ہو گیا۔کچھ تنازعات کا حل جنگ ہوتا ہے،امن نہیں۔مختلف تناظرمیں کبھی جنگ مسئلہ ہوتی ہے ، کبھی امن کمزوری۔ہمیں اپنی زندگی میں بھی دیکھنا چاہیے کہاں زورِ بازو سے کام بن سکتا ہے، کہاں نگاہِ مردِ مومن سے!
چائے کی پیالی سے دھیان ہٹا ہے تو یادآیا کہ میں سفر نامہ لکھ رہی تھی۔عید کے دوسرے دن مجھے سر درد کے حملے نے نڈھال کر رکھا تھامگر سفر کا جوش کم نہ ہوا تھاکہ زادِ راہ تیار کرنا پڑا۔من پسند سفر میں بےسرو سامانی بھی بخوشی قبول ہوتی ہے لیکن اس قدر بےسروسامانی پر ہمیں نہ سہی ،دنیا کو ضرور اعتراض ہونا تھا ،سو چند انتہائی ضروری اشیاء زنبیل میں ڈالے ہم روانہ ہوئے۔
باکو اس بار سنسان پڑا تھا۔راستے کسی طالع قسمت کی طرح کھلے اور کشادہ پڑے تھے کیوں کہ عید منا نے لوگ اپنے آبائی علاقوں کوکوچ کر چکے تھے۔گاڑیوں اور گندگی سے خالی شہر کی فضا بھی بہت خوش گوار تھی۔موسم اتنا معتدل ہو چلا تھا جتنا کہ تمنا کی جا سکتی تھی۔اب نوبت یہ تھی کہ مجھ جیسی یک پسلی اور پتلی انسان بھی ہلکی فراک وغیر ہ پر گزارا کر سکتی تھی۔سویٹر اور کوٹ کے عذاب اور بوجھ سے نجات ایسے مل چکی تھی جیسے گناہ کا بوجھ ضمیر سے اُترتا ہے مگر حدت اور گرمی میرے لیے خوشی کی بجائےسردرد کی سوغات لاتی ہے۔ کوہِ قاف میں تو یہ درد بھی قبول ہے۔خیر، باکو سے نکل کرآپ مصنوعی جنت سےنکل کرحقیقی جنت زار میں داخل ہوتے ہیں اور ہر جنت تک جانے والا راستہ جہنم سے ہو کر گزرتا ہے۔یقین نہ ہو تو دانتے کی کتاب” طربیہ خداوندی” پڑھ لیجیے۔ جہنم کی تپش کے بعد ہی جنت کی راحت نصیب ہوتی ہے۔یہاں بھی عذاب اگر تھا تو بس بری سڑکوں کا۔میرے ناپختہ عزائم کی طرح تو نہیں مگرگاڑی کو ڈگمگانے والی سڑکیں موجود تھیں۔سوچ رہی تھی کہ کیاصدر صاحب یہاں سے نہ گزرتے ہوں گے؟ پھر یاد آیا کہ بی بی تم ایک عدد پارلیمانی مترجم ہو۔ جب سرکاری گاڑی میں تم بیٹھتی ہو تو کیا تم کو گاڑی میں سڑک کے کھڈے محسوس ہوتے ہیں؟تم کو تو ایک جھٹکا بھی نہیں محسوس ہوتا، پھر کہاں صدر صاحب کی گاڑی؟ خیر میری تحریر کسی آذری صاحبِ اقتدار شخصیت کی نظر سے گزری تو بقول فرازؔ:
؎ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دےدوں
میں نہیں کوئی تو ساحل پہ اُتر جائے گا
کے مصداق میرے لکھنے سے کسی کو تو سکون ملے گا۔اس سے مجھے ایک پرانی ترکش فلم کا کردار یادآیا جو لکھاری ہوتا ہے اور ہر وقت بلدیہ والوں کو گالی دیتا رہتا ہے اور دھمکی دیتا ہے کہ تم لوگ حرام خور ہو،کوئی کام نہیں کرتے،حرام تنخواہ وصول کرتے ہو۔ان شاء اللہ کل میں اخبار میں کالم لکھ کر تم لوگوں کی بےایمانی سرِ عام رکھ دوں گا ،تو اتفاق سے ہوتا یہ ہے کہ ترکی میں حکومت کا تختہ اُلٹ جاتا ہے۔یہ ستر کی دہائی کی بات ہے تو وہ لکھاری بڑی شان سےکھڑکی میں کھڑا ہو کر استنبول کے میئر سے کہتا ہے کہ دیکھا میں نے اخبار میں کالم لکھ کر حکومت کا تختہ ہی اُلٹ دیا ۔تو اِس وقت مجھے بھی اپنا آپ اس لکھاری کے جیسا لگ رہا ہے جس نے لکھ لکھ کر حکومت گرائی مگر میں تو سڑک تعمیر کروانا چاہتی ہوں۔دیکھتے ہیں یہ اتفاق کب ہوتا ہے، ہمارے یہاں سے جانے سے پہلے کہ بعد!
ایک گھنٹے کی مسافت موسیقی کے سنگ طے ہوئی تو لبِ سڑک چند خوش رنگ پھولوں نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کر لی تھی۔ یہاں پہ گوبر کے علاوہ جو چیز بکثرت دیکھی، وہ پھول تھےاور پھول بھی بھلا کون سے، پوست کے پھول، جن سے خشخاش نکلتا ہے اور خشخاش سے فرقہ حشیشین یاد آتا ہے۔ ذہنی رو بھی کیاآوارہ گائے ہے ، جانے کہاں خیال در خیال گھومتی رہتی ہے مگر اس کی لگام میرے پاس ہے تو میں نے اسے قابو کیا۔گاڑی رکوائی۔ موسیقی کا گلا گھونٹااور باہر اُتری۔ قریب ہی ایک اسٹابری فروش کی آنکھیں چمک اُٹھیں کہ خانم شاید کچھ خریدنے آئی ہیں مگر اس کی آنکھیں جلد بجھ گئیں یہ دیکھ کر کہ خانم توقرمزی پھولوں پر جھکی ہوئی ہیں۔واپسی پر اس کی آنکھوں میں یہ تاثر تھا کہ پیشاب کے واسطے گاڑی رکوائی ہوگی مگر یہ راز پھل فروش کو نہیں معلوم تھا کہ طاہرے کو جنگلی پھول کس طور اپنی جانب کھینچتے ہیں کہ اس کا بس چلے تو گاڑی کیا وہ گردشِ زمان روک دے مگر اے کاش کہ اس کا اختیار بڑا ہی محدود ہے۔
سفر دوبارہ شروع ہوا تو میرے دماغ پر” مست درگا ہ” کا بِل بورڈ سوار رہا جو راستے میں نصب تھا۔مجھے لگا یہ کوئی افسانوی سا مے خانہ یا خانقاہ ہو گی۔سڑک کے دو جانب ہریالی اوربھیڑ بکریوں،گایوں اور گھوڑوں کے جوق در جوق ریوڑ تھے۔مطلع بہت ہی صاف تھا جیسےکسی نادم گناہ گار کا من۔ایک جانب آذر بائیجان کے تیل کے کنویں تھےجہاں بڑے ٹینکوں میں تیل ذخیرہ ہوا پڑا تھا۔تیل کی دولت سے مالا مال آذر بائیجان نےاپنے زراعتی شعبے کی طرف دھیان دیر سے دیا جس کا نقصان اور نتیجہ یہ ہوا کہ پیٹرول سستا اور ٹماٹر مہنگے ہیں۔ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں آپ کو دو ٹماٹر دستیاب ہو سکتے ہیں۔یہاں موسم گرم مرطو ب ہونا شروع ہو جاتا ہے جس کا حل اب درخت لگا کرنکالا جا رہا ہے۔اچانک چلتے چلتے میدان ختم ہو کر پہاڑوں کو جنم دینے لگتے ہیں۔مبارک ہو! آپ شابران کے علاقے میں داخل ہو چکے ہیں۔سفر میں راستوں کا حساب دو جمع دو چار کی طرح واضح تھا۔شابران سےآگےقُبیٰ، قُصار اور خاچماز ہمارے مطمحِ نظر تھے۔میری تو آنکھوں کا ندیدہ پن میری بھوری بادام رنگ آنکھوں کی پتلیوں میں سمٹ آیا تھا۔ندیدے پن کی حد ہوتی ہےمگر ارمانی نگاہ کی حد توجیسے سوا ہے۔ان مناظر کو جو میرےپیشِ نظر تھے، میں الفاظ میں سمیٹنے کی کوشش میں گنگ ہو چکی تھی اور کسی کور چشم انسان کی طرح پہلی بار بینائی عطا ہونے پر ہر چیز کو نئے احساس سے دیکھنے میں مگن تھی۔عمر خیام اس وقت ہوتا تو میری حسرت پرایک رُباعی رقم کرتا۔شابران میں داخلے کے وقت حیدر علیوف پارک آپ کے استقبال کے لیے اپنے دَروا کیے ہوئے ہوتا ہے۔آپ بےفکر ہو کر داخل ہو جائیے! سو ہم بھی زناٹے سے داخل ہو گئے۔میری لالچی نگاہیں کسی بلی کی طرح چھیچھڑے یعنی جھنڈے دیکھنے کی کوشش کر رہی تھیں مگر باکو اور گیبیلہ کی طرح یہاں ترکی، پاکستان کے جھنڈے کا نام و نشان تک نہ تھا۔قریب تھا کہ میں لعنت ملامت شروع کرتی یا ان کو نمک حرامی اور توتا چشمی کا طعنہ دے مارتی کہ ایک گاڑی ہمارے آگے گزری جس پر پاکستان، آذر بائیجان اور ترکی کا جھنڈا چپکا ہوا تھا۔انا کو تسکین ملے توکتنا پرسکون احساس ہوتا ہے،یہ مجھے اس لمحےاحساس ہوا تھا۔برتری اور سپاس گزاری کا احساس ہر احساس پر بھاری اور بیش قیمت ہے۔شابران سے ایک گھنٹے کی مسافت پرقُبی ٰشہر آباد ہے مگر ہم ابھی شہر میں داخل نہ ہو رہے تھے۔ہمیں ایک پہاڑی علاقے میں واقع اپنے پانچ ستاروں والے ہوٹل میں پہنچنا تھا ،سو دو رویہ خوب صورت بادام کے درختوں کے بیچ پڑی کرسیوں پر بے فکری سے بیٹھے مردو زن کوچائے پیتے دیکھ کر دل مچل مچل جاتا مگرہم کو آگے جانا تھا۔ہم اب ان بالٹیوں میں لٹکے پھل کو بھی فراموش کر کے آگے بڑھ رہے تھے جو فروخت ہونے کے منتظر آہنی سلاخ پر لٹک رہے تھے۔یہ پھل بھی کسی روز ہماری طرح قدردان کی حسرت میں پتھر بن جائے گا ۔خدانخواستہ بددعا دے کر واپس لینا بھی کوئی ہم سے سیکھے مگر ہم کون سے خلیل اللہ یا ولی کامل ہیں کہ ہماری سنی جائے گی مگر سنی تو گئی تھی۔ہم عجلت کے مارے، مارے مارے پھرتے ہیں، تو کل سے ڈرتے ہیں۔
میرے حافظے میں رنگوں کے جتنے نام تھے،سبھی کو میں نے تمام راہو ں میں جھانک کر مجھےدیکھتے پایاتو لگا جیسے میں کسی متروک شدہ مملکت کی شہزادی ہوں اور وہ میرے استقبال کو کھڑے ہوں اور پھر مایوس ہو کر سر جھکا گئے ہوں نااُمیدی اور دل شکنی کے احساس سے۔

