fbpx
ozIstanbul

پاکستانی گلو کارہ عروج آفتاب گریمی ایوارڈز کے لیے نامزد

موسیقی کے لیے دیے جانے والے دنیا کے اعلیٰ ترین ’گریمی ایوارڈز‘ کے لیے پہلی بار 36 سالہ پاکستانی گلوکارہ عروج آفتاب کو دو کیٹیگریز میں نامزد کردیا گیا۔

’گریمی ایوارڈز‘ میوزک کے لیے سب سے معتبر ایوارڈ کا درجہ رکھتا ہے، جس کی تقریب ہر سال کے آغاز میں ہوتی ہے۔

سال 2022 میں ’گریمی‘ کی 64 ویں سالانہ تقریب ہوگی، جس کے لیے نامزدگیوں کا اعلان 23 نومبر کو کیا گیا۔

رواں سال ایوارڈز کے لیے 86 کیٹیگریز میں نامزدگیوں کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں سے دو’بیسٹ گلوبل میوزک پرفارمنس‘ اور ’بیسٹ نیو آرٹسٹ‘ کی کیٹیگریز میں پاکستانی گلوکارہ کو نامزد کیا گیا ہے۔

پاکستانی گلوکارہ کو پہلی بار اعلیٰ ترین میوزک ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے اور ان کا مقابلہ عالمی سطح کے گلوکاروں سے ہوگا۔

’گریمی ایوارڈز‘ کے 64 ویں تقریب کے لیے اعلان کردہ نامزدگیوں میں سب سے زیادہ 11 نامزدگیاں امریکی ریپر، گلوکار 35 سالہ جان باٹسٹ کو ملی ہیں۔

جان باٹسٹ کو ’گریمی‘ کی تین بڑی کیٹگریز ’ریکارڈ آف دی ایئر، ایلبم آف دی ایئر اور سانگ آف دی ایئر‘ میں سے دو کیٹیگریز کی نامزدگیاں بھی ملیں۔

مجموعی طور پر جان باٹسٹ نے 11 نامزدگیاں حاصل کیں جب کہ دیگر اہم گلوکاروں نے بھی 8 اور 7 نامزدگیاں حاصل کی ہیں۔

ترتیب وار کینیڈین نژاد گلوکار جسٹن بیبر، گلوکارہ ڈوجا کیٹ اور گلوکارہ ’ہر‘ نے آٹھ آٹھ نامزدگیاں حاصل کیں۔

امریکی گلوکارہ بلی آئلش اور اولیویا رودریگو نے ترتیب وار سات سات نامزدگیاں حاصل کیں اور حیران کن طور پر جنوبی کورین بینڈ ’بی ٹی ایس‘ نے صرف ایک نامزدگی حاصل کی۔

امریکی ارب پتی گلوکار جے زی تین نامزدگیاں حاصل کرنے کے بعد اب تک ’گریمی‘ نامزدگیاں حاصل کرنے والے دنیا کے پہلے گلوکار، ریپر و موسیقار بھی بن گئے، ان کی نامزدگیوں کی تعداد 83 ہوچکی۔

حیران کن طور پر اس بار لیڈی گاگا اور ٹیلر سوئفٹ جیسی گلوکارائیں زیادہ نامزدگیاں حاصل کرنے میں ناکام رہیں، جس پر ان کے مداح مایوس بھی دکھائی دیے۔

علاوہ ازیں کارڈی بی، ڈیمی لواٹا، دعا لیپا اور آریانا گرانڈے‘ جیسی گلوکارائیں بھی زیادہ نامزدگیاں حاصل نہیں کر پائیں۔

’گریمی ایوارڈز‘ جیتنے والوں کو آئندہ برس جنوری کے آخر میں ایوارڈز دیے جائیں گے۔

پچھلا پڑھیں

فیس بک نے ایک بار پھر اپنی نیوز فیڈ میں تبدیلی کا فیصلہ کر لیا

اگلا پڑھیں

ٹرکش لیرا کی گرتی ہوئی قیمت صدر ایردوان کے لیے نئی پریشانی

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے