Turkiya-Logo-top

غزہ کے درد کو کیمرے میں قید کرنے والے فلسطینی فوٹوگرافر ساحر الغرہ کو صحافت کا سب سے بڑا اعزاز "Pulitzer Prize” مل گیا

استنبول: غزہ میں جاری جنگ، تباہی، بھوک اور انسانی المیے کی لرزہ خیز تصاویر دنیا تک پہنچانے والے فلسطینی فوٹوگرافر ساحر الغرہ کو صحافت کے سب سے بڑے اور باوقار عالمی اعزاز "پلٹزر پرائز” (Pulitzer Prize) سے نواز دیا گیا ہے۔

بریکنگ نیوز فوٹوگرافی میں شاندار کامیابی

امریکی جامعہ کولمبیا میں منعقدہ پروقار تقریب میں اس بات کا باقاعدہ اعلان کیا گیا کہ ساحر الغرہ کو “بریکنگ نیوز فوٹوگرافی” کے شعبے میں ان کی غیر معمولی تصویری سیریز پر اس اعلیٰ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ ان کی تصاویر نے غزہ کے عوام کی تکلیف، خوف، بھوک اور تباہی کو انتہائی مؤثر اور دلخراش انداز میں پوری دنیا کے سامنے رکھا۔

‘درد اور خاموش چیخوں کی عکاسی’: پلٹزر بورڈ کا خراجِ تحسین

پلٹزر بورڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ساحر الغرہ کی پیشہ ورانہ خدمات کو شاندار خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا:

"ساحر الغرہ کی تصاویر درد، خاموش چیخوں اور انسانی المیے کی ایک ایسی عکاسی ہیں جو دیکھنے والوں کو اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔”

ان تصاویر میں نمایاں کیے گئے اہم مناظر میں شامل ہیں:

  • بمباری سے تباہ ہونے والی عمارتیں اور بستیاں۔
  • ملبے تلے اپنے پیاروں کو تلاش کرتے بے بس خاندان۔
  • جنگ کے زخموں سے نڈھال بچے اور بھوک سے مرتے شہری۔
  • پناہ گزین کیمپوں کی بدترین اور المناک صورتحال۔

جان لیوا کوریج اور عالمی سطح پر پذیرائی

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق، ساحر الغرہ کئی ماہ تک غزہ کے انتہائی خطرناک علاقوں میں موجود رہے اور مسلسل بمباری کے سائے میں اپنے کیمرے کی آنکھ سے جنگ کی تلخ حقیقت دنیا تک پہنچاتے رہے۔ انہوں نے متعدد بار اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ایسے مناظر محفوظ کیے جو بعد ازاں عالمی میڈیا میں ‘غزہ جنگ کی علامت’ بن گئے۔

صحافتی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ ایوارڈ صرف ایک صحافتی کامیابی نہیں بلکہ غزہ کے مظلوم عوام کی آواز کو عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کا ثبوت ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے ان کی بہادری اور پیشہ ورانہ خدمات کو زبردست سراہا جا رہا ہے۔

پلٹزر پرائز 2026 کے دیگر اہم فاتحین

اس سال کے پلٹزر ایوارڈز میں دیگر نامور صحافیوں اور اداروں کو بھی ان کی شاندار کارکردگی پر ایوارڈز دیے گئے:

  • جولیا کے براؤن: امریکی صحافی کو جیفری ایپسٹین اسکینڈل اور انصاف کے نظام میں موجود خامیوں کو بے نقاب کرنے پر خصوصی اعزاز دیا گیا۔
  • ایسوسی ایٹڈ پریس (AP): عالمی نگرانی کے نظام سے متعلق بہترین تحقیقاتی رپورٹنگ پر انعام حاصل کیا۔
  • نیویارک ٹائمز (NYT): سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مالی مفادات اور خاندانی فائدوں سے متعلق جرات مندانہ رپورٹنگ پر ایوارڈ دیا گیا۔

پلٹزر پرائز کا تاریخی پس منظر: واضح رہے کہ پلٹزر پرائز 1917 میں قائم کیا گیا تھا اور اسے دنیا بھر میں صحافت، ادب اور عوامی خدمت کے شعبوں کا سب سے باوقار اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ ہر سال یہ ایوارڈ اُن صحافیوں اور اداروں کو دیا جاتا ہے جن کی رپورٹنگ معاشرے اور عالمی سطح پر نمایاں اور مثبت اثرات مرتب کرے

Read Previous

امریکہ کی جانب سے پاکستان منتقل کیے گئے ایرانی جہاز “توسکا” کے عملے کے 15 ارکان بالآخر وطن پہنچ گئے

Read Next

ترک ٹیکنالوجی کمپنی نے ایک لاکھ کامیکازی ڈرونز برآمد کرنے کا معاہدہ کر لیا

Leave a Reply