قسط: 2
آہ! معیار پر پورا اترنابھی کس قدر کٹھن ہے! آہ! دلبری کا مقام حاصل کرنا کس قدر دشوار ہے۔ بہت سے دراز قامت درخت دیکھ کر کم مائیگی کا احساس تسکین کے جذبات میں بدل گیا اور مجھے خود کواجنبی اور خالی خولی کرنا پڑا۔معلومات سےبھری ہوئی اور کسی شناخت کے نشان کے ساتھ جاتی تو یہاں کی خاک مجھے قدم جمانے تک نہ دیتی۔ایسی جگہوں پر انجان اور بےنشان ہونا ہی سب سے سہولت والا اور آسان رہتا ہے۔ گاڑی کسی پہاڑی موڑ پر جا کر رواں دواں تھی۔اچانک میری نظر جنت باغ نامی ہوٹل کے بورڈ پر پڑی تو ملامت بھرے کلمات منہ سے ادا ہوئے۔ ظالموں نے ہماری بکنگ رد کر کے اپنا نام تاریخ میں سیاہ حروف میں جلی طور پر لکھوا لیا تھا۔منفی جہنمی ہوٹل چار ستاروں پر بڑا ناز ہے ان کو۔ ہمیں ایک کمرہ دینے سے کترا گئے۔ یوں ہم کنفرم جنتی بننے سے رہ گئے اور ہم نے انتقاماً ایک پانچ ستاروں والے مہنگے سب سے بڑے ہوٹل”قُبیٰ پیلس ہوٹل” میں کمرہ بُک کرا لیا جس کی کھڑ کی بہشت بریں یعنی جھیل کنارے کھلتی تھی اور جو نظارے تھے وہ سبحان اللہ تھے۔اگر آپ ضبطِ نفس کے حامل نہیں تو یہ نظارے آپ کو اپنے سحر سے چٹان کر سکتے ہیں۔
خیر ہوٹل کے احاطے میں کیا داخل ہوئے گویا باغِ ارم میں داخل ہوئے۔ہری گھاس کے وسیع میدان اور عمودی ٹیلوں پر بچھی گلابی پیادہ ٹریک نے مجھے یہاں سانپ بن کر رینگنے کی چاہ پر مجبور کیا تھا۔ایک جانب بلند ٹیلے جس کو ترکش میں "تیپے”کہا جاتا ہے ،پر گالف کلب لکھا ہوا تھا۔سامنے میرے مسائل کی طرح وسیع اور بلند و بالا عمارت کھڑی تھی جب کہ وسط میں مصنوعی جھیل بنی تھی۔ جھیل کے اطراف میں جھونپڑی نما کوٹھیاں بنی تھیں جو خاص بھوری لکڑی سے تیار شدہ تھیں۔ان میں پورے خاندان آ کر رُک سکتے تھے اور ایک رات کا کرایہ ایک ہزار منات یعنی پاکستانی ایک لاکھ روپیہ تھا۔ ہمارا کمرہ بھی کچھ کم مہنگا نہ تھا۔ مگر ان کوٹھیوں کی جگہ بہت مناسب قیمت تھی۔استقبالیے سے قبل ایک پست قامت زیتون کے پیڑ نے خوش آمدید کہا، پھر سیب اور لکڑیوں سے بھری طشت نے کہا آئیے!اور ہم ایک خاتون کو اپنا آئی۔ڈی کارڈ دے کر اندراج کروانے میں مگن ہوئے۔ نئے معاہدے کے تحت آذر بائیجان اور ترکی کے شہری ایک دوسرے کے ملک میں آئی۔ڈی کارڈ سے سب کام کروا سکتے ہیں۔پاسپورٹ کی حاجت ختم ہو چکی ہے اور یہ بہت بڑی سہولت ہے۔خیر ہمیں تو سفارتی وثیقے پر بھی یہ سب سہولت پہلے سے ہی میسر تھی مگر اب تو شہریت جیسے حقوق حاصل تھے۔ کمرہ نمبر ۱۱۴۰ میں وارد ہونے سے قبل ایک نگاہ وسیع و عریض لابی پرپڑی۔سب سٹاف کو”پیوند” یعنی ویکسین لگ چکی ہے، جگہ جگہ یہ عبارت درج تھی۔ یہ ہوٹل میرے گمان سے زیادہ کشادہ اور لگژری سے آراستہ تھا۔ رُوح سرشار ہو گئی تھی اور پھر وہ عود کی مہک جو نتھنوں میں عود کر آ رہی تھی، اس کا مقابلہ تو بس باہر لہلہاتے جنگلی پھول ہی کر سکتے تھے۔
ابھی میں فیصلہ نہ کر پا رہی تھی کہ جو کے کھیتوں میں جھانکتے پوست کے قرمزی پھول زیادہ دل نشین ہیں یا میرے پیروں تلے بچھے دبیز قالین کے اوپر بُنے گئے بےجان پھول زیادہ دل کش ہیں۔ کشمکش سوا ہوئی تو میں نے یوں فرار اختیار کی جیسے زندگی میں اکثر دوراہے پر کسی مسئلے سے دوچار ہونے پر میں آنکھیں موند کر فرار حاصل کرتی ہوں مگر مسئلے وہیں رہتے ہیں ،سو پھول بھی وہیں تھے اور میرے فہم اور حُسنِ نظر کے انتخاب کا امتحان لے رہے تھے۔ کمرہ کافی کشادہ تھا مگر میرے معدے میں سے اُٹھتی لہر نےاحساس دلایا کہ بھوک کی شدت زیادہ ہے۔فی الفور نکل کر کچھ کھا لیا جائے۔میں اس وقت کسی انسان کو بھی کچا چبا سکتی تھی۔اس قدرزور کی بھوک تھی مگر چڑیا جیسا معدہ چند لقموں پر قانع ہونے والا تھا، اس سے میں واقف تھی۔کشادہ کمرے میں میرا دل تنگ ہونے لگا۔ دو بج رہے تھے یعنی ہم اڑھائی گھنٹے کے سفر کے بعد یہاں پہنچے تھے۔ کھانے کے لیے جگہ کا انتخاب گردونواح کے ریستوران ٹھہرے۔تازہ دم ہو کر گاڑی میں سوار ہو کر پھر اس باغِ ارم سے نکل کر گردوپیش کا جائزہ لینے نکل کھڑے ہوئے۔ وہی اودےاور قرمزی پھول استقبال میں پیش پیش تھے۔ یہاں ایک جھیل کے پاس جانے کا فیصلہ ہوا۔ سیب ،بادام اور شاہ دانےکے درختوں میں گھری اس جھیل کے پاس کافی لوگ طعام کے وقفے کو منانے رُکے تھے۔ دل و جاں سے اٹھتے ہوئے دھوئیں کی مانند( منگل) باربی کیو سے دھواں اُٹھ رہا تھا اور ہوا کو آلودہ کرنے والا واحد مادہ یہی تھا۔ بادام کی جھکی ہوئی شاخوں سے گلے ملنے کا دل کر رہا تھا۔ میں نے بےتابی سے چند ایک شاخوں کو پکڑ کر چوم کرآنکھوں سے کسی تبرک کی طرح لگایا۔ کیا ہے کہ بادام اور میرا بچپن کا ساتھ ہے۔ہمارا ایک کمرہ ہوا کرتا تھا جہاں ہم فریج رکھا کرتے تھے۔ وہاں ایک جگہ سے فرش ٹوٹا ہوا تھا اور چونکہ وہ کمراباغ میں بنا تھا تو وہاں پُرانے بادام کے پیڑ کی چند مردہ جڑیں تھیں اور بادام میرا بھائی ہے سو وہ ہار ماننے سے انکاری رہتا ہے۔جہاں نم دیکھا، نکلنا شروع ہوا اور نمو پانے لگا سو وہ اس ٹوٹے سے فرش میں پانی گرنے کے سبب سر اُٹھانے لگا اور میری ماں مجھے اس بادا م سے دوستی کرنے سے روکتی رہتی ۔ مگر میں سکول سے واپس آ کر اپنا ہوم ورک تک وہاں فرش پر بیٹھ کر کرتی اور میں نے اس قدر اس پودے کو پیار کیا کہ چھو چھو کراسے مار ہی ڈالا۔بادام کےدل سے میں نکلی یا نہیں مگر میرے دل سے بادام کی محبت کبھی نہ نکلی۔
