ترک وزیر دفاع حولوسی آقار نے فری فائر 2022 مشق کے شرکا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ اور یونان دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی اور مسائل باہمی بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کی جا سکتی ہے۔
آقار نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ مسائل کو باہمی گفت و شنید اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن دوسری طرف، سب کو یہ جان لینا چاہیے کہ ہم کسی بھی طرح سے غلط کام یا ناپسندیدہ صورتحال کی اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہمیشہ "ذمہ دار، دانشمندانہ اور صبر آزما” پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
برسلز میں نیٹو کے اجلاس کے موقع پر یونانی وزیر دفاع نکولاؤس پاناگیوٹوپولوس کے ساتھ اپنی گزشتہ ہفتے کی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے، آقار نے کہا کہ ہم نے کھل کرایک دوسرے کے سامنے اپنے جذبات اور خیالات کا اظہار کیا۔
ہم نے اتفاق کیاکہ ایک جامع اور مستقل حل کے لیے ہمیں ملاقاتوں اور بات چیت کو برقرار رکھنا ہو گا۔
ترک وزیر دفاع نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اچھے ہمسایہ تعلقات کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے ان مسائل کو بین الاقوامی قانون کےتحت حل کر سکتے ہیں۔ اور ہم اب بھی یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے مسائل دو پڑوسیوں، دو اتحادیوں کے طور پر بات چیت اور ملاقات سےبغیر کسی تیسرے فریق کی مدد کے حل کیے جا سکتے ہیں۔
آقار نے مزید کہا کہ ترکیہ کسی کے لیے خطرہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک "مضبوط، قابل اعتماد اور موثر” اتحادی ہے۔
