Turkiya-Logo-top

مون سون کی پیشگی تیاریاں: وزیراعظم کا موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کا حکم

اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت ملک بھر میں مون سون سیزن کی پیشگی تیاریوں اور موسمیاتی تغیرات کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اس اہم اجلاس میں متعلقہ وفاقی وزراء، قومی اداروں کے سربراہان اور تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز نے شرکت کی۔

وارننگ سسٹم کی بندش پر سخت برہمی اور انکوائری

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے غیر معمولی موسمیاتی تبدیلیوں، بالخصوص گلگت بلتستان میں گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) کے خطرات سے بچاؤ کے لیے نصب پیشگی وارننگ سسٹم کے فعال نہ ہونے کا سخت نوٹس لیا۔

  • سنگین غفلت: وزیراعظم نے واضح کیا کہ گزشتہ سال کی واضح ہدایات کے باوجود اس حساس سسٹم کو فعال نہ کرنا ایک انتہائی سنگین غفلت ہے۔
  • انکوائری کا حکم: انہوں نے اس غفلت کے ذمے داروں کے تعین کے لیے فوری اور جامع انکوائری کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں کا چیلنج اور ہنگامی اقدامات

شہباز شریف نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ پاکستان ان ممالک کی فہرست میں نمایاں ہے جو ان عالمی تغیرات کے شدید اثرات کا براہِ راست نشانہ بن رہے ہیں۔

  • انہوں نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کو ناگزیر قرار دیا۔
  • تمام متعلقہ وفاقی اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی پیدا کریں اور پالیسیوں کے نفاذ میں حائل سرخ فیتے اور رکاوٹوں کو فوری دور کریں۔

تجاوزات کا خاتمہ اور اداروں کو سخت ہدایات

مون سون کے دوران ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر وزیراعظم نے عوامی تحفظ کے لیے درج ذیل اہم ہدایات جاری کیں:

  • دریاؤں کے راستوں سے تجاوزات کا ہٹانا: گزشتہ سال دریاؤں کے راستوں اور سیلابی علاقوں میں غیر قانونی تجاوزات نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا تھا۔ اس سال اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے پیشگی اور مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے۔
  • استعدادِ کار میں اضافہ: تمام ادارے سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی استعدادِ کار (Capacity) کو بڑھائیں اور وسائل سے بڑھ کر عوامی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ عوامی تحفظ میں کسی بھی قسم کی غفلت ناقابلِ برداشت ہوگی۔
  • ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی فراہمی: پیشگی وارننگ سسٹم کی جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی جائے اور اس کے لیے درکار مکمل انفراسٹرکچر کی دستیابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

اداروں کی بریفنگ

اجلاس کے اختتام پر چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA)، چیئرمین واپڈا اور وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے وزیراعظم کو اب تک کیے گئے حفاظتی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ تمام ادارے ایک مربوط اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے بھرپور اور مؤثر اقدامات کریں گے۔

Read Previous

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے کینیڈین ہائی کمشنر کی ملاقات: دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق

Read Next

غزہ میں سلطان عبدالحمید ثانی کے پوتوں کی جانب سے "حمیدیہ اسکول” کا قیام؛ کلاس رومز میں صدر ایردوان کی تصاویر آویزاں

Leave a Reply