آپ مجھے کسی گھنے جنگل میں کھڑا کر دیں، آنکھیں بند کر کے میں کہ سکتی ہوں کہ بادام کا پیڑ کون سا ہے؟ اس کی خوشبو میرے وریدوں میں خون کے ساتھ دوڑتی ہے۔خیر، پھر باکو میں، میں نے ازبکستان سے آئے ہوئے چند بادام زمین میں دبا دیے اور آٹھ مہینے بعد وہ نکلے تو آپ سوچ نہیں سکتے کہ مجھے کتنی خوشی ہوئی۔میں پھر سے بچی بن گئی اور مجھے ایسا لگا کہ میرے تین عدد بچے ایک ساتھ پیدا ہو گئے ہیں جنھوں نے مجھے ماں کے درجے پر فائز کر دیا ہے۔اتنی چھوٹی سی جو شیلی سی ماں۔ میں نے ان کا اتنا خیال رکھا کہ سب کےلیے الگ گملے اور کھاد خریدی اور اتنا خیال رکھا کہ ان کو بھی مار ڈالا۔آہ! وہ سوگ اور وہ روگ میں آپ کو بتا نہیں سکتی۔
خیر، اب بادام کے پیڑ جنگل پر راج کر رہے تھے تو مجھے لگ رہا تھا کہ اگر فردوس بر روئے زمیں است۔۔۔۔۔۔
آگے جملہ آپ کو پتا ہے۔پھر چیری اور سیب کی ہمسائیگی اسے مقدس پیڑ بنا رہی تھی۔ زمین پر گھاس کے قالین پر جنگلی پھول اُگے تھے۔ یہاں تو پیر رکھنا گناہ کا مرتکب ہونے کے مترادف تھا۔یہاں ننگے پیر چلنا عین قرینہ ادب تھا اور پھر وہ طواف کرتی تتلیاں ان کا کعبہ تو رنگ و بُو تھا اور میرے پاس اب سب مناظر کے سحر سے نکلنے کا کوئی جادو نہ تھا۔ میں یہاں کوئی پتھر ہی بن کر رہنا چاہتی تھی۔ کیا پتا کوئی مجھے پھل ہی اُتارنے کوان پیڑوں کو دے مارے اور مجھے ان کی اونچی شاخوں کا وصل عطا ہو اور بار بار ہو مگر ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر پتھر نکلے اور پھر ابنِ آدم کا کیا ہے، وہ تو خلد سے ہی اکثر نکلے۔ سوپیڑوں کے پار جھانکتی جھیل”چاملیبیل” کو دیکھنے ڈھلوان سے نیچے اُتری۔ وہاں چند بچے جھیل میں پتھر پھینک رہے تھے۔پانی کے پاس رہنے والوں کو پتا ہے کہ پانی میں پتھر پھینکنا کیسا دلفریب تجربہ ہوتا ہے اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مجھے نہ پتا ہو کہ پانی میں پتھرکیسے پھینکتے ہیں؟
یہ سنجیدہ ترجمان جو اربابِ حل و عقد کی ہمراہی میں تقریباً ایک پتھریلی سی مورت بن چلی ہے۔ اس کو یاد آیا کہ اس نے سنجیدگی کی چادر چند فرلانگ پیچھے ہی چھوڑ دی ہے۔سو اب پتھر چننے لگی۔ آپ کو پانی میں جتنے دائرے بنانے ہیں، آپ اس حساب سے چپٹے پتھر چنیے۔ اب آپ کو معلوم ہو کہ ترک زبان میں پتھر کو تاش کہتے ہیں اور یہ تاش کے پتوں کی طرح چپٹے اور سیدھے پتھر ہوں تو ہی کام بنتا ہے۔وہاں پر پتھر پھینکنے والے بڑوں اور بچوں میں ایک نئے فرد یعنی میرا اضافہ ہو چلا تھا۔ میں نے جونہی کہنی کو ایک زاویے پر رکھ کر پتھر پانی میں پھینکا توسب کی نگاہیں تحسین سے میری جانب اُٹھیں۔یکمشت تین دائرے بنانے والا پہلا پتھرجھیل میں ڈوب چکا تھا اور میرا جوش اُبھارگیا تھا۔ اب میرے ہاتھوں جھیل واصل ہونے والے پتھروں کو دیکھنے کے لیے گھوڑوں پر سوار چھپے رستم نوجوان بھی گھوڑوں کو روک کر دیکھ رہے تھے۔ مجھے تفاخر کا احساس ، کچھ کچھ گھبراہٹ کا شکار بھی کر رہا تھا مگر یہ گھبراہٹ تب ہنسی میں بدلی جب میرے برابر میں ایک چند بالشت کا بچہ پتھر میرے ہی انداز میں چُن کر میری طرح بسم اللہ کہ کر پتھر پانی میں پھینک کر میری طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔اب سب اس کو دیکھ کر ہنس رہے تھے۔چلو کسی میں کچھ ذوق منتقل کر کے جا رہی ہوں۔ یہ احساس سیب کے پھولوں سے بھی زیادہ انتعاش بخش تھا۔
منتقل کرنے کی خواہش انسان کے خمیر میں گوندھ دی گئی ہے۔ اپنے خلیات سے لے کر خیالات تک کا ورثہ آگے منتقل کرنے کے واسطے انسان تخلیق کے مراحل سے گزرتا ہے۔ ولادت کی گھاٹیوں سے گزرتا ہے۔علم، ورثہ، دولت، عادات اور جانے کیا کچھ منتقل، کیا کیا قابلِ انتقال ہے۔مسکراہٹ بھی، ہاں! سو مسکراہٹ کی ایک نادیدہ مالا اس بچے کے گلے میں ڈال کر ہم اسی نشیب سے فراز کی جانب گامزن ہوئے۔ گاڑی بادام کے پیڑ کے سائے تلے کھڑی تھی۔ پوری آب و تاب سے چمکتا آفتاب اسے گرم کرنے میں ناکام ہوا تھا۔ چند قدم پر چیری کا باغ تھا جس کے گرد خار دار تار کا باڑ شاید بکریوں کے واسطے لگایا گیا تھا۔ طوطی رنگ گھاس کے ڈھیر میں چیری کے درخت کھڑے تھے اور میں ان کو دیکھتے دیکھتے مبہوت سی باڑ کے باہر کھڑی تھی۔یوں ساکت کہ تتلیاں میری فراک پر بیٹھنے کو لپک رہی تھیں۔ ان باغات سے قدم نکلتے ہیں، رُوح نہیں نکلتی اور وہاں قیام کر جاتی ہے مگر فی الوقت بھوک سے برا حال تھا۔ روح کو لگام دے کر واپس جسم سنگ گاڑی میں سوار کیا۔ اب ریستوران کا انتخاب ہوا جو اونچائی پر واقع دراصل ایک باغیچہ ہی تھا۔ہاں جی سیب، آلوچے ، چیری، جنگلی بیری اور انگور کی بیلوں والا باغیچہ۔ یہاں ایک مجسمہ نصب تھا جو مقامی ہیرو کا تھا مگر وہ پشتو کے مشہور شاعر خوشحال خاں خٹک سے مشابہ تھا۔ چند قدم پر داخلی راستہ انگور کی بیلوں سے آراستہ تھا اور دو ہرنیوں کے منہ سے پانی پھینکتا ہوا فوارہ سیڑھیوں کے عقب میں نصب تھا۔ ہمارااستقبال ایک گرم جوش گارسون نے کیا تھا۔ اتنی خندہ پیشانی سے ہمیں خوش آمدید کہا گیا کہ مجھے نہیں لگا کہ میں زمین کے کسی باغ میں ہوں بل کہ لگا کہ جنت نما کسی مقام پر کوئی ملک نماہستی مرحبا مرحبا کہ رہی ہے۔
میری وہی ندیدہ نگاہ جا کرآلوچوں پر جا رُکی جو شاخ میں یوں پروئے ہوئے تھے جیسے نظامی گنجوی نے غزل میں قافیے جڑ دیے ہوں۔ اتنے موزوں اور مناسب مقام پر کہ سبحان اللہ۔ پھر سیب اور ناشپاتی جو لٹک کر ناجانے کس سزا کی تکمیل کر رہے تھے یا منظر کی دلکشی میں اضافہ کرنے کی ذمہ داری نبھا رہے تھے۔میز جو ہمیں ملی، وہ عین باغیچے کے وسط میں، تندور کے عقب میں اور چیری کے درختوں کے عین نیچے تھی۔ چیری کی شاخیں پھل کے بوجھ سے جھک کر ہمارے کندھوں تک آ رہی تھیں۔ کچھ دانے چیری کے تو ہمارے طباق میں بھی ٹوٹ کر گر رہے تھے۔ اتنا مکمل منظر میں نےنہیں دیکھا، جہاں سورج کی شعاعوں کو داخلے کی بہت محدود سی اجازت تھی اور پھر مہربان میزبانوں نے ہمیں اور سرشار کیا تھا۔ ان کو یہ خوشی تھی کہ ترک آئے ہیں۔ ان کا بس نہ چل رہا تھا کہ اپنے سر پر کرسیاں بچھا کر ہمیں اُن پر بٹھا دیں۔

 

 

 

قسط : 3
بڑی سینی میں سلیقے سے سجے طعام لے کر ہمیں انتخاب کا موقع دیا گیا۔پھر کباب اور گوشت حاضر کیا گیا۔ کوئلے پربھنے آلو بھی تھے۔لیموں تو میری کمزوری ہیں سو وہ بھی تھے اور مقامی فیکٹری میں تیار ناشپاتی کا مشروب بھی حاضر کیا گیا۔ یہ مشروب دنیا کے تمام خوش خصلت و خوش ذائقہ مشروبات کی ماں قرار دیاجا سکتا ہے۔ بعد میں چائے پیش کی گئی اور پھر آپ تو جانتے ہی ہیں کہ چائے ہمیں دنیا و مافیہا سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ لہو میں چائے ملے تو بنتے ہیں ہم۔ بڑا عجیب سا مرکب ہے مگر کیا کیجیے۔
اس باغ سے میرا دل بھرتا کیا، باغ باغ ہوا پڑا تھا۔ کبھی میں ناشپاتی، کبھی سیب اور کبھی آلوچے اور چیری کو تکتی تو میزبان میری محویت سے متاثر ہوئے بنا رہ نہ سکے۔ وہ میرے گرد جمع ہوئے کہ اس باغ کا ایسا قدردان آج تک میسر نہ آیا۔اچانک کچھ گارے اور سیمنٹ سے بنی ایک تائی اماں نصب نظر آئی۔ میں نے وہاں تصویر لینی چاہی تو وہ سب لوگ ہنس پڑے کہ یہ والی تائی تو بےجان ہے۔ وہ زندہ تائی امی مطبخ میں کھانا پکا رہی ہے۔ بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ آذر بائیجان کے اکثر ریستورانوں میں طباخ مرد نہیں بل کہ عورتیں ہوتی ہیں کیوں کہ روایتی کھانےان سے بہتر کوئی نہیں پکا سکتا۔ خیرو ہ زندہ تائی اور باقی سب لوگ ا س مردہ تائی اور میرے گرد جمع ہوئے ۔بار بار مجھ سے پوچھتے رہے کہ ناراض ہو کر تو نہیں جا رہی ہم سے؟ ٌپھر کچھ آلوچے مجھے دیے اور کہا ایک ماہ بعد پھر آنا ،جب پھل پک جائےتو ٹوکری یا جھولی جو میسر ہو، بھر کر لےجانا مگر مجھے علم تھا کہ بعض جگہوں سے خالی ہاتھ، خالی دامن ہی لوٹنا زیادہ ثمربار ہوتا ہے۔ تشنگی بہت بڑی دولت ہے، حصول سے بھی بڑی، وصول سے بھی بڑی۔
خیر ، پلٹ جانے کو سیڑھیاں اتر کر گاڑی میں سوار ہوئے۔ ہوٹل پہنچے جہاں داخلی دروازے کے پاس فوارے کے عقب میں نصب باقی جھنڈوں میں پاکستا ن کا جھنڈا بھی ترکی اور آذر بائیجان کے جھنڈے کے ساتھ لہرا رہا تھا۔ گلابی رستہ مجھے بلا رہا تھا۔ سو اس سے ملنے کو ہمیں کمرے میں جانا تھااور واپس آنا تھا۔ واپس آ کر ہوٹل کی پارکنگ میں کھڑا ایک جھکی گردن والا بھورا گھوڑا اور تانگا نظر آیا۔ کوچوان پاس ہی کھڑا تھا۔ کمرے میں سامان رکھ کر کوچوان کے پاس آئے۔ تانگے کی سواری کا طریقہ کار پوچھا۔قیمت ادا کی کہ کیا ہے کہ قیمت ادا کیے بنا تو آپ کو کوئی اچھی چیز میسر نہیں آ سکتی۔ یوں ہر چیز کی قیمت ہے ۔ کوچوان نہایت مہربان انسان تھا۔ نام اس کا مہدی تھا۔ اس کا چہرہ ان گلابوں سے زیادہ گلابی اور کھلا ہوا تھا جو ہوٹل کے باغیچے میں لگے تھے۔ جب اس کو پتا چلا کہ ترک سواری ہے تو پُرجوش انداز سے گویا ہوئے کہ ان کی بیٹی کی شادی ازمیر میں ہوئی ہے اور اسے ترکی ، ترک اور طیب اردوان بہت پسند ہیں۔ مجھ سے بار بار کہتے رہے کہ طیب اردوان تک میرا سلام پہنچاناا ور کہنا ایک کوچوان بنام مہدی ہے، وہ آپ کا بڑا قدردان ہے۔ میں نے اسے یقین دلایا کہ سمجھیں پیغام پہنچ گیا کیوں کہ ہم سفارت خانے ہی سے آئے ہیں۔ وہ اب ہمیں کسی اعزاز کی طرح تانگے میں سوار کرا کر بات کر رہا تھا اور فون پر گھر والوں کو بتا رہا تھا کہ آج ترک سواری ہے میرے ساتھ۔ مجھے ایک دم خیال آیا کہ گھوڑے کی بابت پوچھوں ۔ابھی رمضان میں طیب اردوان کے ساتھ چند یونی ورسٹی کے طلبا کا ڈیجیٹل افطار ہوا۔ ایک لڑکی نے اردوان سے سوال کیا کہ سر!بیوک ادا میں موجود گھوڑوں کا کیا بنا؟بیوک ادا میں موجود گھوڑے جانوروں کے حقوق کی تنظیموں کے شورو غوغا کے بعد ہٹا دیے گئے۔ اب رکشا نما گاڑیوں کو جگہ دی گئی ہے سو مہدی کوچوان نے بتایا کہ گھوڑا اُ س کا اپنا ہے اور تانگہ ہوٹل والوں کا ہے اور یہ کہ اس کے گھوڑے کا نام نشا ہے۔ وجہ تسمیہ یہ بتائی کہ چونکہ یہ گھوڑا روسیوں کی طرح اکڑ،بدتمیز اور بدلحاظ ہے سو اس نے روسی نام دیا۔
ارد گرد پھیلے افسانوی کو ہ قافی جنگل میں جس سے پرندے لپک لپک کر باہر آ رہے تھے اور میرا دل چُرا رہے تھے۔وہاں کی خوب صورتی کی تعریف کرنے پر اس نے بتایا کہ تمہیں ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ جہاں مسلمان رہتے ہوں، وہ جگہ خود بخود خوب صورت ہو جاتی ہے۔ پھر پرندوں کی نسلوں اور چند دیگر مسئلوں پر بات ہوئی۔ جھیل کنارے گھوڑے میں بیٹھے ہم گزر رہے تھے کہ پاس سے گزرتے چند شرارتی لڑکوں کے ٹولے نے فقرہ کسا کہ چچا! تمہارا گھوڑا تو چلنانہیں چاہتا، کیوں اسے زبردستی چلا رہے ہو؟ اس پہ اس نے سب فلسفہ اور تہذیب بالائے طاق رکھ کر ناگفتہ بہ گالی لڑکوں کو نکالی۔ میں گالی تو نہیں، اس کی تشریح اشاروں میں لکھ سکتی ہوں کہ کیا ہے کہ عقل مند کو اشارہ کافی ہے کہ گالی کا تعلق حرام جانور کے اسم سے ہے۔لڑکے نظر سے اوجھل ہوئے تو مہدی عمجاپھر سے مہذب ہوئے اور ہمیں گالف کلب والی گھاٹی تک لے گئے۔وہاں تصاویر بنوائیں اور بار بار ماشاء اللہ کہتے رہے۔نیچے اتر کر ایک گوشے میں گھاس پر پچاس کے قریب شہد کی مکھی پالنے والوں کے ڈبے پڑے تھے۔وہاں تصویر بنوانی چاہی توشہد کی مکھیاں مجھ پر یوں حملہ آور ہوئیں جیسے مجھے کوئی پھول سمجھ لیاہو، پیلا پھول۔وہاں سے آواز اور برق کی رفتار کے ساتھ فرار اختیار کی۔
واپسی پر جنگل میں پکنک کا گوشہ نظر آیا۔ہم نے کپڑے بدل کر وہاں چائے پینی چاہی ،سو مہدی عمجا سے گھوڑا بھگانے کی التجا کی۔ واپسی پر ہم نے اسے بھاری بخشیش سے نوازا۔یہ دیکھ کر ہوٹل کے دیگر ملازمین نے بھی ہمیں گھاس ڈالنی شروع کی۔پھر ہم اپنا حلیہ درست کر کے جنگل میں چلے آئے۔مٹی کی خوشبو دیوانہ کیے دے رہی تھی۔قدم جیسے مشک پر پڑ رہے ہوں یا جیسے خوشبو کی صنادیق وا ہوئے پڑے ہوں اور گردو پیش جادوئی مہک سے بھر چکے تھے۔ ہلکی خُنکی والی فضا میں اترتی تاریکی کے اندرہم قہوہ خانے کے پاس پہنچے مگروہ مزید کام نہ کرنا چاہتے تھے۔ہمیں چائے البتہ دینے پر راضی تھے مگر ہم ان کو زحمت نہ دینا چاہتے تھے۔ بعض دفعہ چند چیزیں ہمارے نصیب میں نہیں ہوتیں، سو ہمیں چشمے سے پیاسا لوٹنا پڑا مگر کوئی تاسف نہ تھا بل کہ ایک تجربہ لیے لوٹ رہے تھے۔ اس تجربے میں شکست نہ تھی، قبولیت تھی۔سکون کے سو سامان یہاں سے پرے دستیاب تھے۔دس قدم کی دوری پر گلابی رستہ جھیل کو جاتا تھا۔وہ جھیل جہاں مرغابیوں کا ا یک جھنڈ محوِ تیراکی تھا۔
جیون گھاس کا قطعہ ہے۔ گھاس کو تکتے سوچا تھا۔اور خیر وہ مرغابیاں، ان پر تو میں ایک کتاب لکھ سکتی ہوں، اگر علم اور قلم اجازت دے۔ کیا ہے کہ حُسنِ بیاں میرے بس کا کام نہیں ہے۔سخت تنگ دامانی کا احسا س ستاتا ہے مثلاً میں ان مرغابیوں کے پروں پر پائدار اور شاندار نثر قلم بند کرنا چاہتی ہوں۔ وہ پَر جو اِن کو ناگوار حالات میں سر چھپانے کو ٹھکانہ فراہم کرتے ہیں۔گو کہ ان میں طاقتِ پرواز نہیں مگر وہ راز ہیں جو سر جھکا کر، گردن لڑھکا کر، سینے سے نکال کر بغل میں پروں کے نیچے منتقل کیے جاتے ہیں اورایسے پروں کو زمانہ نہیں کاٹتا جو اُڑنا نہیں جانتے۔
یہاں پریاں اپنا پسینہ پونچھتی ہیں، جبھی تو خوشبو پھیلی ہے۔میں اس خوشبو کو کیا نام دوں خنکی کا خزانہ یا خوب صورتی کا خزانہ!یوکلپٹس اور چیری کے درختوں والے جنگل سے آتی خُنک باس اور ہوا میرے سر درد کا درماں ثابت ہو رہی تھی۔یہاں میں خود سے نکل کر نکھرنا چاہتی تھی۔ چل چل کر رُکنا چاہتی تھی، رُک رُک کر چلنا چاہتی تھی۔آنکھیں موند کر گہرے سانس لینا چاہتی تھی۔ اتنے گہرے کہ اس درماں کے سب ذرے میرے اندر بکھر کر مجھےپُرسکون کر دیں مگر ہر خوشی کی حد ہوتی ہے، بےحد خوشی کی بھی۔ اب میں مرغابیوں کودیکھنے میں مگن تھی جو اپنے سفید پروں پر پانی نہ پڑنے دے رہی تھیں۔ اتنی نفیس الوجود مرغابیاں بھی کوہ قاف ہی میں پائی جا سکتی تھیں۔ ان مرغابیوں سے ذرا پرے پُشت پر سفید ہوٹل کی عمارت قصرِ سلطانی کا منظر پیش کر رہی تھی۔ اس کے لان میں بنے تالاب کے گرد محفلِ موسیقی بھی جمی تھی۔ عید کا جشن بھی منایا جا رہا تھا۔ موسیقار اور گلوکار اسٹیج پر اپنا کمال دکھا رہے تھے۔ میرے لیے سکون اور سکوت معنی رکھتا تھا، اب مجھے کوئی بھی آواز حتیٰ کہ موسیقی کا شرک بھی گوارا نہ تھا اس ماحول میں، سو میں مرغابیوں کو دیکھنے میں مگن ہو گئی۔
یہاں بیٹھ کر ہی سوچا جا سکتا تھا کہ یہاں سے جا کر حیات جو کوہِ قاف میں نہیں گزرنے والی، اس کو کیسے اتنا انبساط انگیز بنانا ہے؟جیون کی جھیل میں کیسے سکوت اور فرحت کی مرغابیوں کے غول چھوڑنے ہیں اور کیسے اپنی زندگی کو شاندار و رنگ دار بنانے کے لیےایک گلابی پگڈنڈی کی اشد ضرورتِ تعمیرہے۔
ایاز بقدر خود ناشناس! جیون سیب کا پھول
تم پھول سے بھی خوب صورت ہو
۔میں نے کوہ قاف سے کہا تھا
دلکشی کےاستعارے میں،
حسن کے بارے میں
جتنا علم ہے مجھ کو
تم اس سے بھی سوا ہو
تم فسوں ہو کہ فریب ہو!
جھیل پر بات ہو گی تو بہت طویل ہو گی کہ وہاں بطخیں تیر نہیں رہی تھیں، جیون کا فلسفہ انڈیل رہی تھیں۔ جیون دائرہ در دائرہ گھومنے کے سوا کچھ نہیں۔ مجھے خود سے بھی الگ تھلگ ہو کر بیٹھ کر سوچنا پڑا کہ یہ جو الم کا انبار اٹھا لائی ہوں، یہ گاڑی میں تو آ گیا تھا، دل میں سما نہ پائے گا۔اسے یہاں کسی گہری کھائی میں پھینک کر واپس چلتی ہوں۔ آپ چلیں آنکھ بند کر کے تو پاؤں تلے فردوس پائیں ،یہ کیسا تجربہ رہے گا؟چند یوم سے مجھ سے راحت روٹھ چلی تھی، رحم کی دعا مانگنے یہاں آئی تھی۔
جھیل کنارے پھول بھی تھے، جن پر دھول کی کوئی تہ نہ تھی۔ میرا دھیان دو پارچوں میں تقسیم ہو کر پاگل بنا ناچ رہا تھا۔پانی پر نگاہ کروں کہ ہوا میں بڑھتی خُنکی اور خوشبو کو اپنے اندر اُتاروں۔اسی چکر میں جیب میں پھنسے ہاتھ بھی نکالنا بھول چکی تھی۔ چاندادھورے وجود کے ساتھ وسعتِ افلاک پر موجود تھا۔مجھے ایسا لگا کہ وہ بھی موقع پا کر اس خوب صورت سماں میں اُترنے کو پر تول رہا ہے۔

 

قسط :4
جھیل مجھے اپنے جادو ہی میں رکھتی، اگر مینڈک مکالمہ شروع کرکےمیرا دھیان اپنی جانب مبذول نہ کرواتے تو۔میرا ترجمانی کا بٹن دب چکا تھا۔ مینڈکوں کا مکالمہ نقل کیے دیتی ہوں۔
ایک مینڈک گہرے سبز رنگ کی ایک سنہرے سبز رنگ کی مینڈکی سے فرما رہا تھا کہ:
” وہ سفید قمیص والی تشنہ چشمان لیے لڑکی دیکھ رہی ہو؟
یہ کیا چاہ لے کر آئی ہے؟
چاہِ یوسف سےآتی صدا سُن رہی ہے۔اس کو کیا سننا ہے؟کیا تم اسے سُن رہی ہو؟
میں اسے نہیں اس کی جیب میں پڑے ایک سکے کی آواز کو سن رہی ہوں جوچابیوں سے ٹکرا رہا ہے۔
کیا؟ ایک سکہ؟یہ ایک سکہ لے کر کوہِ قاف کی سیر کو نکلی ہے؟اس کی نظر میں کوہِ قاف کا مول ایک سکہ ہے کیا؟ ہوسکتا ہے یہ مول اس کی اپنی ذات کا ہو کوہِ قاف کے آگے!”
ٹر ٹر ٹر ٹر ٹر ٹر ٹر
قدم گلابی رستے پر چلتے چلتے رُک گئے تھے۔مکالمہ ختم ہو گیا تھا۔ تاریکی میں گم ہونے کا احساس بڑا مسحور کن ہوتا ہے۔بس آواز سے تعاقب کیا جا سکتا ہے اگر کوئی آپ کو ڈھونڈنا چاہے۔اچانک کتے کے بھونکنے کی آواز آئی تھی کیوں کہ ایک جھونپڑی سے کسی خاتون کا قہقہہ بلند ہواتھا۔ایک دم پطرس کے مضامین والے کتے یاد آئے تھے جو غزل سرا تھے۔مصرع در مصرع منہ توڑ بھونک رہے تھے۔اس گلابی رستے نے سفید قمیص والی کو اپنا اسیر بنا دیا تھا۔یہاں خواہش اُبھری تھی کہ اس راستے کا اختتام نہ ہو، منزل پر بھی نہیں مگرکیا کریں راستے ختم ہو جاتے ہیں، منزل آ جاتی ہے۔من چاہی یا اَن چاہی! موسیقی کا جشن اب بھی جاری تھا۔اب کسی فائق مرزا نامی گلوکار کو بلایا جا رہا تھا اور اس کا گلہ نہیں جادو تھا، جو ماحول پر چھا رہا تھا۔ مرزا کے نام سے یاد آیا تھا کہ ظہیر الدین بابر بھی تو مرزا تھا۔مرزا ہونا بڑے افتخار کی بات تھی ترکوں میں اور پھر ذہن مرزا غالب کی جانب چل نکلا۔ اتنے میں ہم تالاب کے گرد سجی محفلِ موسیقی میں پہنچ چکے تھے۔خلق سے ذراسے فاصلے پر رکھی کرسیوں پر براجمان ہونا چاہا اور آنکھیں موند کر موسیقی کو محسوس کرنا چاہا۔
آنکھیں کیا بند کر لیں کہ ایک جہان کا در کھلا۔ وہ جہان جس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے سجائے ہوئےشیشے کے تالاب کا عکس ذہن پر اُبھرا اور حقیقت میں کالی رات میں روشن نارنجی چراغوں کی چکا چوند سے تالاب کا نیلا پانی جھوم رہا تھا۔
جشن جاری تھا۔ اب کوہ قاف کے مخصوص رقص کا مظاہرہ کیا جا رہا تھا جس میں ہاتھ اور پیروں سے پھول آسن کیا جاتا ہے، پھر ہاتھ پکڑ کر گھوما جاتا ہے اور رومال لہرائے جاتے ہیں۔تین خوبرو دوشیزائیں یہ رقص فرما کر رخصت ہوئیں تو ایک مقابلہ منعقد ہوا۔چار کالی قمیضوں والےنقاب پوش مرد و زن گلے میں اعداد لٹکائے آئے۔ اب لوگوں کو اندازہ کرنا تھا کہ ان میں سے کس عدد والا یا والی پاگل ہو سکتا یا ہو سکتی ہے؟اس پر انعام ملنا تھا۔ جس خاتون کو انعام ملا،اس نے وہ انعام کسی دوسرے خاندان کے بچو ں کو تحفے میں دیا۔اتنی دریا دلی تالاب کنارے دیکھ کرآنکھ بھر آئی اور ہم وہاں سے اُٹھ آئے۔کمرے میں آ کر بھوک نےستانا شروع کیا۔ کھانا کمرے میں منگوایا جو کوہ قاف کے مزاج کے برعکس بڑا بدذائقہ تھا۔ خیر رزق کی بےحرمتی کے ڈر سے اسے ختم کیا اور ٹی۔وی کھولا تو دیکھا کہ اکثر چینل ہندوستانی فلموں وغیرہ کو عربی اور آذری ترکش میں ترجمہ کر کے نشر کر رہے تھے۔ تب میں نے سوچا کہ ہندوستان اپنے سینما کے بل بوتے پر ،اپنے کلچر کے بل بوتے پر ہر جگہ چھا رہا ہے مگر جنوب ایشیا کے باقی ممالک خصوصاً پاکستان کا اپنے کلچر کو دنیا کو دکھانے کا فی الحال کوئی ارادہ نظر نہیں آتا۔ یہ خالصتاً میری ذاتی رائے ہے ۔خیر اس کے بعد سر درد کے شدید حملے سے نبرد آزما رہنے کے بعد ،چند گولیاں پھانکنے کے بعد، جانے شب کے کس پہر نیند نے بالکل فیس بکی مجاہدین کی طرح مجھ کو آ لیا۔
صبح ساڑھے آٹھ بجے آنکھ وا ہوئی۔ کوہ قاف میں جاگنا سونے سے زیادہ سود مند ہوتا ہے اور اگر مجھے اختیار ہوتا تو میں ایک پل کو بھی اپنی آنکھ بند نہ کرتی مگرا نسان بے بس ہے ۔ اسے آنکھ بند کرنا پڑتی ہے۔ کبھی خوش گوار ماحول میں، کبھی ناخوشگوار لمحات میں۔ تیار ہو کر ناشتہ کرنے نیچے جانا پڑا ۔ ناشتے کے ہال کی طرف جاتے ہوئے معلوم ہوا کہ ہوٹل کا یہ حصہ تو کسی غیر دریافت شدہ براعظم کی طرح ہے اور بےحد نفاست سے سجا ہوا ہے۔ عالی شان قالینوں اور فانوسوں، تصاویر سے سجا ہوا یہ گوشہ درحقیقت مصنوعی کوہ قاف کہلانے کا مستحق تھا۔سرخ و سنہری قالین پر چلتے قدآدم آئینوں میں اپنے سادہ حلیے کو دیکھتے ہوئے ہم نے ایک جام کنارے یعنی شیشے کی طرف رکھی میز کا انتخاب کیا۔ جہاں سے سورج کی شعاعیں نیلے تالا ب کو نہلاتی بکھری نظر آر ہی تھیں۔ میز کے انتخاب کے بعد اشیا خورو نوش لانے کا قصدکیا۔ مجھے تو آپ جانتے ہی ہیں کہ بکری نما غذاؤں کی شوق والی ہوں۔ گھاس پھونس اور خس سے خاصی رغبت ہے مجھ کو ۔ جہاں باقی دنیا سینڈوچ، مربے اور پیزا کے ٹکڑے ٹونگ رہی تھی، وہاں میں ایک گارسو ن سے اپنی سفید طباق میں مختلف النوع پتے اور ٹماٹر، کھیرے کے قتلے، پنیر کےپارچے وغیرہ ڈلوا رہی تھی۔ ترکش آملیٹ یعنی مینیمن کا ایک چمچ، ایک پیسٹری، ایک کپ سُرخ چائے، چند سبز و ہرے زیتون کے دانے، یہ کل متاع کی طرح لے کر میز پر آئی اور کھانے لگی۔
چڑیا جتنا معدہ چند لقموں سے بھر جاتا ہے۔اب کہ بھی یہی ہوا۔ واپس کمرے میں آ کر نئے کپڑے زیب تن کیے جو میں نے "زارا” سے لیے تھے۔ نہیں زارا کوئی خاتون نہیں بل کہ مشہور برانڈ ہے۔ اگر آپ کو پہلے سے معلوم ہے تو غیر ضروری معلومات فراہم کرنے پر معذرت خواہ ہوں مگر اس برانڈ کی ایک دلچسپ بات شاید آپ کو پتا نہ ہو۔ ترکی میں بننے والے اکثر ڈراموں کو کپڑے یہ برانڈ فراہم کرتا ہے اور نصیب کی بات یہ ہے کہ جو لباس میں پسند کروں، وہ چند ماہ بعد کسی ڈرامے کی ہیروئن کے بدن پر نظر آتا ہے۔ خیر اب میں ان سے کپڑےخریدنا ترک کرنے کا سوچ رہی ہوں مگر رعایتی نرخ اور کپڑے کا معیار مجھے اپنا عہد کسی منافق کی طرح توڑنے پر مجبور کردیتے ہیں۔
بال بنا کر ایک تتلی والا پن اس میں لگا کر ہم ذرا حسین سے لگتے ہوئے سامان پیک کروا کر لے آئے نیچے گاڑی میں۔پہلی بار میرا دل چاہا میرے قدم پتھر کے ہو جائیں۔ کاش کوئی مجھے یہاں سے جانے سے روک لے۔
ہماری منزل اس سے بھی زیادہ حسین تھی سو ہمیں جانے پر کوئی اعتراض بھی نہ تھا۔ سر دست تو ہمیں قرمزی قصبہ یعنی لال قصبے میں جانا تھا جسے مقامی طور پر یہودی محلہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ قُبیٰ شہر کے اندر واقع ایک پہاڑی پر چھوٹا سا قصبہ ہے۔ندی پر واقع پل سے گزر کرآپ لال قصبے میں داخل ہوتے ہیں اور پھر آپ کو ہر گھر سے چیری، انگور، ناشپاتی اور سیب جھانکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ گلیاں اتنی صاف اور منظم ومرتب کہ انسان یہیں کا ہو کر رہ جائے۔ خاموشی ایسی کہ جیسے کوئی اژدھا ابھی یہاں سے سب کو سونگھ کر گیا ہو۔ یہ یہودی قصبہ دراصل آذر بائیجان میں بسنے والے قدیم یہودیوں کا رہائشی علاقہ ہے۔ اس وقت یہودیوں کے لیے ہمارے جذبات کھٹے میٹھے سے ہیں کیوں کہ صیہونی اس وقت ہمارے فلسطینی بھائیوں پر مظالم ڈھا رہے ہیں مگر یہاں کے یہودیوں کا ان صیہونیوں سے کوئی واسطہ نہیں۔ یہ آذر بائیجان میں بسنے والے اقلیتی یہودی ہیں۔ ان کا ایک معبد بھی واقع تھا وہاں مگر بند پڑا تھا۔ باقی یہودی مرد چند چھوٹے قہوہ خانوں میں بیٹھے چائے پی رہے تھے اور بوڑھے لوگ شطرنج کھیلنے میں مگن تھے۔ کچھ تاش بھی کھیل رہے تھے۔
ہماری گاڑی کو دیکھ کر ایک بوڑھی یہودی خاتون سودا سلف ہاتھ میں لیے خمیدہ کمر کے ساتھ ہمیں دیکھ کر شفقت سے مسکرائی۔
سرخ قصبے کی وجہ تسمیہ آپ کو بتانا بھول گئی۔ یہاں تمام گھروں کی چھتیں سرخ ہیں۔ ا س لیے اس کو سرخ قصبے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ قصبہ ترکش میں بھی قصبہ ہی ہوتا ہے۔وہاں سے نکل کرقُبیٰ شہر کے بازار سے بقلاوہ خریدنے گئے جسے یہاں پخلاوہ کہا جاتا ہے، جو زعفران کی موٹی تہ سے تیار ہوتا ہے اور بے انتہا لذیذ ہوتا ہے۔ ایک خاتون نے اپنے صحن میں دکان سجائی تھی۔ ایک کلو بقلاوہ خریدا ۔ اب قُبیٰ شہر میں ہمیں بس ایک ہی کام رہ گیا تھا مگراس کا انجام پانا بڑا ہی ناممکن نظرآتا تھا۔ بات یہ تھی کہ دو چار ہفتے قبل آذر بائیجان میں تعینات ہونے والے ہمارے نئے ترک سفیر جاہت بے نے یہاں آذر بائیجان اور ترکی کے مشترکہ دوستی پارک کا افتتاح کیا تھا اور ہم رمضان کی وجہ سےتب نہ آ سکے تھے۔ اب دل چاہتا تھا کہ اسے دیکھ لیں مگر ہمیں مل کے نہ دے رہا تھا۔خیر ہم نے آگے داغستان کی جانب جانے کا ارادہ کیا۔ ہماری منزل شاہ داغ تھی۔ داغ ترکش میں پہاڑ کو کہتے ہیں مطلب بڑا پہاڑ سو ہم اب پہاڑی علاقے کی جانب عازمِ سفر ہوئے۔ ایک ایسی سڑک پر کہ جس کو درختوں نے ڈھانپ رکھا تھا اور وہ اونچے درخت اوپر جا کر آپس میں یوں بغل گیر تھے جیسے ہمارے دشمن ہماری ناکامی پر آپس میں خوشی سے بغل گیر ہوتے ہیں۔ اطراف میں نرم ہری گھاس میں کرسیاں بچھائے لوگ چائے پی رہے تھے اور پھول ان کےلیے فرش کا کام دے رہے تھے۔ گھوڑے بھی تھے وہاں۔ مجھے ان گھاس کے وسیع قطعات سے ارجنٹینا کے میدان یاد آئے جن کو "لا پامپا” کہا جاتا ہے۔خیر ان خوب صورت گھاس اور گھوڑے والے میدانوں بل کہ جنگلی مقامات کے آگے ارجنٹینا تو کہاں سوئیزر لینڈ بھی ہیچ تھا۔استراحتی مقامات میں عائلات کو چائے سے لطف اندوز ہوتے دیکھ کر میرا دل ایسے للچایا گویا بچہ چاکلیٹ کے لیے للچاتا ہے اور بےتابی سے بس حملہ آور ہونا چاہتا ہے۔ اتنا پُرسکون ماحول تھا کہ میرے پاس توکیا بل کہ اردو کی لغت میں اس کی توصیف و ستائش کے لیے مناسب ذخیرہِ الفاظ کا ملنا مشکل ہے۔

 

 

