Turkiya-Logo-top

یوریشیا ہائر ایجوکیشن سمٹ 2026 میں پاکستان کی تعلیمی سفارتکاری کا شاندار مظاہرہ، پاکستانی نظامِ تعلیم عالمی سطح پر نمایاں

استنبول میں منعقد ہونے والے یوریشیا ہائر ایجوکیشن سمٹ 2026 میں پاکستان نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں اپنی موجودگی کو مؤثر انداز میں پیش کرتے ہوئے مضبوط تعلیمی سفارتی پہچان بنا لی۔ عالمی سطح کے اس اجلاس میں پاکستان کی شرکت کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو ملک کے تعلیمی نظام کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور عالمی روابط کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ بین الاقوامی سمٹ دنیا کے اہم ترین تعلیمی فورمز میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں 60 سے زائد ممالک کے نمائندگان، سینکڑوں جامعات کے وائس چانسلرز، پالیسی ساز اداروں کے رہنما اور عالمی تعلیمی ماہرین شریک ہوئے۔ اس بڑے پلیٹ فارم پر پاکستان کی موجودگی ایک منظم، مربوط اور حکمتِ عملی پر مبنی نمائندگی کے طور پر سامنے آئی، جس نے عالمی تعلیمی حلقوں کی توجہ حاصل کی۔

پاکستانی وفد کی قیادت ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان نے کی، جس میں ملک کی 17 سے زائد نمایاں جامعات کے 40 سے زائد نمائندگان شامل تھے۔ اس وفد میں او آئی سی کامسٹیک سے وابستہ تعلیمی ماہرین بھی شریک تھے، جنہوں نے پاکستان کے سائنسی و تحقیقی وژن کو مزید اجاگر کیا۔ وفد نے مختلف سیشنز، ملاقاتوں اور نیٹ ورکنگ ایونٹس میں فعال شرکت کرتے ہوئے پاکستان کے تعلیمی شعبے کی ترقی، معیار اور عالمی انضمام کو نمایاں انداز میں پیش کیا۔

اجلاس کا یادگار لمحہ وہ تھا جب ڈاکٹر سمیرا رحمٰن نے کلیدی خطاب کیا۔ وہ افتتاحی سیشن میں واحد خاتون مرکزی مقرر تھیں، جہاں انہوں نے پاکستان کے تعلیمی نظام، نوجوانوں کی صلاحیتوں اور مستقبل کی قیادت کے وژن پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدید تعلیم صرف تکنیکی مہارتوں کی فراہمی نہیں بلکہ اخلاقی اقدار، کردار سازی اور ذمہ دار قیادت کی تیاری کا بھی نام ہے۔

ان کے خطاب کو بین الاقوامی شرکاء نے بھرپور پذیرائی دی اور اسے ایک فکری اور متاثر کن پیغام قرار دیا گیا۔ متعدد غیر ملکی تعلیمی رہنماؤں نے پاکستان کے تعلیمی ماڈل میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جامعات اب عالمی تعلیمی مباحث میں ایک فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔

سمٹ کے دوران پاکستانی وفد اور ترک کونسل برائے اعلیٰ تعلیم کے صدر کے درمیان ایک اہم اعلیٰ سطحی ملاقات بھی ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات میں تحقیق، جدت، ٹیکنالوجی ٹرانسفر، اور طلبہ و اساتذہ کے تبادلوں جیسے اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔

ترک فریق کی جانب سے پاکستانی جامعات کو مشترکہ تحقیقی منصوبوں میں شرکت کی دعوت دی گئی، جن میں سینکڑوں ریسرچ پروجیکٹس شامل ہیں۔ اس پیش رفت کو تعلیمی تعاون کے نئے دور کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی وفد نے بھی ترکیہ کی جامعات کے ساتھ طویل المدتی تعلیمی شراکت داری بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

سمٹ میں پاکستان پویلین نے بھی غیر معمولی توجہ حاصل کی، جہاں مختلف خطوں بشمول یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے تعلیمی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس پلیٹ فارم پر ابتدائی مفاہمتی یادداشتوں پر بات چیت ہوئی اور مشترکہ تعلیمی و تحقیقی منصوبوں کے لیے بنیاد رکھی گئی۔

پاکستانی پویلین کو ایک ایسے مرکز کے طور پر دیکھا گیا جہاں تعلیمی مکالمہ، نیٹ ورکنگ اور تعاون کے عملی امکانات سامنے آئے۔ مختلف جامعات نے پاکستان کے ساتھ مستقبل میں مشترکہ پروگرامز شروع کرنے میں دلچسپی ظاہر کی، جو ملک کے تعلیمی شعبے کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔

مجموعی طور پر استنبول میں ہونے والے اس عالمی تعلیمی اجلاس نے یہ واضح کیا کہ پاکستان نہ صرف علاقائی سطح پر بلکہ عالمی اعلیٰ تعلیم کے میدان میں بھی ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ تعلیمی سفارتکاری کو پاکستان کی خارجہ اور ترقیاتی حکمتِ عملی میں ایک اہم ستون کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو مستقبل میں مزید مضبوط ہونے کے امکانات رکھتا ہے۔

Read Previous

دادی بننے کے بعد یونیورسٹی کا سفر،58 سالہ خاتون نے ثابت کیا تعلیم کے لیے عمر کوئی رکاوٹ نہیں

Read Next

ترکیہ میں منشیات اور غیر قانونی جوئےکے خلاف بڑا کریک ڈاؤن،جرائم کے خاتمے کے لیے ریاستی ادارے متحرک

Leave a Reply