ozIstanbul

پاکستان بمقابلہ بھارت بحوالہ شدت پسندی

تحریر:عاطف خالد بٹ

پاکستان اور بھارت کے مابین سماجی اور قانونی حوالے سے تقابل بنتا تو نہیں ہے کیونکہ دونوں ممالک سرکاری طور پر دو مختلف طرح کی شناختوں کے حامل ہیں لیکن تقابل کیا اس لیے جاتا ہے کہ ہر دو ممالک میں ایسی مذہبی وابستگیاں رکھنے والے افراد موجود ہیں جو ایک جگہ اقلیت کے طور پر پائے ہیں تو دوسرے ملک میں وہ اکثریت ہیں۔ پاکستان سرکاری طور پر مذہبی شناخت کا حامل ہے اور بھارت کا آئین اسے ایک سیکولر ملک قرار دیتا ہے لیکن اس کے باوجود 2014ء میں نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد سے بھارت میں ہندو انتہا پسندی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اب سیکولر ریاست والی بات صرف آئین کے صفحات میں لکھی ہوئی ہی ملتی ہے، عملی طور پر ریاست کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ اس صورتحال نے معاشرے میں بسنے والے عام افراد ہی کو نہیں بلکہ ریاست کے اداروں کے کام کرنے کے طریقوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے جس کی ایک واضح مثال کرناٹک ہائی کورٹ کا وہ فیصلہ ہے جس کے تحت ریاستی حکومت کے مسلمان لڑکیوں کے حجاب اوڑھنے پر پابندی کے فیصلے کو درست قرار دیا گیا ہے۔

بھارت میں کسی عدالت کی طرف سے دیا جانے والا یہ اس نوعیت کا پہلا فیصلہ نہیں ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے بھارتی عدالتوں کی طرف سے ایسے فیصلے اور اقدامات ایک تواتر سے سامنے آرہے ہیں جو واضح طور پر جانبداری کے عکاس ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ دکھائی دیتی ہے کہ مودی سرکار پوری طرح سے ہندو انتہا پسندی اور اقلیتوں کے خلاف ہونے والی شدت پسندی کی حمایت کررہی ہے۔ ریاستی ادارے بھی اس حوالے سے حکومت کے حامی دکھائی دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایک ایسی حکومت سے بیر مول نہیں لیا جاسکتا جس نے مذہبی شدت پسندی کو ہوا دیتے ہوئے عوام کی بھاری اکثریت کو کیل کانٹے سے لیس کر کے ہر اس فرد، گروہ اور ادارے کے خلاف کھلی چھوٹ دیدی ہو جو ان کے مذموم عزائم کے راستے میں روڑے اٹکانے کی کوشش کرسکتا ہے۔ ایسی صورت میں کسی بھی ملک میں جو بدترین صورتحال پیدا ہوسکتی ہے وہ اس وقت بھارت میں دکھائی دے رہی ہے اور ایسے افراد اور گروہ بہت ہی کم ہیں جو اس سب کے خلاف آواز بلند کر کے نہ صرف اقلیتوں کے حقوق اور جان و مال کے تحفظ کی بات کریں بلکہ اس بات پر بھی زور دیں کہ ایسے تمام اقدامات، سرگرمیاں اور کارروائیاں آئین کی اس شق کے منافی ہیں جو بھارت کو ایک سیکولر ریاست قرار دیتی ہے۔

ہندو انتہا پسندی کے جو مختلف النوع مظاہر 2014ء کے بعد سے اب تک دیکھنے کو مل رہے ہیں ان سے واضح طور پر یہ پتا چلتا ہے کہ مودی سرکار کی پشت پناہی نے معاملات کو بگاڑنے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ مہذب دنیا کہلانے والے وہ ترقی یافتہ ممالک جو بات بات پر انسانی حقوق کی دُہائیاں دیتے ہیں اور پاکستان سمیت بہت سے ممالک کو کبھی دھمکیوں اور کبھی ترغیبات کے ذریعے اپنی مرضی کے مطابق چلانے کے لیے مختلف حربے آزماتے رہتے ہیں، وہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والے مظالم سے بھی واقف ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ بھارتی حکومت کی طرف سے شدت پسندی کو کس طرح بڑھاوا دیا جارہا ہے لیکن اس کے باوجود کوئی ایسی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی جس سے پتا چلے کہ یہ ممالک واقعی انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق سنجیدہ ہیں۔ اس سب کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت سرمایہ داریت کی نظر میں ایک بڑی منڈی کی حیثیت رکھتا ہے جس کی ناراضگی مول لے کر کاروباری مفادات کے راستے میں رکاوٹ کھڑی نہیں کی جاسکتی۔

آئینی طور پر ایک مذہبی شناخت رکھنے کے باوجود پاکستان میں مسلمان اکثریت کو ریاست کی طرف سے ایسی کوئی ضمانت یا حمایت حاصل نہیں کہ اگر وہ کسی اقلیتی فرد یا گروہ کے خلاف کوئی کارروائی کرے تو اس کے جواب میں اس کا محاسبہ نہیں کیا جائے گا۔ غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے اس بارے میں شور تو بہت مچایا جاتا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت کے برعکس پاکستان میں ایسے واقعات میں ملوث افراد اور گروہوں کے خلاف کارروائی بھی ہوتی ہے اور عوامی سطح پر مذمت کی شکل میں ایسا ردعمل بھی سامنے آتا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ عوام کی غالب اکثریت ایسے کسی بھی عمل کی حمایت نہیں کرتی ہے۔ ماضی قریب میں پاکستان میں اس نوعیت کے واقعات بھی پیش آچکے ہیں کہ کسی غیر سرکاری تنظیم یا مخصوص نظریاتی شناخت کے حامل کسی شخص یا گروہ نے کوئی جھوٹی خبر بنا کر سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلا دی اور ملک بھر سے لوگوں نے اس کی مذمت کی، ریاستی ادارے حرکت میں آگئے اور بعد میں پتا چلا کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں۔

اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان میں ماضی کے مقابلے میں شدت پسندی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس پر قابو پانا بہت ضروری ہے، اور اس سلسلے میں حکومت کو معاشرے کے تمام اہم طبقات کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے جن میں علماء اور اساتذہ سرِفہرست ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس حقیقت سے بھی انحراف ممکن نہیں کہ پاکستان میں گروہی بنیادوں پر ہونے والی منافرت کے خلاف اٹھنے والی آوازوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ اس اضافے میں ایک بڑا حصہ ان لوگوں کا ہے جو مذہب سے وابستہ اور عصری تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہیں۔ اس سلسلے کو یہاں رکنا نہیں چاہیے بلکہ چراغ سے چراغ جلنے کے عمل کو مزید آگے بڑھنا چاہیے تاکہ پاکستان کو رنگ و نسل و مذہب کی تمیز کے بغیر ہر شہری کے لیے ایسا بنایا جاسکے کہ وہ یہاں ہر حوالے سے خود کو محفوظ و مامون سمجھتے ہوئے زندگی کی دوڑ میں شریک ہو۔

پچھلا پڑھیں

سعودی عرب: رمضان المبارک کیلیے مسجد الحرام میں تیاریاں

اگلا پڑھیں

سعودی عرب: کورونا پابندیوں میں نرمی، آن آرائیول ویزا سہولت بحال

تبصرہ شامل کریں