قسط :5
سورج کو زمین پر حدت پھیلانے سے روکنے کو اپنی شاخیں پھیلائے کھڑے ہوئے درخت، جن کے بیچ میں بہتی نہر نما ندیوں کا حسن آفتِ دوراں تھا اور قدرتِ بیاں سے باہر تھا۔ میری روح کو اگر بھٹکنے کا اختیار ملا تو میں فوراً اس جگہ کو چُنوں گی۔
آپ کے پاس کیا لفظ ہو سکتے ہیں ان ڈھلوانی رستوں کے گرد پھیلے فطرتی حسن کے شاہکاروں کے لیے کہ جہاں چڑیاں بھی ادب کے مارے چہچہانے سے پرہیز کرتی ہیں۔مبادا کوئی پھول مراقبے میں پڑا ہو اور ہڑبڑ ا کر جاگ جائے اور حسین لگنا بند کر دے یا تروتازہ نہ رہے۔ جابجا اپنی چھوٹی سی دکانیں سجائی بیٹھی عورتیں نظر آتی ہیں،یہاں جو مربے کے معجون بنا کر یہاں بیچتی ہیں اور آپ کو چائے پلاتی ہیں ۔ پھر سماواروں سے اُٹھتا دھواں تو ا س بات کی نشانی ہے کہ یہاں سےروس کی سرحد بہت قریب ہے کیوں کہ طرزِ رہن سہن روسی تر ہوتا جاتا ہے یعنی آپ داغستان کی جانب جاتے ہیں تو راہ میں کوئی سنگِ میل نہیں ہوتا کہ خوش آمدید رسول حمزہ توف کے پیارے وطن داغستان میں داخل ہونے جا رہے ہیں۔ یہ سماوار ہی سنگِ میل کا کام دیتے ہیں،پتھر پر کلچر کو کتنی فوقیت ہے، آج دیکھا!جبھی تو رسول حمزہ توف نےاپنی کتاب "میرا داغستان” میں اپنے کلچر اور زبان کو نہ ترک کرنے کی قسم دلائی ہے سب کو۔مجھے علم تھا یہاں جاتے ہوئے کہ جب میں سفر کا احوال لکھوں گی تو میرے اردو کے قارئین مجھ سے اپنی رسول حمزہ توف سے عقیدت کا اظہار کریں گے۔ اس لیے میں نے شاہ داغ جا کر سب سے پہلے سلامِ عقیدت عرض کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
لفظ بھی تو کیسی لڑ ی ہوتے ہیں! آپ کی زبان، قلم یا قلب سے نکلتے ہیں اور کسی کے ذہن اور رُوح میں جگہ پا لیتے ہیں۔ کوئی تو ان کو قابلِ تقلید جان کراپنی حیات کو ان کے طابع کر لیتا ہے۔ بےشک ایسے لفظ میرے تو ہو نہیں سکتے، یقیناً رسول حمزہ توف کے ہو سکتے ہیں۔ اور میں اس وقت اپنے "گوزلیم” یعنی مشاہدے کے ،مراقبے کے عالم سے نکل کر رسول حمزہ توف نامی طلسم میں قید ہو چلی تھی ۔ میرا حافظہ تیزی سے موزوں لفظ یاد کرر ہا تھا جو اتنے پُراثر ہوں کہ میرے قارئین کو میرے ساتھ چلا سکیں، بیچ میں چھوڑ کر نہ جائیں کہ ابھی تو مجھےان کو بھیڑوں کے وہ گلے بھی دکھانے تھے جو خدا کے آسرے پر چر رہے تھے لیکن میری موجودگی سے ڈر رہے تھے۔چائے فروشوں کے ساتھ ساتھ یہاں قصاب بھی تھے جو بھیڑ کا تازہ گوشت کپڑے میں لپیٹ کر فروخت کرر ہے تھے۔اتنا تازہ گوشت میں نے ترکی میں بھی نہیں دیکھا۔
ترکی کا باورچی ہو، آذر بائیجا ن کا گوشت ہو تو کیا ہی بات ہو بل کہ کیا ہی پکوان ہو! بےمثال! مکمل !چائے کی طلب ان باغوں کی طرح میرے اندر ہری رہی جن میں موسمی پھل جانے کس جرم کی پاداش میں لٹک رہے تھے۔ یہاں انگور کا گچھا ہو کر لٹکا رہنا کس قدر خوش نصیبی کی بات ہے!
پہاڑوں سے بہتا پانی اب قدرے گدلا ہو رہا تھا ۔ شایدغیض و غضب کے عالم میں بہنے سے میلا ہو چلا تھا۔ پر سکون بہتی ندیوں کو میں نے میلا نہیں دیکھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں راہِ حیات پر چلنے میں کس قدر سکون چاہیے ہوتا ہے! غیض وغضب ہم کو بھی گدلا کر سکتا ہے۔
رہِ شوق کا قافلہ ایک چیری کے باغ کے احاطے میں بنے قہوہ خانہ نما ریستوران کے دروازے پرر کا جس کی اولین وجہ یہ تھی کہ یہاں ترکی کا جھنڈا لہراتا نظر آیا تھا مگر ہم نے مطلوبہ میز مہیا نہ ہونے نے پر احتجاجاً وہاں سے آگے جانے کا سوچاا ور پھر صبر کا پھل یعنی صبر کی چائے تو ہمیشہ میٹھی اور شاندار ہی ہوتی ہے۔یہ آگے جا کر کھلاتھا۔ ڈھلوانی سڑک جس کے ہر د و طرف ڈھیر ساری خوب صورتی خزاں میں جھڑچکے پتوں کی طرح بکھری پڑی تھی، ہم ایک میدان میں پہنچے جہاں چند گھوڑے ٹہل رہے تھے اور ایک ناشپاتی کے بوڑھے مگر ہرے بھرے، پھل سے لدے پیڑ کے تلے چند گائیں سستا رہی تھیں اور ان سے ذرا فاصلے پر جنگلی بابونج کے پھولوں اور بیری والے میدان میں بھیڑ اور دیگر جانور گھاس چرنے میں مگن تھے۔یہاں مجھے سوکھا ہوا گوبر بھی گوہرِ نایاب کی طرح لگ رہا تھا ،سو میں نے اُتر کر چند لمحات ان حیوانات کی معیت میں گزارنے کا فیصلہ کیا۔
چار ٹانگوں والے جانوروں سے مجھے قطعی کوئی خوف نہ آ رہا تھا جیسا کہ حیوانِ ناطق یعنی دو ٹانگوں والوں سے ہوتا آیا تھا اور میں ان کی معیت سے دور بھاگتی تھی۔
میری آرزو یہ تھی کہ کسی بزغالے یا بھیڑ کے چند ہفتوں والے بچے کو گلے لگا کر ویسے چوم کر پیار کروں جیسے کوئی ماں شام کو کام سے لوٹ کر اپنے ننھے بچے کو سینے سے لگا کر پیار کرتی ہے مگر وہ میری ممتا سے جھجھک رہے تھے، قریب نہ آ رہے تھے۔ اس پل مجھے اتنی فرحت ، اتنی دلی راحت نصیب ہوئی تھی کہ جو کسی بڑے سے بڑے سربراہ کی تقریر ترجمہ کر کے یا ملاقات کر کے بھی نہ ملی تھی۔کچھ تو مختلف تھا معیار شاید، کردار شاید۔ سائے میں کھڑے ، بیٹھے، لیٹے، آنکھیں موندے، سر ایک دوسرے سے جوڑے سستاتے جانوروں کو ان کے حال پر چھوڑ کر ہم آگے چلے گئے کہ ہمیں شاہ داغ پہنچنا تھا۔ چائے کے لیے پڑاؤ ڈالنا بھی ضروری تھا مگر سڑک اتنی بل کھاتی ہوئی باریک سی تھی کہ یہاں گاڑی روکنا دانش مندی کا مظاہرہ نہ ہوتا۔ چلتے رہتے ہوئے ادراک ہوا کہ شاہ داغ کے دامن میں بہتے شاہراہِ آبشار تو آ کر ہی نہیں دے رہی۔پوچھنے پر پتا چلا کہ چار کلومیٹر مزید چلنے پر کچھ آثار نظر آئیں گے۔ اب یوں ہوا کہ آثار تو نظر آ گئے مگر انٹرنیٹ اور فون کے سگنل آنا بند ہو گئے۔ اتنی بلندی تھی کہ جتنی میری فکر کی بلندی یعنی ضرروت سے کچھ زیادہ۔ اس کا نتیجہ اکثر پھسلنے کی صورت میں نکلتا ہے خیر شاہ داغ نظر آ گیا ۔جہاں دیواروں سے ٹیک لگائے شاخِ گلاب باہر جھانکتے ہوں، وہاں دست نہیں دل بدعا ہوتا کہ معبود اتنی مہلت تو دے میری غم سیر آنکھوں کوکہ ان مناظر کو پتلیوں میں محفوظ کر لوں اور دل کے حافظے پر نقش کر لوں اور جب چاہوں باہر نکالوں۔اپنے گرد کے جحیم کو جنت بنا سکوں۔ماں کی دعا کی طرح سایہ فگن درختوں کے دو رویہ راستے پر دل آگے چل رہا تھا، گاڑی اس کے تعاقب میں دوڑ رہی تھی اور گاڑی میں ہم بیٹھے تھے۔ناک کی سیدھ میں چلیں تو داغستان آتا ہے۔ شاہ داغ کے دامن میں جائیں تو”جسارت” آپ کو چائے پیش کرے گا۔
شاہ داغ سبزے کے لبادے میں لپٹا ، چوٹی پر چاندی جیسی برف سجائے، دامن میں درختوں کو جگہ دیے، وسعت قلبی سے کھڑا تھا۔ اس کے نیچے آبشار بہ بہ کر دریا کی شکل اختیار کر چکی تھی۔گاڑی سے نکل کر مجھے خوب صورتی اور پیلے پھولوں کے فرش نے جکڑ لیا تھا ۔ پودے سبھی پھولوں والے، گھاس پر جیسے پھول اضافی خوب صورتی کے لیے چھڑک دیے گئے ہوں۔ پتھر سفید تھے۔ اتنے سفید جتنے کہ ہمارےجھوٹ ہوتے ہیں اور ہم ان پر پیر رکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ یہاں لکڑی کے میز اور کیبن بنے تھے جن سے سیب اور ناشپاتی کے درخت جھانک رہے تھے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کچے باداموں کا مربہ اور جنگلی اجوائن کی چائے زیادہ اچھی ہے کہ وہ منظر۔ اب ہم باضابطہ داغستان میں تھے۔ بس یہ پہاڑحائل تھا بیچ میں جو آذر بائیجان کو داغستان سے یوں جدا کر رہا تھا جیسے ہماری انا ہمیں اپنے اقربا و اعزا سے جدا کرتی ہے اور ہم لوگ دوسری طرف بیٹھ کر کُڑھتے رہتے ہیں ۔ ہمیں چائے پیش کرنے والا چھوٹا سا دس سالہ بچہ "جسارت” تھا۔ میرے اندر کی ترقی پسند و عدالت پسند عورت چائلڈلیبر پر ایک دو دقیقے کی تقریر تیار کیے ہی بیٹھی تھی کہ جسارت نے مسکرا کر بتایا کہ وہ سکول جاتا ہے مگر کورونا کی وجہ سے سکول بند ہیں اور وہ اب اپنے باپ کے ساتھ کام سیکھتا ہے۔ چائے بنانا اور پیش کرنا اور گاہکوں کا مزاج سمجھنے کا کام! واہ رے سوویت کے زمانے! تیری جڑیں اس سماج میں بہت گہری ہیں۔ اب کسی فرد کو ہم چاہ کر بھی بےکار بیٹھنے پر قائل نہیں کر سکتے۔ ہر فرد وقت کا مثبت استعمال جانتا ہے۔
پیلے پھولوں کے قطعے میں بعد از چائے نوشی ،اپنی حسرت کی نگاہ پھیلا کر گاڑی میں بیٹھی۔
؎سلام سُلطانِ سُخن! تیرا وطن
بہشت کا چمن ، سمٹتے ہیں
جہاں زمین و زمن
عقیدت کے پھول وافر
اور ہم تنگ جیب و دامن!
دل رُخصت نہیں چاہتا ہے سو ہم اپنا بدن گاڑی میں سوا رکر کےاسے تیرے حوالے کر کے جا رہے ہیں۔
اسے بھی وہ تراکیب سکھا دینا جو صفحات پر اتر کرفسوں کا فسانہ رقم کرنے کی طاقت رکھتے ہیں ۔ کہاں ہم عاجز بیان و کم درجہ قلم کار، کہاں تیرا ہر جملہ شاہ کار۔ بس ان کروڑ ہا عقیدت مندان کا سلام قبول کر رسول حمزہ توف کہ جن کو تیرے تشبیہات نے تشکیک سے نکال کر تیقن کے رستے پر ڈال دیا۔ داغستان کی سرحد سے پلٹنے والے شخص کی اداسی کی داستان کے لیے قلم کا ساتھ ناکافی ہے کہ دل تھامنا قلم کا کام ہی نہیں۔
انہی دل نشین راہوں پر واپسی کا سفر تھا اور دل تھا کہ وہیں رہ گیا تھا۔اب آنکھیں دل کا کام کر رہی تھیں اور چاہ رہی تھیں کہ کوئی معجزہ رونما ہو جائے اور یہ سب مناظر مجھ میں قید ہو جائیں اور ساتھ چلے جائیں۔انھی خیالات میں گم میرے مراقبے کا طلسم چند چھوٹی بچیوں کے تبسم نے توڑا۔ وہ کچھ تھیلے لہرا رہی تھیں۔میں نے شیشہ نیچے کر کے چلتی گاڑی میں سے پوچھا کیا ہے ان میں؟ جواب آیا” کیکِک اُتو” المعروف زعتر یا تھائم۔
میں نے غالباً تین انگلیوں سے ان کو اپنے پیچھےآنے کا اشارہ کیا تو وہ دوڑتی ہوئی آئیں۔ ڈھلوانی رستے پر اترائی میں گاڑی روکنا مشکل ہوتا ہے ،سو مناسب جگہ پر گاڑی روک کر ان سے سودا طے کیا۔ میں نے سب تھیلے خرید لیے ۔ ایک منات کے حساب سے یہ مہنگا سودا نہیں بل کہ کافی سود مند تھا۔اتنا زیادہ زعتر تو باکو میں بھی نہیں ملتا اور خوشبو قاتل تھی۔ان بچیوں کی خوشی اس پر سوا تھی جن کو زعتر فروخت ہونے سے زیادہ اس بات کی خوشی تھی کہ ان کے گاہک تُرک ہیں بل کہ ان میں سے ایک نے تو ترکی ٹوپی بھی پہن رکھی تھی۔ وہ چہکتے ہوئے بولی:”
آپ لوگ ترکی سے آئے ہیں؟”

