Turkiya-Logo-top

COP31 سے قبل پاکستان اور ترکیہ کا بڑا ماحولیاتی اتحاد، سیلاب و آبی تحفظ پر مشترکہ حکمتِ عملی تیار

اسلام آباد: پاکستان اور ترکیہ نے موسمیاتی تبدیلی، سیلابی خطرات، آبی تحفظ اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنے دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے پر باضابطہ اتفاق کر لیا ہے۔ دونوں برادر ممالک کے درمیان یہ اہم پیش رفت اقوامِ متحدہ کی 31ویں موسمیاتی کانفرنس (COP31) سے قبل سامنے آئی ہے، جو رواں سال نومبر 2026 میں ترکیہ کے شہر انطالیہ میں منعقد ہونے جا رہی ہے۔

اعلیٰ سطحی مذاکرات اور تکنیکی معاونت

وفاقی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ترکیہ کے خصوصی وفد اور پاکستانی حکام نے مختلف شعبوں میں مشترکہ حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

  • وفود کی قیادت: ترک وفد کی قیادت معروف اراس نے کی، جبکہ پاکستانی وفد کی سربراہی وفاقی سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی عائشہ حمیرا موریانی نے کی۔
  • ماہرین کی شرکت: اس اہم اجلاس میں ترکیہ کے ‘اسٹیٹ ہائیڈرولک ورکس’ اور ‘جنرل ڈائریکوریٹ فار واٹر مینجمنٹ’ کے ماہرین بھی شریک ہوئے۔

مذاکرات کے کلیدی نکات

دورانِ اجلاس دونوں ممالک کے ماہرین نے درج ذیل اہم ماحولیاتی معاملات پر مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے پر اتفاق کیا:

  • سیلاب اور دریائی بیسن (River Basin) مینجمنٹ
  • گلیشیئرز پگھلنے اور برفانی تودوں کے خطرات میں کمی
  • ملٹی ہیزرڈ ارلی وارننگ سسٹمز (Early Warning Systems) کی تنصیب
  • صحرائی پھیلاؤ (Desertification) کی روک تھام
  • موسمیاتی اثرات سے محفوظ اور پائیدار انفراسٹرکچر کی تعمیر

"موسمیاتی تبدیلی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے”

وفاقی سیکریٹری عائشہ حمیرا موریانی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ موسمیاتی تبدیلی اب محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی، بلکہ یہ عالمی معیشت، انسانی زندگی، خوراک، پانی اور قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جو کلائمیٹ چینج کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، اس لیے بین الاقوامی اور علاقائی تعاون اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے آفات سے نمٹنے اور قدرتی ماحولیاتی نظام کو محفوظ بنانے کے لیے ترکیہ کی تکنیکی مہارت کو شاندار الفاظ میں سراہا۔

ترکیہ کا عزم اور مشترکہ تحقیقی پروگرام

ترک وفد کے سربراہ معروف اراس نے پاکستان کو خطے میں موسمیاتی اقدامات کے لیے ایک ‘قابلِ اعتماد شراکت دار’ قرار دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک مشترکہ تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے سیلاب، خشک سالی اور دیگر موسمیاتی خطرات کے خلاف مؤثر ترین حکمتِ عملی تشکیل دے سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ اجلاس میں واٹر شیڈ مینجمنٹ، سرکلر اکانومی (Circular Economy)، زیرو ویسٹ ماڈلز اور تکنیکی استعدادِ کار بڑھانے کے امکانات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

COP31 اور مستقبل کا لائحہ عمل

وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے ترجمان محمد سلیم شیخ کے مطابق، دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا ہے کہ موسمیاتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

پاکستان اور ترکیہ نے ‘COP31’ سے قبل موسمیاتی موافقت (Climate Adaptation) کے لیے مالی معاونت، ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اور پائیدار موسمیاتی ترقی کے شعبوں میں رابطے مزید تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جسے ماحولیاتی سفارت کاری کے حوالے سے ایک انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

Read Previous

نیویارک میں 43ویں ترک ڈے پریڈ اور فیسٹیول کا شاندار انعقاد ، مین ہیٹن ترک پرچموں سے سج گیا

Leave a Reply