صدر رجب طیب ایردوان کا کسانوں کے حق میں بڑا فیصلہ، صدر رجب طیب ایردوان نے زرعات بینک کے زیرِ اہتمام منعقدہ پانچویں زرعی ماحولیاتی نظام اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کسانوں کے لیے متعدد نئے مالیاتی پیکجز کا اعلان کیا اور کہا کہ ترکیہ زرعی پیداوار اور کسانوں کی معاونت کو قومی ترجیحات میں سرفہرست رکھے ہوئے ہے۔
صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ترکیہ کسانوں کی سرکاری معاونت کے حوالے سے اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کے اوسط کے مقابلے میں تقریباً دو گنا زیادہ معاونت فراہم کر رہا ہے، جو ملک کے زرعی شعبے کی مضبوطی کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی بحرانوں اور جنگوں کے دوران ترکیہ نے مؤثر سفارت کاری کے ذریعے اناج کی ترسیل دوبارہ شروع کروا کر ایک بڑے انسانی بحران کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق اس صورتحال نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ ترکیہ کے لیے اپنی زرعی پیداوار اور غذائی خودکفالت کس قدر اہم ہے۔
صدر ایردوان نے کہا کہ حکومت نے برسوں سے کسانوں کی معاونت، آسان مالی سہولیات اور مختلف اصلاحات کے ذریعے زرعی شعبے کو مسلسل مضبوط بنایا ہے، جبکہ زرعات بینک کا زرعی ماحولیاتی نظام اجلاس بھی اسی وژن کا تسلسل ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت زرعی شعبے کو صرف کھیتی باڑی تک محدود نہیں سمجھتی بلکہ کسان، زرعی صنعت، پیداوار، ترسیل اور صارفین سمیت پورے نظام کو ایک مربوط سلسلہ تصور کرتی ہے۔ ان کے مطابق اگر اس زنجیر کی ایک کڑی بھی کمزور ہو جائے تو پورا نظام متاثر ہوتا ہے، اسی لیے حکومت ہر مرحلے کو مضبوط بنانے کے لیے جامع پالیسیاں اختیار کر رہی ہے۔
صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ صنعتی اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسانی زندگی کو آسان ضرور بنایا ہے، لیکن زمین آج بھی زندگی کی بنیادی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اناج، پھل، سبزیوں، مویشیوں اور دیگر زرعی وسائل کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ان کی پیداوار کرنے والے کسانوں کی بھرپور حمایت جاری رکھے گی۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترکیہ کی آبادی 8 کروڑ 50 لاکھ جبکہ دنیا کی آبادی 8 ارب تک پہنچ چکی ہے، ایسے وقت میں زرعی زمینوں اور کسانوں کو نظر انداز کرنا درحقیقت مستقبل کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا۔
کسانوں کے لیے تین نئے مالیاتی پیکجز
صدر رجب طیب ایردوان نے کسانوں کی سہولت کے لیے تین اہم قرضہ اسکیموں کا اعلان بھی کیا۔
پہلی اسکیم کسان معاونتی قرضہ ہے، جس کے تحت کسان فصل کی کٹائی تک اپنے تمام اخراجات پورے کر سکیں گے۔ اس اسکیم میں فی کسان 2 لاکھ 50 ہزار ترک لیرا تک قرض فراہم کیا جائے گا، جس پر سالانہ 9.75 فیصد منافع وصول کیا جائے گا، جبکہ ادائیگی کی مدت 36 ماہ تک ہوگی۔
دوسری اسکیم کے تحت زرعی مصنوعات کو قابلِ استعمال اشیاء میں تبدیل کرنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو معاونت دی جائے گی، تاکہ زرعی پیداوار کی اضافی معاشی قدر براہِ راست مقامی پیدا کنندگان کو حاصل ہو۔ اس قرضے کی زیادہ سے زیادہ حد ایک کروڑ 50 لاکھ ترک لیرا مقرر کی گئی ہے، جبکہ حکومتی معاونت کے بعد سالانہ منافع کی شرح صرف 4.75 فیصد ہوگی۔
تیسری اسکیم زرعی قرضوں کی منتقلی سے متعلق ہے، جس کے ذریعے وہ کسان جنہوں نے دیگر بینکوں سے زیادہ شرحِ منافع پر قرض حاصل کر رکھا ہے، اپنے قرضے آسان شرائط کے ساتھ زرعات بینک منتقل کر سکیں گے، تاکہ ان پر مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔
صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت آئندہ بھی زرعی شعبے، کسانوں اور غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گی۔
