fbpx
ozIstanbul

ترکی کے ساتھ دوستی اور اچھے تعلقات یورپ کے اپنے فائدے میں ہیں، صدر ایردوان

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکی کے ساتھ یورپ کے اچھے تعلقات اور دوستی اس کے اپنے فائدے میں ہے۔

وہ یورپین یونین کے اعلیٰ عہدیداروں سے انقرہ کے صدارتی محل میں ملاقات کر رہے تھے۔ یورپین کمیشن کی صدر اُرسلا وون ڈیر اور یورپین کونسل کے صدر چارلس مچل دو روزہ دورے پر آج ترکی پہنچے جہاں صدر ایردوان نے صدارتی محل میں ان کا استقبال کیا۔

یورپین یونین کے اعلیٰ عہدیداروں نے کہا ہے کہ یورپ ترکی کے ساتھ مضبوط دوستی اور مثبت ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ یورپ ترکی کے ساتھ معاشی تعاون اور مہاجرین کے معاملے پر ایک نیا معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ واضح رہے کہ بعض معاملات پر ترکی اور یورپین یونین کے درمیان کئی بار اختلافات پیدا ہوئے تاہم صدر ایردوان نے واضح کیا کہ ترکی یورپ کے ساتھ ہے لیکن اس کو ترکی کی کمزوری ہرگز نہ سمجھا جائے۔

یورپین کونسل کے صدر چارلس مچل نے کہا کہ صدر ایردوان کے ساتھ ترکی اور یورپ کے مستقبل کے تعلقات پر بات چیت ہوئی۔ یورپین کمیشن کی صدر اُرسلا وون ڈیر نے کہا کہ ترکی کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے دور پر بات ہوئی۔

چارلس مچل نے کہا کہ مشرقی بحیرہ روم کے معاملے پر ترکی کے ساتھ اختلافات پیدا ہوئے تھے تاہم یونان اور ترکی کے درمیان بات چیت اور یونانی وزیر خارجہ کی ترکی آمد سے کشیدگی میں نمایاں کمی آئی ہے جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق یونانی اور ترک قبرص کے معاملے کو حل کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔

انہوں نے کہا کہ مشرقی بحیرہ روم میں یورپین یونین کے سیکیورٹی اور امن و امان کے مفادات ہیں لیکن یورپ ترکی کے ساتھ تعلقات کو کسی صورت ختم نہیں کرنا چاہتا کیونکہ یورپین یونین سمجھتا ہے کہ مشرقی بحیرہ روم میں ترک مفادات کو اہمیت حاصل ہے۔

یورپین یونین کے اعلیٰ عہدیداروں نے صدر ایردوان کے ساتھ لیبیا کے معاملات پر بھی کھل کر بات کی۔ چارلس مچل نے کہا کہ یورپ لیبیا میں ترکی کے کردار کا معترف ہے۔ یہ ترکی کی ہی کاوشیں ہیں کہ لیبیا میں دوبارہ عام انتخابات کے لئے ماحول سازگار بن گیا ہے تاہم انہوں نے مختلف ممالک کے کرائے کے جنگجوؤں کو فوری طور پر لیبیا سے نکلنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا جب تک لیبیا میں مختلف ممالک کے کرائے کے جنگجو لیبیا میں موجود ہیں اس وقت تک پائیدار اور دیرپا امن قائم نہیں رہ سکتا۔

صدر ایردوان نے یورپین یونین سے دہشت گردی کے مستقل خاتمے اور امن و استحکام کے لئے تعاون کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپ کورونا ویکسین سمیت مختلف شعبوں میں ترکی کے ساتھ تعاون کو بڑھائے۔

یورپین کمیشن کی صدر اُرسلا وون ڈیر نے کہا کہ ترکی یورپ کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ انہوں نے یورپ اور ترکی کے درمیان تجارت کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپین یونین ترکی کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کے لئے کسٹمز یونین کے معاملات اور چیلنجز کو دور کرے گا۔ اس سلسلے میں یورپین یونین نے ابتدائی کام شروع کر دیا ہے۔

صدر ایردوان نے یورپین یونین پر واضح کیا کہ ترکی یورپی بلاک کی رکنیت کے لئے تیار ہے اور یہی ترکی کا حتمی فیصلہ ہے۔ انہوں نے یورپین یونین سے کہا کہ وہ اس معاملے میں ٹھوس اقدامات کرے کیونکہ ترکی کسی صورت یورپ کو نہیں چھوڑنا چاہتا۔

صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی یورپ کا حصہ ہے اور ترکی اپنا مستقبل یورپین یونین کے ساتھ دیکھتا ہے۔ صدر ایردوان نے امید ظاہر کی کہ رواں سال یورپین یونین ترکی کی بلاک میں رکنیت سے متعلق ٹھوس اقدامات کرے گا۔

واضح رہے کہ 25 اور 26 مارچ کو یورپین یونین کے ہونے والے سربراہ اجلاس میں اعلان کیا گیا تھا کہ ترکی اور یونان کے درمیان کشیدگی اور تنازعہ ختم ہوتا ہے تو یورپی بلاک ترکی کی رکنیت سے متعلق فیصلہ کرے گا۔

صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی مشرقی بحیرہ روم پر اپنے قانونی مفادات پر کسی طرح کو کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

پچھلا پڑھیں

اسرائیل نے فلسطینی تنظیم حماس اور فتح کے انتخابی امیدواروں کو بیت الحم سے گرفتار کر لیا

اگلا پڑھیں

ترکی: کورونا وائرس بے قابو، ایک روز میں کیسز کی تعداد 50 ہزار، اموات 200 سے تجاوز کر گئیں

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے