کشمیر میں ترک ڈراموں کی مقبولیت

تحریر:نعیمہ احمد مہجور

کشمیر میں تفریح کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں کہ جہاں لوگ جمع ہوکر تھیٹر کا مزا لیتے، سنیما میں فلم کا آنند لیتے یا پارک میں بیٹھ کر موسیقی سے لطف اندوز ہوجاتے۔

گزشتہ تیس برسوں سے جاری تشدد اور ہلاکتوں نے عوام کو ذہنی اور جسمانی طور پر نہ صرف مفلوج کردیا ہے بلکہ معاشی اور معاشرتی طور پر بھی وہ اندر سے شدید گھٹن کا شکار ہیں۔

پانچ اگست ۲۰۱۹ کے حکومت بھارت کے اندرونی خودمختاری ختم کرنے اور متنازعہ ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے فیصلے کے بعد تقریباً آٹھ سو روز تک انٹرنیٹ بند رکھا گیا اور عوام تک پہنچے والی ہر خبر کو سینسر کیا گیا۔

ایسے میں وہ لوگ خود کو خوش قسمت تصور کرنے لگے جنہوں نے ترکی ڈرامہ ڈیلریس ارطغرل کو ڈاؤن لوڈ کرکے رکھا تھا جس کی چار سو ستتر قسطیں ہیں اور وہ گھروں کے اندر محبوس اس کا لطف لینے لگے۔

جنوبی کشمیرکے مشتاق احمد کہتے ہیں کہ “میں نے ارطغرل ڈرامے کو اپنے لیپ ٹاپ پر ڈاؤن لوڈ کردیا تھا اور اس کی پین ڈرائیو بنا کر تقریبا سو طلبا کو فراہم کر دی جو پھر دوسروں تک پہنچاتے رہے۔ کرفیو میں بدستور رہنے اور انٹرنیٹ پر پابندی کے باعث ہم گھٹن محسوس کر رہے تھے۔ ارطغرل ڈرامے نے ہمیں نئی زندگی عطا کی، زندگی کا ایک نیا مقصد دیا، ایک نئی سوچ پیدا کی۔ گھروں میں قید رکھنے کی بھارتی سزا کا یہ فائدہ ہوا کہ ہم اسلام کی اُس تاریخ سے متعارف ہوگئے جس کے بارے میں ہمیں کوئی علم نہیں تھا”۔

ترکی ڈرامے کی گونج پورے خطے میں پہنچ گئی اور انٹرنیٹ پر پابندی ہٹنے کے فورا بعد بیشتر کشمیریوں نے پہلے ارطغرل کو دیکھنا شروع کردیا پھر کرولوس عثمان کا انتظار بڑھ گیا، پھر نیٹفلکس پر دوسرے ترکی سیریلز کو بار بار دیکھنے کی تڑپ بڑھتی گئی۔ اس وقت عالم یہ ہے کہ جس کسی کو فون کرتے ہیں تو ڈایل ٹون کے بجائے ارطغرل کی ٹائٹل موسیقی بجتی ہے، واٹ ازاپ یا سوشل میڈیا پر ارتغرل یا عثمان کی ڈی پی لگی ہے یا فیس بُک پر روزانہ یونس ایمرے کے کوٹس لکھے جاتے ہیں۔ غرض انٹرنیٹ کی وساطت سے ترکی اور کشمیر کے بیچ فاصلہ ختم ہوگیاہے۔

ارطغرل ڈرامہ کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ صلیبی جنگ کے خاتمے اور قیام سلطنت عثمانیہ کے بیچ کے اُس دور کی عکاسی کرتا ہے جب بارویں صدی میں غازی صلاح الدین ایوبی نے یروشلم کو حاصل کرنے اور فورا ان کے انتقال کے بعد مسلمان شدید طور پر سیاسی انتشار کا شکار ہوگئے تھے. انتشار اور غیر یقینی کی یہ صورتحال مسلمانوں میں تقریباً پندرہویں صدی تک قائم رہی. اسی پس منظر میں ترکی کے اوگوز قبائلی رہنماؤں نے مسلمانوں کو متحد کرنے اور دشمنوں کے خلاف صف آرا ہونے کی ایک لمبی جدوجہد شروع کی جن میں بقول ترکی مورخین ارطغرل اور بعد میں ان کے بیٹے عثمان امیر کارواں بنے۔

بعض مورخین کے حوالے سے یہ بات کہی جارہی ہے کہ عثمان کی فتوحات ہی دولت عثمانیہ کے قیام کی بنیاد بنی جو پھرچھ سو سال تک مسلمانوں کی متحد مرکزی قیادت کی صورت میں قائم و دائم رہی۔