 

 

آخری قسط
گاڑی میں لگےجھنڈے اور زبان سے اندازہ لگانا مشکل نہ تھا۔ ہمارے اقرار پر وہ نہال ہوئی۔ میں نے نام پوچھے۔ "ترکان”،” نارے”،”عائصو” اور ان کی تصویر بنائی۔ان بچیوں نے یک زبان ہو کر کہا:
"ہمیں ترکی سے بہت پیار ہے” اور ہمیں سلام کر کے رُخصت کیا۔وہ خوشی اور خوشبو ہمارے ذہن اور سینوں میں بس گئی۔
قُبیٰ شہر میں واپس داخل ہوئے تو جس پارک کو ڈھونڈ رہے تھے، وہ ازخود ہماری راہ میں آ گیا۔ واہ رے مولا!
ہم جس کی چاہ کرتے ہیں، وہ ہماری راہ میں آتے ہیں!
پارک کی خوب صورتی بےمثال تھی۔ایک طرف ترکی کا جھنڈا،چاند ستارہ ،عثمانی عہدوالااور موجودہ صدارتی نشان اور غازی مصطفیٰ کمال اتاترک اور طیب اردوان کےاقوال موجودتھے ۔ دوسری جانب آذر بائیجان کا جھنڈا اور ان کا قومی نشان اور قو می نقش جسے "بوطا” بھی کہا جاتا ہے ، وہ پھولوں سے بنا تھا اور دیوار پر الہام علیوف اور حیدر علیوف کے اقوال لکھے تھے۔اس پارک میں چند اقوال درج تھے ، جو یوں تھے:
"آذر بائیجان اور ترکی ایک قوم اور دو ملک ہیں۔” جناب حیدر علیوف
"آذر بائیجان کا غم ہمارا غم ہے اور اس کی خوشی ہماری خوشی ہے۔” جناب غازی مصطفیٰ کمال اتاترک
"آذر بائیجان اور ترکی کی دوستی اور بھائی چارہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہے۔ ” جناب الہام علیوف
"ترکی اور آذر بائیجان کے تعلقات مثالی قسم کے ہیں بلاشبہ جیسے کہ غازی مصطفیٰ کمال کا فرمان ہے کہ:
"آذر بائیجان کا غم ہمارا غم ہے اور اس کی خوشی ہماری خوشی ہے۔” یہ فرمان کل بھی حقیقت تھا ، آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا۔” جناب رجب طیب اردوان
وہاں سفید بینچ بھی رکھے ہوئے تھے۔ دوستی کے اظہار کا اتنا خوب صورت انداز تو پھر ترک تہذیب میں ہی ملتا ہے۔سامنے سڑک پر چیری کے درخت کھڑے ہیں۔ایسا لگتا تھا کہ جیسے قُبیٰ میں چیری یا شاہ دانہ ہی بنیادی غذا ہے۔زیتون و قانو ن کی پاسداری والا یہ ملک سوویت سے آزاد ہونے کے بعد خود مختار وطن کے طور پر مجھ سے دو چار برس ہی بڑا ہے۔یہاں ندیاں ایسے بہتی ہیں جیسے آپ کے آنسو بہ کر تکیے تلے جذب ہوئے رہتے ہیں یعنی بےآواز۔ گھاس بھی یک رنگی اُگنے سے انکار کرتی ہے۔اس قدر جنگلی پھول تھے کہ بادام و ببول اس راہ کی دھول تھے۔چیری کے چھوٹے بڑے درخت شاخ بھر کر استقبال کرتے تھے۔ہاتھ بھر کے فاصلے پر چیری لٹک رہی تھی۔ پریوں کی نگہداری میں چرتے بھیڑوں کو بھیڑیوں کاخوف لاحق نہ تھا، وہ کون سا گھاس چر کر بڑے ہوئے تھے کہ بزدل ہوتے، وہ تو پھول چرتے تھے۔
چیری کے بارے میں چند معلومات ذہن نشین کر لیں۔ میں لسانیات کی طالبہ ہوں تو وہ چیز مجھے کبھی کبھی اضافی معلومات دینے اور لینےپر اُکساتی ہے۔چاہے آپ لوگ اُکتا جائیں مگر میرا ماننا ہے کہ علم اپنے ساتھ قبر میں لے جانا گنا ہ ہے۔اسے بانٹنا چاہیے، تو پڑھیں:
چیری کو ترکی میں ہم "قیراز”کہتے ہیں۔ یہ لوگ یہاں”گلامس”، "آل بالہ”، "ویشنے”، "گیلان نار” وغیرہ کہتے ہیں اور چیری کی یہاں بے پناہ اقسام ہیں۔ مگرسیاہ ، سُرخ اور پیلا عام ہیں۔
اب قُبیٰ شہر سے نکل کر قُصار نامی شہر سے گزر کر ہمیں خاچماز کے ایک قصبےنابران میں جانا تھا جو پھر داغستان سے سولہ کلومیٹر کے فاصلے پہ تھا یعنی آذر بائیجان کے شمال مشرق میں۔قُصار کا علاقہ تو بادام اور انگور کے باغات کا مسکن ہے البتہ یہاں گرمی خاصی تھی۔لوگوں کے رنگ جھلسے ہوئے لگ رہے تھے۔کھیتوں میں گھوڑے اور خواتین سر جھکائے مصروف تھے۔ایک ویسے ہی، ایک کام کے سلسلے میں۔ راستے میں چند کوے سڑک پر مرے ہوئے سانپ کو نوچنے میں مصروف تھے۔ثابت ہوا کوے زہر سے بھی نہیں مرتے۔ کوا خصلت ہو کر جیناکس قدر ہزیمت واذیت کا باعث ہو گا، یہ منفی رویوں والے منافقین کو پتا ہو گا۔مجھے سورج کی تپش سے غنودگی محسوس ہو رہی تھی مگر بھوک کی طرح اس پر بھی قابو پا رہی تھی تاوقت یہ کہ خاچماز شہر میں داخل ہوئے۔ خاچماز شہر پر بعد میں بات کرتے ہیں۔ ابھی ہم کیسپیئن کے کنارے چلتے ہوئے نابران چلتے ہیں۔ وہاں سے داستان سمیٹ کر یہاں پر بات کرتے ہیں۔
نابران جاتے ہوئے راہ میں ایک کتا زمین پر کچھ سونگھتا ہوا نظر آیا اور مجھے ان خوراک کے پیکٹس کا خیال آیا جو ہم نے اپنے لیے چاکلیٹ خریدتے وقت کتے اور بلیوں کے لیے ،لیے تھے کہ اگر کہیں کوئی بھوکا کتا بلی نظر آئے تو ہم ان کےسامنے خالی ہاتھ ہو کرشرمسار نہ ہوں۔ سو جلدی سے پیکٹ کھول کر کتے کے آگے ڈالا مگر کتا جھجھک رہا تھا۔میں نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ آ کر کھالو، ہم جا رہے ہیں۔ وہ آیا اور کھا گیا مگر وہ بھوکا تھا۔ دوسرا پیکٹ بھی اس کو دیا۔
اب ہم کیسپیئن سی کو دیکھ رہے تھے اور حیران ہو رہے تھے کہ اس قصبے میں ہمیں کوئی ذی روح کیوں نظر نہیں آ رہا۔پتا چلا کہ یہاں صرف ایک ہزار تین سو نفوس ہیں۔خیر مطلوبہ ریستوران جو ایک پہاڑی پر واقع تھا کو ڈھونڈنے تلک معدے پر کیا کیا نہ گزرا بھوک کے مارے۔
یہاں بھی سورج اتنا تابناک تھا جتنا مستقبل ہماری آنکھوں اور دماغوں میں روشن ہوتا ہے مگر ہم عین دوپہر سمے کسی سائے کے پیچھے دوڑ کر روشنی سے تاریکی میں آ جاتے ہیں۔ ہم بھی پشت پر سورج کو چھوڑ چکے تھے ۔ دل خوشی کی خیرات پر اچھلتا رہتا ہے جب وہ سنگِ میل پڑھ لے کہ داغستان ۱۶ کلو میٹر۔ ارے واہ! داغستان جو کوہ قاف کا مرکز ہے جہاں پریاں ہوں ، نہ ہوں، ایسے انسان ضرور ہیں جن کا کلام جہان بھر کی شیرینیات سے زیادہ حلاوت رکھتا ہے۔
؎جمالِ کم نما ترا آئینہ
سلیمانی سنگ سے اجلا ہو
تو نظر آئے روپِ جانا نہ
ریستوران کے احاطے میں، جو کسی باغ کا گوشہ معلوم ہوتا تھا، گھنے پیڑوں کے چھاؤں تلے گاڑی کھڑی کی۔ہوا میں خنکی دریا کنارے ہونے کی وجہ سے بڑھ چکی تھی۔اگر چہ اسے دریا نہیں سمندر کہا جاتا ہے مگر اردو میں دریائے کیسپیئن کہنا شاید مناسب رہے ورنہ وہ ایکPsuedo Liberal قسم کے پاکستانی انکل جو کسی بیرونی ملک میں مقیم ہیں وہ لڑنے آ جائیں گے کہ ترک زبان میں کیسپیئن سی کو”ہزار دینیز” کیوں کہا جاتا ہے۔
بڑے ہوشیار تےوہ بزرگ اپنا ذکرِ خیر بل کہ شر اس سفرنامے میں لکھوا ہی گئے لڑائی کے سبب۔
خنکی کی وجہ سے میں نے سویٹر لینا مناسب سمجھا،قبل اس کے کہ ہونٹوں کو نیلا پڑنے کا موقع فراہم کرتی۔ سر میں درد بھی تھا سو ایک گولی پھانکی۔ خالی معدے کے ساتھ دوا لینا اچھا نہیں مگر میر ی مجبوری تھی۔ درد بڑھ سکتا تھا۔میز پر آن رکے ہی تھے کہ بیروں کے نرغے میں آ گئے۔ہر ایک ہمیں کھانا پیش کرنا چاہتا تھا۔ وجہ یہ بتائی کہ ترک بہت کم یہاں آتے ہیں۔ظاہر ہے اتنے دور درازعلاقے میں کون آئے گااِلا کہ مجھ ایسا کوہ قاف کے عشق کا مارا، آوارہ ہو یا پھر جنگیز ایسا بےچارہ جو منجمد اور حارا منطقوں کی پروا کیے بنا سفر پر نکل پڑتے ہیں۔ گارسون نے مشورہ دیا کہ لبِ دریا آ چکے ہیں تو مچھلی تناول کیجیے۔کم کانٹوں والی مچھلی لانے کو کہا اور چند بھیڑ کے گوشت کے نرم تکے جو مچھلی ہی کی طرح سیخوں میں پرو کر کوئلے پر بھونے گئے تھے اور سلاد میں مائدا نوز یعنی بقدسونس نہ ہونے پر پیشگی معذرت کی گئی کہ ترک گوشت کے ساتھ یہ لازمی کھاتے ہیں۔ پیپسی بھی لائی گئی جسے میں کالا پانی کہا کرتی ہوں۔ایک چٹنی جسے ہم "ایزمے” کہتے ہیں یعنی کوٹی ہوئی لال مرچ، ٹماٹر اور لہسن وغیرہ سے تیار شدہ مرکب ۔ لہسن والا دہی بھی تھا۔ یہ غذا کھا کر آنکھیں اور معدہ پرسکون ہوئے تو ہمیں گردو پیش کا ہوش آیا۔ سبزہ یہاں بھی وہی تھا جیسا اس علاقے میں دیکھنے آئے تھے۔چیری، انگور، سیب، ناشپاتی، بل کہ قُبیٰ کے سیب توشہرتِ دوام رکھتے ہیں۔ ہمیں کھانا پیش کرنے والا لڑکا چائے لے آیااور میرا فون چارج پر لگا آیا تو ہم نے اس سے نام پوچھا۔ اس نے بتایا کہ اس کا نام پروین ہے۔ آپ لوگوں کو عجیب لگ رہا ہو گا مگر پروین ترکی اور آذر بائیجان میں مردوں کا نام ہے۔ خیر پروین نے بتایا کہ وہ ہجرت کر کے یہاں آیا تھا اور وہ کلبجار کا رہنے والا ہے۔
ہم نے جنگ میں فتح اور ان کے گاؤں کوآرمینیا کے قبضے سے آزاد ہونے کی مبارک باد دی تو وہ رو پڑا۔پروین کی سبز آنکھیں برس پڑیں۔ وہ بڑا ہی خوبرو نوجوان تھا لیکن اب بچے کی طرح ر ور ہا تھا۔ اس کے ہاتھ چائے کی طشتری پر مضبوط ہو گئے۔اگر کوئی اسے کندھا فراہم کرتا تو وہ بلند آواز سے روتا اور اپنے آنسو بھی نہ روکتا۔ بولا میں جذباتی ہو گیا مگر اٹھائیس سال قبل میرے ماں باپ اور رشتے داروں کو اپنے ہی مکانات، دکانات سے جانوروں کی طرح ہانک کر نکالا گیا۔ میں تو اتنا چھوٹا تھا کہ یاد بھی نہیں کہ میرے گاؤں کی مٹی کی خوشبو کیسی ہے؟خبروں میں سنا کہ میرا گاؤں دشمن کے قبضے سے آزاد ہو گیا ہے تو میں نہ ہنس سکا، نہ رو سکا مگر میرے گھر والے روتے رہے۔
ہم جو ہجرت سے واقف تھے، ہمیں پروین کی باتیں داستانِ محض نہ لگ رہی تھیں بل کہ اچھا لگ رہا تھا۔حب الوطنی نہ نکل سکی تھی ان کےاندرسے۔آرمینیا نے بڑے خسارے کی جنگ لڑی۔آذر بائیجان ہر دو میدان میں فاتح رہا۔اپنی زمین بھی واپس لی اور اپنا انتقام بھی لیا۔
پروین کو روتے دیکھ کر ہاتھ میں رباب یعنی ساز پکڑے ایک بزرگ "عاشق عباس زرگر” تشریف لائے جو شاعر اور موسیقار تھے۔وہ بولے ہم سب ادھر کام کرتے ہیں۔ ہم دس خاندان تھے جن کوکلبجار سے بےدخل کیا گیا تھا ۱۹۹۳ء میں اور میں سب کچھ چھوڑ آیا تھا،بس یہ ساز نہ چھوڑ سکا اور شاعری کی کتابیں اُٹھا لایا۔ عاشق عبا س نے بتایا کہ وہ دس خاندان یہاں نابران آ گئے اور اس ویران خطے کو آبا دکیا اور اسے مشہور ترین سیاحتی مقام بنا دیا حالانکہ بےسرو سامانی کے عالم میں آئے تھے۔عاشق عباس زرگر نے ہمارے لیےکلبجار کی دُھنیں بجائیں۔
آئیے پہلے میں آپ کو بتاؤں کہ یہ کلبجار ہے کیا؟ کلبجاردراصل آذر بائیجان کا ایک قصبہ ہے جو دریائے تار تار کے کنارے واقع ہے۔ اس کا نام کلوی جار تھا یعنی قدیم ترک زبان میں دریا کنارےچٹانوں والی جھونپڑی کا قصبہ جسے آرمینیا نے قبضے کے بعدکار اوِچار کر دیا تھایعنی پتھر فروشوں کا قصبہ۔
خیراسے اب۲۸ سال بعد آذر بائیجا ن نے جنگ میں آزاد کرا لیا ہے۔آرمینیا کے قبضے سے تواصلی نام بھی لوٹا دیا ہے۔اب وہاں تعمیر مکمل ہو توسب بےگھر کیے گئے افرادواپس جائیں گے۔عاشق عباس زرگر کوہم سے مل کر بڑی خوشی ہوئی تھی۔وہ چاہتا تھا کہ ہم اس کی موسیقی سنتے رہیں۔وہ ہمارے لیے پرانے ترک طرز پر ٹپے سناتا رہا ۔پھر جنگ کی بات چلی تو ترکی اور پاکستا ن کےمثبت کردار کی تعریف ہوئی۔اب ترکی کی نمائندگی کے لیے تو ہم موجود تھے مگر پاکستان کی نمائندگی کون کرتا؟ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ میں علامہ اقبالؒ کا وہ مشہور شعر پڑھوں جو انھوں نے سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے پر اور جدید ترکی کے لیے نئی اُمید کے طور پر لکھا تھا۔
؎اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
عاشق عباس زرگر موسیقی بجاتے رہے۔میں نے بمشکل اپنے حافظے سے یہ شعر نکالا کیوں کہ اردو بولے ہوئے زمانے ہوئے جاتے ہیں ۔خیر یہ شعر ترکی میں بڑا مقبول ہے کیوں کہ رجب طیب اردوان ترک صدر اپنی تقاریر میں اسے ضرور شامل کرتے ہیں۔عاشق عباس زرگر کو ہم نے معنی بتایا تو وہ نہال ہوئے۔ ہمیں اپنی کتب دینے کا وعدہ کیا اور تصاویر بنوائیں اور ساز پکڑنے کا درست طریقہ بھی بتایا۔ وہ بولے اگر آلاتِ موسیقی یا وہ چیز جو آپ کے ہنر کا آلہ ہو، اسے دل سے قریب نہیں رکھو گی تو وہ فن کے میدان میں تمہارا ساتھ نہیں دے گا۔عاشق عباس زرگر نےمعراج کے واقعے پر نعت کی شکل میں ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خراجِ عقیدت بھی پیش کیا۔
دل تو نہ چاہتا تھا کہ یہ محفل برخاست ہو مگر شام اُتر چکی تھی اور ہمیں باکو کی راہ لینی تھی۔اجازت لے کر چلے تو خاچماز تک سڑک پر دو رویہ پیڑوں کو تکتے رہے جو اخروٹ اور زیادہ تر فندق یاhazel nut کے تھے۔جس طرح قُبیٰ شہر میں چیری وافر پائی جاتی ہے۔اسی طرح یہاںhazel nut کےباغات ہیں اور جگہ جگہ hazel nutکے خرید و فروخت کے کارخانے ہیں جیسے گندم کی ملز ہوتی ہیں۔بےانتہا فصل ہوئی تھی اس سال فندق کی۔خداکی شان! کھیتوں میں ٹماٹر کی فصل لگی تھی اوراسٹرابیری کی اتری تھی۔بالٹیوں میں سرِ راہ بکتی اسٹرابیری ہم نے خریدی۔ آلوچوں کے دام بھی کھرے کیے جو کھٹے میٹھے سے تھے۔
راستے میں جابر اوبا، مظفر اوبا اور محمد اوبا سے گزر کر خاچماز شہر پہنچے۔ اوبا یعنی قبیلہ۔ ہر قبیلے کا اپنا علاقہ تھا اور وہ مرغیاں، ٹرکی (رومی)پرندے، گھوڑے، گائے اور بھیڑ بکریاں وغیرہ پالتے ہیں اور اپنے باغات کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔خاچماز شہر جس کو میں مزاحاً قاچماز یعنی”بھاگنے نہ پائے گا” کہتی ہوں، میں داخل ہوئے تو حیرت کے در مزید وا ہوئے۔
خاچماز شہر کو سچ مچ افسانوی شہر کا درجہ حاصل ہے جیسا کہ آپ نے دیو مالائی کہانیوں میں پڑھا ہو گا۔ جادوئی چراغ اور گھوڑوں،اُڑتے قالینوں وغیرہ کاذکر، وہ سب تاریخی عمارات، میوزیم اور چراغ وغیرہ یہاں موجود ہیں بل کہ اس کو باقاعدہ افسانوی تہذیب کا نمونہ شہر قرار دیا جا چکا ہےاور چند سال قبل دو ہزار سترہ میں یہاں ایک دیومالائی جشن یا میلہ بھی منعقد ہوا تھا جس میں بڑے بڑے جادوئی چراغ اور افسانوی کرداروں کے مجسمے نصب کیے گئے ،جو اب بھی نظر آتے ہیں۔ عجیب شہر تھا جیسے میں کوئی ناول کا صفحہ لکھ کر انتظامیہ کو دے آئی ہوں اور انھوں نےا س پر عمل کر کے یہ شہر سجایا ہو۔ ناقابلِ یقین حد تک حقیقی اور افسانوی۔ یہاں سے نکلنے کا دل تو نہ کرتا تھا مگر نکلنا تو تھا کہ اندھیرا ہونے سے قبل مرکزی شاہراہ تک پہنچا جائے۔
شہر سے نکلنا آسان ہے۔ شہر کو اپنے اندر سے نکالنا مشکل ہے جیسے کسی ریوڑ سے آپ بھیڑ کو جدا کر سکتے ہیں مگر بھیڑ کے اندر سے گھنٹی کی آواز پر دوڑنے کی فطرت نہیں جدا کر سکتے۔ بالکل اسی طرح ہم پھر شابران کی جانب عازمِ سفر تھے کہ ہمیں وہاں سے براستہ خردالان باکو میں داخل ہونا تھا۔
ان چھوٹی چھوٹی عمارتوں والے شہروں اور قصبوں کو چھوڑ کر طویل سڑکوں اور اونچی عمارات والے بےہنگم ٹریفک اور شور والے شہر باکو میں داخل ہونا تھا کہ جہاں خوب صورتی اپنی قدیم و جدید شکل میں پھر سے ہمارے قدموں سے لپٹنے کی منتظر تھی۔لہٰذا "اوقات” نامی ریستوران سے گزر کر ہم گھر پہنچے یعنی اپنی اوقات
میں آ گئے۔
ختم شد

پچھلا پڑھیں

پاک فوج کا افغانستان سے فائرنگ کے واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس

اگلا پڑھیں

اسرا بلگچ کی پاکستانی لباس میں خوبصورت تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے