ترک زلزلہ متاثرین کے لیے پاکستان سے امداد لے کر جاتے ہوئے، حادثے کا شکار ہونے والے ڈرائیور محمد مشان نے تین ماہ کوما میں رہنے کے بعد آنکھیں کھول دیں۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والے 2 بچوں کے والد 58 سالہ مشان نے 6 فروری کو قہرمانماراش میں آنے والے زلزلے کے بعد رضاکارانہ طور پر خوراک اور انسانی امداد کو ٹرک کے ذریعے ترکیہ پہنچایا۔
مشان، جو 3 ماہ قبل ساتھی ڈرائیور کے ساتھ زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے روانہ ہوئے تھے، کئی دنوں تک سڑک پر سفر کرتے ہوئے نیند سے محروم ریے اور جسکے باعث بنگول کے پاس ٹرک الٹنے کے نتیجے میں شدید زخمی ہو گئے۔
مشان ایرزوروم اتاترک یونیورسٹی ریسرچ ہسپتال میں زیر علاج تھے اور ڈاکٹرز کیی 3 مہینوں کی لگاتار کوشش کی بعد انہوں نے اپنی آنکھیں کھولی۔

پاکستانی ڈرائیور کی صحت یابی کے لیے ڈاکڑز کی جدو جہد
مشان کو ڈاکٹرز کی ٹیم نے دن رات اپنی محنت سے ایک بار پھر اس دنیا کے رنگ دیکھنے کے قابل بنا دیا۔ڈاکٹروں اور صحت کے پیشہ ور افراد کی کوششوں سے انتہائی نگہداشت حالت میں 3 ماہ سے زیادہ کے علاج کے بعد مشان صحت یاب و گئے۔ مشان نے پچھلے 3 ماہ میں کئی سرجریز کروائی ہیں۔
ڈرائیور مشان نے ترکیہ میں زلزلے سے ہونے والی تباہی پر دکھ کا اظہار کیا۔
یہ بتاتے ہوئے کہ وہ ٹرکوں کے ذریعے ترکیہ کو امداد پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے مشان کا کہنا تھا کہ 6 فروری کو جیسا میرے ترک بھائیوں نے درد محسوس کیا بکل ویسا ہی میں نے بھی محسوس کیا۔
انکا کہنا تھا کہ ہم اپنے دوستوں کے ساتھ 21 ٹرکوں میں سامان لے کر ترکیہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مجھے رات کو گاڑی چلانے کے دوران نیند آگئی اور میں سو گیا اور اسی وقت ہمارا حادثہ ہو گیا۔
پھر میں نے خود کو ہسپتال میں پایا۔ زبان کے بارے میں اختلاف کے باوجود، پیرامیڈیکس نے میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا۔ میں اپنی مرضی سے اپنے ملک واپس جا رہا ہوں۔ جب ہمارے ادارے کی طرف سے اس طرح کی مدد کا منصوبہ بنایا گیا تو میں رضاکارانہ طور پر کام کرنا چاہتا تھا۔
پاکستان اور ترکیہ کا بھائی چارہ زندہ باد، دونوں ممالک کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ ہسپتال میں مشان سے ملاقات کرتے ہوئے، صوبائی امیگریشن ایڈمنسٹریشن کے ڈائریکٹر ہاسم اوزکان نے بتایا کہ زلزلے کے پہلے دنوں میں ترکیہ کی مدد کے لیے پہنچنے والے پہلے ممالک میں سے ایک دوست اور بھائی ملک پاکستان تھا۔
