Turkiya-Logo-top

پاکستانی کوہ پیما سلمان عتیق ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے پاکستان کے 13ویں کوہ پیما بن گئے

اسلام آباد: پاکستانی کوہ پیما سلمان عتیق نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کامیابی کے ساتھ سر کر کے پہاڑی ہدف حاصل کرنے والے پاکستان کے 13ویں کوہ پیما بن گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق سلمان عتیق نے 8 ہزار 849 میٹر بلند چوٹی 21 مئی صبح 11 بج کر 39 منٹ پر سر کی، جب ہمالیہ کے علاقے میں مختصر وقت کے لیے موسم نسبتاً سازگار ہوا اور کوہ پیماؤں کو آخری مرحلے کی چڑھائی کا موقع ملا۔
اس سیزن میں دنیا بھر سے بڑی تعداد میں کوہ پیما ایورسٹ سر کرنے کے لیے موجود تھے۔ مختلف ممالک کے لیے سینکڑوں اجازت نامے جاری کیے گئے تھے، جس کی وجہ سے بیس کیمپ اور بالائی کیمپوں میں سخت رش اور چیلنجنگ حالات دیکھنے میں آئے۔

ذرائع کے مطابق سلمان عتیق نے اپنی سمٹ مہم کے دوران انتہائی مشکل اور خطرناک راستہ خومبو آئس فال عبور کیا، جو برفانی دراڑوں، گرتی ہوئی برف اور اچانک بدلتے موسم کی وجہ سے دنیا کے سب سے خطرناک حصوں میں شمار ہوتا ہے۔

ان کی مہم کئی دنوں پر محیط رہی، جس میں مختلف کیمپوں پر قیام، آکسیجن کی کمی کے مطابق جسم کو ڈھالنا اور شدید سردی میں مسلسل آگے بڑھنا شامل تھا۔ آخری مرحلے میں انہوں نے رات کے وقت سمٹ پش شروع کیا اور مسلسل جدوجہد کے بعد ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

سلمان عتیق اس سے قبل نیپال میں دنیا کی آٹھویں بلند ترین چوٹی ماناسلو بھی سر کر چکے ہیں، جس نے ان کے تجربے اور مہارت کو مزید مضبوط بنایا۔

الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق ان کی یہ کامیابی پاکستان کی کوہ پیمائی تاریخ میں ایک اہم اضافہ ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستانی کوہ پیما عالمی سطح کی سخت ترین مہمات میں بھی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

پاکستانی کوہ پیمائی تاریخ میں نذیر صابر نے 2000 میں پہلی بار ماؤنٹ ایورسٹ سر کیا، جبکہ سمینہ بیگ پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما بنیں جنہوں نے 2013 میں یہ کارنامہ انجام دیا۔ بعد ازاں کئی پاکستانی کوہ پیماؤں نے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

کوہ پیمائی ماہرین کے مطابق ایورسٹ سر کرنا صرف جسمانی طاقت نہیں بلکہ صبر، ذہنی مضبوطی، درست فیصلوں اور خطرناک حالات میں مسلسل جدوجہد کا امتحان ہوتا ہے، اور سلمان عتیق کی یہ کامیابی انہی تمام خصوصیات کی عکاسی کرتی ہے۔

ان کی کامیابی کے بعد پاکستان میں کوہ پیمائی کے حلقوں میں خوشی کی لہر ہے اور ان کی محفوظ واپسی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

Read Previous

ترک سفارتخانے میں “دی ہیریٹیج ٹیبل” کے عنوان سے ترکش کیوزین ویک 2026 کی پروقار تقریب

Read Next

ترکیہ کا بڑا ریسکیو آپریشن کامیاب — “عالمی صمود فلوٹیلا” کے 422 رضاکار بحفاظت استنبول پہنچ گئے

Leave a Reply