پہلی عالمگیر جنگ کے بعد انیس سو باییس میں عثمانیوں کی مملکتیں جو ایک بار پھر بیرونی, اندرونی اختلافات اور انتشار کی وجہ سے کمزور ہوچکی تھی برطانیہ, روس,,فرانس اور یونان نے آپس میں بانٹ کر سلطنت عثمانیہ کو ہمیشہ کے لئے زمین بوس کردیا. یورپی ملکوں اور ترکی کے درمیاں معاہدے کے بعد جمہوری ترکی کے بانی کمال اتاترک نے بچے کھچے ملک کی باگ ڈور سنبھالی۔

ارطغل سیریز پر یورپ اور امریکی میڈیا میں بھی کافی تبصرے کئے گئے ہیں بلکہ ایک جریدے نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ یہ ڈرامہ ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے جو مسلمانوں میں ایک نئی سوچ کی آبیاری کرکے اُنہیں اسلامی جہاد کے لیے متحرک کرتا ہے۔

آپ کو شاید یاد ہوگا کہ سن اسی کے اوائل میں ہالی وڈ کی فلم عمر مختار کو جب کشمریوں نے فلم سکرین پر دیکھا تھا تو انہوں نے فورا عمر مختار کا مسولینی فوج کے سامنے سیسہ پلائی کی طرح ڈٹے رہنے کو کشمیر میں انیس سو اکتیس کی تحریک کے ان شہیدوں سے موازنہ کردیا تھا جس کی بنیاد پر مقبول ترین رہنما شیخ محمد عبداللہ نے ڈوگرہ مہاراجہ کے خلاف اپنی لمبی مہم کا آغاز کیا تھا اور بعض شواہدین کے مطابق ڈوگرہ فوج کی گولی سے ہلاک ہونے والے پہلے شہید عبدل قدیر نے مرتے وقت شیخ عبداللہ کے کان میں کہا تھا کہ "کشمیر تحریک کو آگے لے جانا اب آپ کی ذمہ داری ہے” لیکن انیس سو سنتالیس میں بر صغیر کے بٹوارے کے بعد عوام کی خواہشات کے برعکس شیخ عبداللہ کے ہندوستان کے ساتھ ناطہ جوڑنے کے فیصلے کے خلاف بیشتر کشمیری پھر اپنے ہاتھ ملتے رہے .

عمر مختار فلم دیکھ کر کشمیر میں یہ بحث بھی ہر گھر میں چھڑ گئی تھی کہ شیخ عبداللہ نے عمر مختار کی طرح موت کو ترجیح کیوں نہیں دی تاکہ کشمیری ان کے فیصلے کا عذاب صدیوں تک نہیں سہتے رہتے. اس فلم کے چند برس بعد ہی ریاست میں نوجوانوں نے مسلح تحریک شروع کردی تھی.

کشمیر کے ایک سنیر صحافی کہتے ہیں کہ "بھارتی حکومت کی ہندوتوا پالیسیوں کے ردعمل میں ہی عوام میں نہ صرف اسلامی تعلیمات کی جانب رحجان بڑھ گیا ہے بلکہ تحریک آزادی کو ترکی قبیلے کی لمبی جدوجہد سے جوڑ کر یہ عزم پختہ ہو تا جارہا ہے کہ وہ اپنے حقوق کی خاطر باطل کے سامنے صدیوں تک اپنی مہم جاری رکھیں گے. کئی اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں میں اسلام کی تعلیم، جدوجہد اور فتوحات کے بارے میں علم حاصل کرنے کی تڑپ پیدا ہوگئی ہے، پھر ارطغرل جیسے ڈراموں سے مسلمانوں بلخصوس کشمیریوں میں اُمید کی کرن نظر آرہی ہے کہ وہ متحد اور مظبوط ارادہ لے کر ایک دن اپنے حقوق حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہونگے۔

امر سنگھ کالج میں زیر تعلیم طالب شیخ اسلم کا خیال ہے کہ “کشمیری نوجوانوں کی بدلتی سوچ کے ان ہی خدشات کے پیش نظر شاید حکومت انٹرنیٹ کی سہولت کو جان بوجھ کر اکثر محدود کر تی آرہی ہے تاکہ وہ اس طرح کے پروگراموں سے متحرک نہ ہو سکیں حالانکہ چند برس قبل تک پاکستانی ڈراموں اور سٹار پلس کے سیریلز کی بڑی مقبولیت پائی جاتی تھی جس کو ترکی کی فلم انڈسٹری اور ڈراموں نے ختم کرکے چھوڑا ہے۔

Read Previous

پاکستان اور افغانستان کاسرحدی مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق

Read Next

پاکستان اور ایران نے لاکھوں افغان شہریوں کی میزبانی میں فراخ دلی کا مظاہرہ کیا ہے،جنرل سیکرٹری اقوام متحدہ

Leave a Reply