تناظر میں بین الاقوامی سطح پر ایک واضح اور اصولی مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کا دارومدار اب کابل کی سنجیدہ اور عملی اقدامات پر ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اہم سفارتی مذاکرات چین کے شہر ارومچی میں جاری ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان نہ صرف مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتا ہے بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے، تاہم افغانستان پر لازم ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے ٹھوس، قابلِ تصدیق اور فوری اقدامات کرے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کی، جہاں چین نے ایک بار پھر خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ سرحد پار دہشتگردی خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے اور اس کے تانے بانے افغان سرزمین سے جڑے ہوئے ہیں۔
