turky-urdu-logo

ترکی جیسے چاہے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرسکتا ہے، صدر ایردوان

ترک صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ ترکی جیسے چاہے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرسکتا ہے۔

گذشتہ ہفتے نیو یارک کے ترکیوی سینٹر میں امریکی اخبار کے ایڈیٹر سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ انقرہ نے روس سے ایس400 میزائل سسٹم خرید کر نیٹو یا مغربی اتحاد کو کمزور نہیں کیا ہے۔

صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ اگر واشنگٹن نے ترکی کو پٹریاٹ دفاعی میزائل فروخت کیے ہوتے تو انقرہ کو ایس400 خریدنے کی ضرورت نہ پڑتی” ہم اپنے ہتھیار خود خریدتے ہیں”۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا انقرہ کی جانب سے روسی میزائلوں کی خریداری امریکہ کے برابر ہے پر انکا کہنا تھا کہ میرے خیال میں یہ اسکے قابل تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے دفاعی نظام کو اپنی مرضی کے مطابق مضبوط کر سکتے ہیں۔

میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ ترکی روس سے مزید دفاعی نظام خریدنے کے لیے آگے بڑھے گا۔

انکا کہنا تھا کہ مستقبل میں کوئی بھی اس بات میں مداخلت نہیں کر سکے گا کہ ہم کس قسم کا دفاعی نظام خرید سکتے ہیں، کس ملک سے خرید سکتے ہیں اور کس سطح پر خرید سکتے ہیں، کوئی بھی اس بات میں مداخلت نہیں کرسکتا، صرف ہم ہی اس بات کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

اپریل 2017 میں جب امریکہ سے فضائی دفائی نظام خریدنے کی طویل کوششیں بے سود ثابت ہوئیں تو ترکی نے روس کے ساتھ جدید ایس400 سسٹم کے حصول کے لیے معاہدہ کیا۔

امریکی حکام نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ایس400 نیٹو کے نظام سے مطابقت نہیں رکھتا اور ایف 35 جیٹ طیاروں کو ممکنہ روسی زیر آب آنے کے لیے بے نقاب کر سکتا ہے۔

2019 میں واشنگٹن نے اعلان کیا کہ انقرہ کی طرف سے ایس 400 سسٹم خریدنے پر ترکی کو ایف 35 اسٹیلتھ فائٹر جیٹ پروگرام سے نکال رہا ہے۔

تاہم ترکی نے اس بات پر زور دیا کہ ایس 400 نیٹو سسٹم میں شامل نہیں ہوں گے اور اسکے ہتھیاروں کو بھی کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔

انقرہ نے بار بار اس مسئلے کو واضح کرنے کے لیے ایک کمیشن کے قیام کی تجویز بھی پیش کی۔

Read Previous

یوٹیوب نے ویکسین مخالف مواد پر پابندی عائد کردی

Read Next

پاکستان اور روس کا دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے پر اتفاق

Leave a Reply